موسم کا لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے:سونم لوٹس

0
thewheather channel

سری نگر: (یو این آئی) موسم کا لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ گہرا تعلق ہے لہذا خراب موسمی حالات کے باعث لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہم کم سے کم پندرہ روز قبل ہی پیشن گوئی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار محکمہ موسمیات کے علاقائی ناظم سونم لوٹس نے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے ہفتہ وار پروگرام ’سکون‘ میں اپنے انٹرویو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا: ’لوگ ہم پر کافی بھروسہ کرتے ہیں اس بھروسے کو برقرار رکھنے کے لئے ٹیکنالوجی کی دستیابی کے علاوہ میں اور میرے ساتھ جڑے باقی ساتھی کافی محنت کرتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا: ’لوگوں کو موسمیات کے متعلق بر وقت اور برار جانکاری فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے یہ ہمارا ان پر کوئی احسان نہیں ہے‘۔ موصوف ناظم محکمہ موسمیات نے کہا کہ موسم کا لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’موسم کا لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ خراب موسمی حالات جیسے بادل پھٹنے، تیز بارشوں، بھاری برف باری، برفانی تودے گر آنے سے وغیرہ سے لوگوں کا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے ہم لوگوں کے اس دکھ درد کو دیکھتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم کوشش کرتے ہیں کہ ان نقصانات کو کم کرنے کے لئے لوگوں کو کم سے کم پندرہ روز قبل کی پیشن گوئی دیں‘۔ سونم لوٹس نے کہا کہ کبھی کبھی ہماری پیش گوئی غلط بھی ثابت ہوسکتی ہے لیکن ہماری80 فیصد پیش گوئیاں صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ اپنی نجی زندگی اور تعلیم و تربیت کا مختصر خاکہ کھینچتے ہوئے انہوں نے کہا: ’میں ضلع لیہہ سے قریب60 کلو میٹر دور ایک چھوٹے گاؤں شرموس میں ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوا ہوں‘۔ انہوں نے کہا: ’چھٹی جماعت تک اپنے ہی گاؤں میں قائم ایک اسکول میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد دوسرے گاؤں ٹھکسے میں دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور اس دوران مجھے روحانی تربیت حاصل کرنے کا بھی موقع نصیب ہوا‘۔ لوٹس نے کہا کہ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول لیہہ سے گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے امتحانات ’نان میڈیکل‘ سبجیکٹ میں پاس کئے اور اس کے بعد گورنمنٹ گاندھی میموریل سائنس کالج سے گریجویشن مکمل کی۔
انہوں نے کہا: ’بعد ازاں میں نے جموں یونیورسٹی میں فزیکس مضمون میں پوسٹ گریجویشن اور ایم فل کی ڈگریاں حاصل کیں اور اس دوران میں نے اپنی تدریسی کتابوں کے علاوہ روحانی کتابوں کا بھی مطالعہ کیا جس کے میری زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے‘۔
محکمہ موسمیات سے جڑنے کے متعلق پوچھے جانے پر موصوف سربراہ نے کہا: ’سال 2005 میں متعلقہ محکمے کا ایک امتحان پاس کرکے میری محکمہ موسمیات میں سلیکشن ہوئی اور پونے میں واقع محکمے کے ایک انسٹی چیوٹ میں تربیت حاصل کی‘۔ انہوں نے کہا: ’سال 2008 سے میں سری نگر میں تعینات ہوں اور جموں وکشمیر اور لداخ یونین ٹریٹری کا موسم دیکھتا ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا: ’میں محکمہ موسمیات میں اچانک ہی آگیا جبکہ یہ میرا کوئی مخصوص شوق نہیں تھا‘۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here