مغربی بنگال حکومت کا اردو کیلئے تباہ کن فیصلہ

0

محمد فاروق اعظمی

مرکز میں مطلق اکثریت نے جس طرح بھارتیہ جنتاپارٹی کو مطلق العنان بنادیا ہے ٹھیک وہی صورتحال مغربی بنگال میں حکمراں ترنمول کانگریس اور اس کی سپریمو ممتابنرجی کی ہے۔ 2021 کے اسمبلی انتخاب میں ریاست کی215سیٹیں حاصل کرنے کے بعد یہ پارٹی اوراس کی قیادت یہ بھول ہی گئی ہے کہ اس کے اس اعزازبلند کی بنیادکن ستونوں پر کھڑی ہے۔کبر و نخوت، انانیت، بدعنوانی اور اقرباپروری کے الزامات توجگ ظاہر اورکولکاتا سے دہلی تک کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں لیکن یہ حکومت انتہائی خاموشی سے کچھ ایسے کام بھی کررہی ہے جن کے اثرات سے اردو آبادی کا بھاری لسانی اور معاشرتی نقصان ہی نہیں ہوگا بلکہ ریاست مغربی بنگال سے اردو ختم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
ہرچند کہ اردو ریاست مغربی بنگال کے چند ایک اضلاع میں دوسری سرکاری زبان ہے لیکن اب اسے پبلک سروس کمیشن کے امتحان سے نکال باہر کیاگیا ہے۔ ممتا بنرجی کی ’ مسلم اور اردو نواز‘ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مغربی بنگال پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے سول سروسزکے امتحانات میں اردو کا لازمی پرچہ ہٹادیاجائے اور اگر کسی امیدوار کو ریاست کی بیوروکریسی میں آنا ہے تو اسے اب اردو کے بجائے بنگلہ کی لگام تھام کرآنا ہوگا۔ گزشتہ دنوں جاری ہونے والے کولکاتاگزٹ کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ریاستی حکومت نے ویسٹ بنگال سول سروس(ایگزیکٹیو)ریکروٹمنٹ رولز1978میں بھاری تبدیلی کرتے ہوئے امتحانات کے نصاب اور طریقہ کار کو ایسا بنا دیا ہے کہ اب اردو پڑھنے والے امیدوار ریاستی حکومت کی افسرشاہی میں کسی طرح شامل ہی نہیں ہوسکتے ہیں۔ نئی تبدیلی کے مطابق ویسٹ بنگال سول سروس(ایگزیکٹیو)یعنی گروپ اے کے امتحان 300نمبر کے لازمی اردو پرچہ کو ختم کرکے اس کی جگہ 300نمبر کے بنگلہ یا نیپالی کے پرچہ میں پاس ہونالازمی ٹھہرایا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی 300 نمبرکے انگریزی کے پرچہ میں بھی پاس ہوناضروری ہے۔ان دونوں پرچوں میں کامیاب ہوئے بغیر کوئی بھی امیدوار ویسٹ بنگال سول سروس امتحان میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا ہے۔حکومت کے اس فیصلہ کا اطلاق فوری اثر سے ہوگیا ہے یعنی اب جو بھی امیدوار بنگال کی سول سروس میں آنا چاہتا ہے، اسے اردو کے بجائے بنگلہ پڑھنا ہوگا۔
اس سے قبل ویسٹ بنگال سول سروس امتحان میں امیدواروںکو انگریزی کے متوازی بنگلہ، ہندی ، اردو یا سنتھالی میں سے کوئی ایک پرچہ لینے کی سہولت تھی۔جن امیدواروں کی مادری زبان اردو تھی، وہ اردو منتخب کرتے تھے اور امتحان میں نمایاں طور پر کامیاب بھی ہوتے تھے۔تحریری امتحان میں کامیابی کے بعد انٹرویو کے دوران بنگلہ خواندگی کی رسمی جانچ کی جاتی تھی اور اس بنیاد پر انہیں اضافی نمبر بھی دیے جاتے تھے لیکن بنگلہ نہ جاننے والے امیدواروںکو ملازمت سے محروم بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ ایسے امیدواروں کو نظام کا حصہ بناکرا نہیں ریاستی زبان بنگلہ کے ساتھ ساتھ قومی زبان ہندی سیکھنے کو کہاجاتااوراس کے بعد ان دونوں ہی مضامین میں محکمہ جاتی امتحان پاس کرنے ہوتے۔ اس طرح اردو میں بی اے اور ایم اے کرنے والے درجنوں امیدوار امتحان میں کامیاب ہوکر بنگال کی افسرشاہی کا حصہ بنتے رہے تھے۔لیکن اب اردو کے ساتھ ہندی اور سنتھالی کو بھی ہٹاکر بنگلہ اور نیپالی کو لازمی بنادیاگیا ہے، اس میں بھی نیپالی ان لوگوں کیلئے ہے جو بنگال کے سلی گوڑی، دارجلنگ اور دیگر پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ایسی صورت میں بنگلہ سے ناواقف یا بنگلہ کے امتحان میں ناکام اردو پڑھنے والاایک بھی امیدوار ویسٹ بنگال سول سروس کے امتحان میں کامیاب نہیں ہوپائے گا۔
ایسا نہیں ہے کہ ممتاحکومت نے یہ فیصلہ خاموشی سے لیا ہو بلکہ اس فیصلہ سے قبل اس سلسلے کی تجویز کابینہ کی میٹنگ میں رکھی گئی جہاں کہنے کو اردو بولنے والے کئی ایک مسلم وزیر بھی ہیں۔ اس کے بعد اسمبلی میں بل ڈرافٹ تقسیم کیاگیا جو ہر رکن کو ملا، باریش بزرگ عالم اور بے ریش علیگ وزیر نے بھی اس بل کو دیکھا، لیکن کسی نے اس ترمیم اور تبدیلی پر اعتراض نہیں کیا۔ایسا لگتا ہے اردو بولنے والے ارکا ن اسمبلی اور وزرا نے اس بل کو چوما، چاٹا ،آنکھوں سے لگایااور پھر اس کے حق میں ووٹ دے کر ترنمول کانگریس کے نمک کا حق ادا کردیا۔
دلچسپ بات تویہ ہے کہ اردو کے اس نقصان کو اپنی ننگی آنکھوں سے دیکھ کر بھی اہل اردو نہیں دیکھ رہے ہیں اور کچھ تو ممتابنرجی کی محبت میں اتنے جنونی ہیں کہ اس کھلی اردو دشمنی کی تائید میں ممتابنرجی اور ترنمول کانگریس سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے ہوئے ہیں۔ ان اردودانوں کی دلیل ہے کہ بنگلہ ریاست مغربی بنگال کی سرکاری اور عوامی زبان ہے۔ سرکاری ملازمت میں آنے کے بعد افسران اور اہل کاروں کی تعیناتی دور افتادہ دیہی علاقوں میں ہوتی ہے اور وہاں کی اکثریت چونکہ بنگلہ کے علاوہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتی ہے، اس لیے سرکاری ملازمین کو اپنے کام میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذاحکومت کا یہ فیصلہ اردو دشمنی نہیں ہے بلکہ یہ عوامی کام کاج کی بہتری کیلئے لیاگیا ایسا فیصلہ ہے، اردو والوں کو جس کی پابندی کرنی چاہیے۔ ان اردو دانوں کی یہ دلیل بظاہر درست نظر آرہی ہے کہ بنگال میں کام کرنے کیلئے بنگلہ سیکھنا چاہیے، میں تو اس سے بھی آگے یہ کہتا ہوں کہ اردو والے جتنی چاہیں زبانیں سیکھیں بنگلہ ہی نہیں اوڑیہ ، تمل ، ملیالم اور کنڑ بھی سیکھیں لیکن ان زبانوں کے نہ جاننے کا مطلب یہ نہیں ہوناچاہیے کہ ان پر سرکاری ملازمت کے درواز ے ہی بند کردیے جائیں۔
ممتاحکومت کا یہ فیصلہ ایسا ہی ہے کہ پہلے مرحلے میں اس سے اردو پڑھنے اور جاننے والوں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند ہوں گے اور اگلے مرحلہ میں ریاست کی یونیورسیٹیوں اور کالجوں میں اردو کے شعبہ بند ہوجائیں گے کیوں کہ جب اردو پڑھ کر ملازمت ہی نہیں ملنی ہے تو پھر طلبا اردو پڑھیں گے ہی نہیں اور نتیجتاً اردو کے شعبہ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
ممتاحکومت کے اس فیصلے کے مضمرات سے بنگال کے اہل اردو واقف ہونے کے باوجوداختلاف کی ہمت نہیں جٹاپارہے ہیں۔ عوامی احتجاج تو دور کی بات ہے کہ مغربی بنگال کے کسی کونے کھدرے میں بھی اس حکومتی فیصلہ کے خلاف کوئی آواز نہیں سنائی دے رہی ہے۔اردو کی روزی روٹی کھانے والے اردو کے اساتذہ اور پروفیسر حضرات بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔مغربی بنگال اردو اکادمی تو خیر سے سرکار کا ہی حصہ ہے اور اس سے یہ توقع عبث ہے کہ اس کے ارباب حل و عقد اس سلسلے میں آگے آئیں گے۔ لیکن حیرت تو یہ بھی ہے کہ انجمن ترقی اردو ہند کی مغربی بنگال شاخ کو اس فیصلہ میں کوئی اردو دشمنی نظر نہیں آرہی ہے بلکہ اس ادارہ کے ارباب حل و عقد حکومت سے طلبا کو بنگلہ پڑھانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ انجمن والے حکومت کے اس فیصلہ سے خوش ہیں اور اردو کی جڑیں کاٹنے والی حکومت کے باریش اور بے ریش وزرا کی صدارت و قیادت میں عید ملن و مشاعرہ کی محفل منعقد کررہے ہیں۔
اگر کہیں سے کوئی آواز آرہی ہے تو وہ ہے طلبابرادری کی جو اپنی کم مائیگی کے باوجود وزیراعلیٰ ممتابنرجی کے نام مکتوب لکھ کر پراناقانون بحال کرنے کی اپیل کررہی ہے۔ طلبا کو اس اپیل پر آمادہ کرنے میں نہ تو کسی ادارے نے سامنے آنا گوارا کیا اور نہ ہی اردو کے انعام یافتہ شعراو ادبا ہی سامنے آئے بلکہ اس کا سہرا باراسات یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے استاد برادرم ڈاکٹر تسلیم عارف کے سر ہے، جنہوں نے اپنے شعبہ کے طلبا کو اس فیصلہ کے مضمرات سے آگاہ کیا اور انہیں بتایاکہ اس فیصلہ کا ان کے مستقبل پر کیااثر پڑے گا۔مغربی بنگال میں اردو کی اس صورتحال کے باوجود مسلمانوں کا یہ عالم ہے کہ اپنی دوگانہ عید کو بھی وہ ممتابنرجی کے جلسہ میں تبدیل کرکے فخر محسوس کرتے ہیں۔مغربی بنگال کے مسلمان خاص کر اردو بولنے والے مسلمان ممتابنرجی کی محبت میں اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ یا ان کی پارٹی مسلمانوں اورا ردو کیلئے کچھ کرے یا نہ کرے بس اس کا ہونا ہی کافی ہے۔غالباً ایسے ہی موقع کیلئے شاعر نے کہا ہے :
نہ بادہ ہے نہ صراحی نہ دور پیمانہ
فقط نگاہ سے رنگیں ہے بزم جانانہ
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS