کیا ہے بائیڈن کے بیان کا مطلب؟

0

امریکہ جانتا ہے کہ سوویت یونین بکھر گیا مگر روس ایک کمزور ملک نہیں ہے۔ وہ جب تک طاقتور رہے گا، اس کے تعلقات چین سے رہیں گے، وہ چین کے خلاف کھل کر کارروائی نہیں کر پائے گا۔ ایسی صورت میں یہ بات ناقابل فہم نہیںہے کہ یوکرین جنگ سے امریکہ کی اتنی دلچسپی کیوں ہے مگر اس جنگ پر امریکی صدر جو بائیڈن نے جو حالیہ بیان دیا ہے، اس سے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی پوزیشن کمزور ہی ہوگی۔ اس بیان پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ بات نظرانداز نہیں کی جانی چاہیے کہ امریکہ اور بیشتر یوروپی ممالک پہلے اس پر زور صرف کر رہے تھے کہ روس کا یوکرین پر حملہ جارحیت ہے، گزرتے دنوں کے ساتھ روس کی شکست کی پیش گوئی بھی اسی لیے کی جانے لگی تھی، روس پر پابندیوں سے اس خوش فہمی میں کچھ ممالک مبتلا ہو گئے تھے کہ وہ تباہ ہو جائے گا، روسی سربراہ ولادیمیر پوتن اپنے فوجیوں کو پیچھے ہٹا لیں گے مگر یہ ساری باتیں پوری طرح سچ ثابت نہیں ہوئیں اور اب ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یوروپی ممالک یوکرین جنگ کی حقیقت سمجھنے لگے ہیں۔ غالباً اسی لیے امریکہ کے صدر بائیڈن نے یہ بیان دیا ہے کہ ’امریکی انٹلی جنس نے یوکرین کو بارہا خبردار کیا تھا کہ روس حملہ کرنے والا ہے مگر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی یہ بات سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔‘بائیڈن نے یہ نہیں بتایا ہے کہ زیلنسکی اگر سننے کے لیے تیار ہو جاتے اور یہ تیاری اگر امریکہ کے مطابق ہوتی تو کیا اس حد تک ہوتی کہ یوکرین، روس کو حملہ کرنے سے روک دیتا یا حملے کی صورت میں روس کو شکست سے دو چار کر دیتا، البتہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ زیلنسکی نے ایک حد سے زیادہ امریکہ اور یوروپی ممالک پر اعتماد کیا، وہ یہ سمجھ ہی نہیں سکے کہ روس ایک طاقتور ملک ہے، یوکرین کی حمایت میں اس کے خلاف جانے کی کوئی ملک حماقت نہیں کرے گا، امریکہ بھی یوکرین کی حفاظت کے لیے روس سے براہ راست جنگ نہیں کرے گا۔
بہت کم ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی کم طاقتور ملک کے لیے کوئی طاقتور کسی حد تک اپنے ہی جیسے طاقتور ملک سے ٹکرایا ہو۔ سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور سوویت یونین براہ راست ایک دوسرے سے نہیں ٹکرائے تھے، وہ علامتی جنگ لڑتے رہے جیسے دیوار برلن قائم کرکے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ جرمنی ہی دو حصوں میں بٹا ہوا نہیں ہے، یہ دنیا بھی امریکہ اور سوویت یونین کے دو گروپوں میں بٹی ہوئی ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ ناوابستہ تحریک میں شامل ممالک بھی اپنا وجود رکھتے تھے اور اسی لیے یہ بات حقیقت کے زیادہ قریب ہے کہ سرد جنگ کے دور میں دنیا دو نہیں، تین حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اس وقت ایک موقع کیوبن میزائل کرائسس کا ہی ایسا آیا تھا جب امریکہ اور سوویت یونین کے مابین ایٹمی جنگ چھڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ یہ جنگ اگر چھڑتی تو پہلے کیوبا، ترکی اور اٹلی ہی تباہ ہوتے، کیونکہ سوویت یونین نے کیوبا میں ایٹمی میزائلیں نصب کر دی تھیں اور اس کے جواب میں امریکہ نے ترکی اور اٹلی میں ایٹمی میزائلیں نصب کر دی تھیں۔ امریکی صدر کنیڈی کی دانشمندی اور امن پسندی کی وجہ سے یہ جنگ نہیں ہوئی مگر کیوبن میزائل کرائسس نے یہ مثال دے دی کہ طاقتور ملک کی دوستی کا مطلب کیا ہوتا ہے مگر یوکرین یہ نہیں سمجھ سکا۔ اس کے صدر زیلنسکی یہ سمجھ ہی نہیں سکے کہ کریمیا کو روس نے الگ کیا تھا تو امریکہ اور یوروپی ممالک کچھ کر نہیں پائے تھے، کیونکہ افغان جنگ میں الجھے رہنے کی وجہ سے امریکہ مجبور تھا اور یوروپی ممالک کو چپ رکھنے کے لیے یہ بات ہی کافی تھی کہ روس انہیں گیس کی سپلائی کرتا ہے، اگر وہ گیس کی سپلائی نہیں کرے گا تو جاڑے کی راتیںکاٹنا ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ اس سے قبل جارجیا میں روسی فوج داخل ہوئی تھی تو اس کی حفاظت کے لیے بھی براہ راست کوئی یوروپی ملک یا امریکہ سامنے نہیں آیا تھا۔ شام تباہ ہو گیا مگر امریکہ ، روس اور علاقائی طاقتور ممالک وہاں اپنیمفاد کے تحفظ میں ہی مصروف رہے، کیونکہ کسی ملک کی دیگر ملکوں سے دلچسپی اور اس کے تعلقات کا انحصار مفاد پر ہی ہوتا ہے، باقی باتیں کہنے کے لیے ہوتی ہیں، ان کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی۔ یوکرینی حکام کی یہ تشویش غیر فطری نہیں ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا تو یوروپی اتحادیوں کی دلچسپی جنگ سے کم ہوتی جائے گی، اس سے یوکرین کی مشکلات میں اور اضافہ ہو جائے گا۔ یوروپی ممالک کس حد تک یوکرین کے ساتھ اور روس کے خلاف ہیں، اس کا اندازہ یوروپ میںموسم سرما کے شروع ہونے کے بعد کرنا آسان ہو جائے گا اور پوتن اس وقت تک ضرور جنگ کرنا چاہیں گے، اس لیے آنے والے وقت میں امریکی حکومت کی طرف سے کچھ اور بیان آئے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
[email protected]