بچوں کی تعلیم پر توجہ کی ضرورت

0

حمنہ کبیر ( وارانسی)
کورونا کے دوران جہاں سب کچھ بند تھا, وہیں اسکول کالج بھی عرصے تک بن رہے تھے۔ ہندوستان نے دنیا بھر میں دوسرا سب سے بڑا اسکول لاک ڈاؤن دیکھا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران چل رہی آن لائن کلاسیس نے بچوں کی صلاحیت اور ذہن کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ ظاہر ہے جب بھی کوئی بچہ موبائل اٹھائے گا اس کے ذہن میں وڈیو ,کارٹون، گیمس ہی ہوں گے۔ پڑھائی کے بارے میں دور دور تک سوچ نہیں آئے گی۔ آن لائن کلاس کے دوران بچے بظاہر تو موبائل کی اسکرین پر آنکھیں گاڑے پڑھ رہے تھے لیکن ان کا ذہن موبائل میں ہونے والی دیگر تفریحات میں الجھا ہوا تھا۔ اس طرح آن لائن کلاس میں دھیان خاک لگے گا؟ بلکہ جو پڑھا لکھا تھا وہ بھی تقریباً بھول ہی بیٹھے ہیں۔
اسکول لاک ڈاؤن سے ایک دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ایسی فیملی جو موبائل یا لیپ ٹاپ جیسی سہولت سے ابھی بھی محروم ہے، اس کے بچے آن لائن تعلیم حاصل نا کرنے کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران تعلیم سے پوری طرح دور رہے تھے۔ دوسرا مسئلہ یہ بھی تھا کہ ایک ہی فیملی میں کئی بچوں کی آن لائن تعلیم ساتھ ہی چل رہی تھی اور گھر میں ایک ہی موبائل ہونے کی وجہ سے ہر بچے کو الگ الگ آن لائن کلاس کروانا ناممکن تھا۔
اسکول لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کی تعلیم کس قدر متاثر ہوئی ہے اس کا اندازہ دوبارہ اسکول کھلنے پر لگ ہی چکا ہے۔ تعلیمی نقصان ہونے کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں لمبے عرصے تک قید رہنے کی وجہ سے بچوں کا اعتماد بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اکثر بچے اب اسکول جانا ہی نہیں چاہتے۔ انہیں جھجھک محسوس ہورہی ہے، تنہا پڑھتے رہنے کی وجہ سے دیگر بچوں کے ساتھ پڑھنے میں انہیں الجھن ہورہی ہے۔ ساتھ ہی بچوں کی تعلیمی صلاحیت اپنی کلاس سے ایک ، دو درجہ پیچھے چلی گئی ہے۔ اسکول کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد جب اسکول کھلنے کے بعد بچوں نے اسکول آنا شروع کیا ہے تو وہ بنیادی تعلیم تقریباً بھول بیٹھے ہیں۔ سارے ہی سبجیکٹ میں بچوں کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ خاص طور پر جن مضامین میں ذہنی ورزش کی ضرورت پڑتی ہے اس میں بچوں کو زیادہ مشکلات درپیش ہیں۔ گرمی کی چھٹیوں کے چلتے ابھی اکثر اسکول بند ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ گھر پر بچوں کو الگ سے وقت دیں۔ انہیں ڈانٹنے اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آنے کے بجائے ان کی غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کریں۔ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ پڑھتے وقت بچہ کس مضمون اور موضوع سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے، ان پر زیادہ دھیان دیں۔موبائل انٹرنیٹ سے بچوں کو کچھ دور رکھیں۔انہیں کھیل کھیل میں سکھائیں تاکہ تعلیم بچوں کو بوجھ نا لگنے لگے۔ بچے مستقبل کی امید ہیں۔ انہیں نظر انداز کرکے آگے بڑھنا ممکن ہی نہیں۔ جیسے جیسے بنیادی تعلیم ان کے ذہن میں واضح ہوتی جائے گی ویسے ہی ان کا اعتماد بھی بحال ہوگا ، ساتھ ہی مزید پڑھنے اور اچھے نمبروں سے پاس ہونے کی خواہش بھی بڑھے گی۔ ابھی اسکول کھلنے میں کچھ دن باقی ہیں۔ آپ بچوں کے لئے الگ سے وقت نکال کر انہیں وہ سب پڑھا اور سکھا سکتے ہیں جو وہ بھول بیٹھے ہیں تاکہ جب وہ دوبارہ کلاس کرنے جائیں تو پورے اعتماد کے ساتھ جائیں اور اساتذہ کے ذریعہ پڑھائے جانے والے موضوعات بھی ان کی سمجھ میں آئیں۔q