’ ہم ضرور دکھا دیں گے انہیں اپنی راہیں‘

0

عمیر کوٹی ندوی
اللہ و کتاب اللہ کی طرف رجوع اورحالات سے آگاہی
راستہ جس پر چل کر مسلمان موجودہ حالات، مسائل، مشکلات، آزمائشوں اور سازشوں سے نکل سکیں اور امن وسکون، عزت وشرافت کی منزل تک پہنچ سکیں وہ کون سا ہے؟ یہ سوال ہر مسلمان کی زبان پر ہے اور مسلمانوں کا بیدار اور باخبر ذہن اس پر ایک عرصہ سے کام کر رہا ہے۔ بار بار یہ بات پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ کہی جارہی ہے کہ موجودہ صورت حال میں ضروری ہے کہ اللہ کی طرف رخ کیا جائے، اس لئے کہ دنیا کی ہرشئی اور تمام امور اللہ ہی کی طرف پلٹتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں‘‘ (آل عمران:109)۔ لہذا فلاح وکامیابی اور راہ روی کے لئے اللہ کی طرف رجوع کرنا لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’ پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جاؤ اس کے‘‘(الزمر: 54)۔ کس کام کو اختیار کیا جائے، طریقہ کار کیا ہو، اسلوب کیا ہو، حکمت عملی کیا ہو اور کن کن باتوں سے بچا جائے ، ان باتوں کو جاننے کے لئے اللہ نے اپنی کتاب کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے ’’یہ ایک کتاب (قرآن مجید) ہے جس کو ہم نے بھیجا ، بڑی خیر وبرکت والی ہے ، سو اس کی اتباع کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو‘‘(الانعام: 155)۔اس کتاب کو اللہ نے تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل کیا اور تمام امور، مسائل ، مشکلات اور پریشانیوں کا حل بھی اس میں پیش کردیا ہے۔لہٰذا ضروری ہے موجودہ حالات میں مسلمان اس کی طرف متوجہ ہوں اوراس میں اپنے مسائل کا حل تلاش کریں۔ دیکھیں کہ مصائب سے نکلنے اور نجات وکامیابی کی راہ پر گامزن ہونے کے لئے قرآن مجید ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے۔ اس مقصد سے جب ہم قرآن مجید کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کا مطالعہ کرتے ہیںتو اللہ کی کتاب ہماری پورے طور پر رہنمائی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس حقیقت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ حالات اور ان کی سختی سے مسلمان راست طور پر متاثر ہیں۔ اس لئے وہ اس تعلق سے فکرمند بھی ہیں اور پریشان بھی۔ اس پس منظر میں ضروری ہے کہ پہلے حالات پر سرسری نظر ڈالی جائے۔ ہمارے ملک میں مسلمانوں کے تعلق سے حالات کی خرابی کا جو سلسلہ انگریزوں کے تسلط سے شروع ہوا وہ لمحہ بہ لمحہ آگے بڑھتا اور سخت سے سخت تر ہوتا رہا۔ پھر ملک عزیز کی آزادی کا وقت آیا جس کے لئے یہاں کے لوگوں نے بڑی قربانیاں دیں۔ اس قربانی میں مسلمانوں کا حصہ بہت زیادہ ہے، اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ یہ بات الگ ہے کہ ملک کی آزادی میں مسلمانوں کی قربانیوں اور حصہ داری کے اعتراف اور ان کے تذکرہ کے وقت اکثر لوگوں کی زبانیں خاموش رہتی ہیں۔
منفی اثرات سے محفوظ رہنا
اس کے بعد حالات کی سختی نے نیا رنگ اور انداز دیکھا۔ بسااوقات کلیجہ منہ کو آتا محسوس ہوا۔ لیکن سختی رکی نہیں، اس کا سفر جاری رہا۔ ادھر چند برسوں میں ملک میں اقتدار اور اختیار کے ایک خاص نظریہ سے تعلق قائم ہو جانے کی وجہ سے ایک خاص ذہنیت کے حوصلے کافی بلند ہیں۔ اس وجہ سے جس قسم کے حالات پیش آرہے ہیں اور سخت تر ہوتے چلے جارہے ہیں، ان کے سبب مسلمانوں کے لئے نئی صورت پیدا ہوگئی ہے۔ فتنوں کا ایسا در کھل گیا ہے جو بند ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ سازشیں اور شرارتیں اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان درمیان میں کھڑے ہیں اور ہر سمت اور ہر جانب سے ان پر حملے ہو رہے ہیں۔ ان کے تعلق سے زندگی کا ہر گوشہ اور ہر شعبہ متاثر ہے۔ معاملہ کوئی بھی ہو، موقع چاہے جو ہو اس کا استعمال ان کے خلاف آسانی سے کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے تمام اداروں کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ کوشش اپنی جگہ لیکن اس کا منفی اثر جو یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں پر پڑے وہ عمومی طور پر نظر نہیں آرہا ہے۔ اس وجہ سے سازش کرنے والوں کے اندر پیدا ہونے والی جھنجھلاہٹ کبھی کبھی سامنے بھی آجاتی ہے۔
ادراک کی سمت پیش رفت
مسلمان فکرمند ہیں اس سے انکار نہیں، ان کی فکرمندی اپنی جگہ۔ لیکن یہ بات سچ ہے کہ وہ اپنے اندر در آئی ہزار برائیوں اور عیوب کے باوجود مایوسی کی حد تک نہیں پہنچے ہیں۔ اس کی اہم وجہ اللہ پر توکل اور اس بات پر یقین ہے کہ مشکلات سے نکلنے کا راستہ تو اللہ ہی نکالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کردیتا ہے‘‘ (الطلاق:2)۔ مسلمان اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ مسائل اور مشکلات اور حالات کی سختی انہیں خبردار کرنے اور غفلت سے بیدار کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ موجودہ حالات جنہوں نے انہیں اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ان میں بھی ان کے لئے خیر کا پہلو نمایاں ہے، یہ وہ سمجھ رہے ہیں۔ وہ اپنے اندر گرچہ بہت سست رفتار ہی سہی لیکن کچھ نہ کچھ بدلاؤ کی کیفیت کو محسوس کر رہے ہیں۔ آغاز اس پر آپس میں باتوں سے ہوا۔ پھر تشویش، کچھ خوف اور اندیشوں کا بھی ایک دور چلا۔ اس کے بعد ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے اور حالات کے لئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کا وقت آیا۔ اس سلسلہ میں شکوہ وشکایت میں لہجے اور الفاظ کی سختی بھی دیکھی گئی۔ اس تعلق سے خواص اور عوام دونوں جگہ الفاظ اور انداز کے معاملے میں بہت بے احتیاطیاں نظر آئیں۔ لیکن اب یہ سلسلہ کچھ تھمتا نظر آرہا ہے۔
مشکلات سے نکلنے کی راہ
فکرمندی کا پہلو اب کھل کر سامنے آرہا ہے۔ عوام میں تو عمومی انداز میں یہ پہلو ہے ہی خواص میں اس پر بات، ملاقات، مذاکرات، مشاورت وغیرہ کا سلسلہ چل رہا ہے۔ اس پہل کو ملت کو مثبت انداز سے لینے کی ضروت ہے۔ ساتھ ہی اس راستہ کی تلاش بھی ضروری ہے جو مشکلات سے نکالنے والا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ کی طرف سے عائد کردہ اولین شرط پوری کی جائے اور وہ ہے ’اللہ کا ڈر‘۔ اللہ کا ڈر لوگوں کو ان کے مقصد سے جوڑتا ہے۔ معاملہ خواہ اجتماعی ہو یا انفرادی اگر اللہ کا ڈر ہے تو لوگوں کو ’راہ‘ ملتی ہے۔ معاملہ آج کا نہیں ہے۔ تاریخ اس کی گواہ ہے کہ حالات کی سختی کا سلسلہ آغاز اسلام سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ اللہ کو اپنا رب تسلیم کرنے والوں کو ان سے گزارا گیا اور جب جب انہوں نے ثابت قدمی کا ثبوت دیا اللہ نے ان کے مقام کو بلند کردیا اور انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا ’’جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے یقینا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ ’’ نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہوجاؤ اس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے‘‘(فصلت:30)۔
غیر معمولی قدم
’اللہ ہمارا رب ہیــ‘ اس کو تسلیم کیا جائے، اللہ کو اپنا رب جانا جائے، اس بات پر یقین رکھا جائے کہ پوری کائنات کا مالک وحاکم اور پروردگار اللہ ہی ہے۔ یہ اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ یہ زبان سے ہی نہ ہو۔ اس کا تعلق کسی ایک جز سے بھی نہ ہو۔ اقرار دل کی گہرائیوں سے کیا جائے اور پورے شعور کے ساتھ اسے تسلیم کیا جائے۔ مسلمانوں کا عمل اس اقرار اور تسلیم کی تصدیق کرے۔ یہ غیر معمولی قدم ہے۔ وہ لوگ جو باطل کو اپنا دوست گردانتے ہیں اور حق وسچ کو قبول نہیں کرتے وہ اس بات کو برداشت نہیں کرپاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ رب ہے ،سرے سے اس کا اقرار ہی نہ کیا جائے اور جو لوگ اس کا اقرار کر رہے ہیں وہ اس سے پلٹ جائیں’’ یا تم پھر سے ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ‘‘(ابراہیم:13)۔ انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں ’’اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار ڈالوں گا‘‘ (مریم:46)۔ ’’ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ اے شعیب! ہم آپ کو اور جو آپ کے ہمراہ ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے الّا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ‘‘(الأعراف : 88)۔ اگر ایسا نہ ہو تو کم از کم ان کی زندگی اور عمل سے اس کا اظہار نہ ہو۔ وہ عمل کے اعتبار سے باطل کو اپنا دوست گرداننے والوں کے طریقہ کو اپنالیں ’’ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں‘‘(البقرہ:120)۔
اہل ایمان کا گہنا
اس وقت صورت حال یہی ہے اور گاہے بہ گاہے نہیں بلکہ تسلسل اور پوری شدت کے ساتھ اس کا اظہار ہو رہا ہے۔ تمام انبیا کو اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ ظہور اسلام کے وقت حضور اکرمؐ اور آپ ؐکے اصحابؓ نے سخت ترین حالات کا سامنا کیا۔ بعد میں بھی اس طرح کے حالات آتے رہے ہیں۔ لیکن وہ چیز جو ہر موڑ پر ایمان والوں کے کام آئی، اس سے ان کے حوصلوں کو بلندی عطا ہوئی، ان کے قدم صحیح سمت کی طرف بڑھتے رہے اور بار بار کامیابی نے ان کے قدموں کو چوما وہ اہل ایمان کی ثابت قدمی ہے جس کو اللہ نے سند دی ہے’’ وہ اس پر ثابت قدم رہے‘‘ (فصلت:30)۔ ثابت قدمی اس بات کا عملی ثبوت پیش کرنا ہے کہ مسلمانوں نے جس عقیدے اور نظریہ کو اختیار کیا ہے اس پر وہ مرتے دم تک قائم رہیں گیں۔ جان دیدیں گے لیکن اس کو کسی بھی صورت چھوڑیں گے نہیں۔ انہوں نے اللہ کو اپنا رب تسلیم کرلیا ہے، وہی ان کے لئے کافی ہے اور اس کے بعد اب وہ کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔ وہ اللہ کی مکمل طور پر اطاعت اور فرمابرداری کریں گے۔ اپنے ہر عمل میں اس کی مرضی کو سامنے رکھیں گے۔ اپنی زندگی کو دنیا کے لئے نمونہ بنائیں گے۔ اللہ نے ان کی جو ذمہ داری طے کی ہے وہ پورے خلوص کے ساتھ اس کو ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔
راہ کے ظہور کی لازمی شرط
ثابت قدمی مسلمانوں کا حقیقی کردار سامنے لاتی ہے۔ وہ کردار جو اثر رکھتا ہے۔ چاہے مسلمان کسی سے بات کریں، کسی کو کچھ بتائیں، کسی کے سامنے اپنی بات رکھیں یا کسی کی بات کا جواب دیں۔ خواہ مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جائے یا ان پر الزامات عائد کئے جائیں، انہیں ستایا جائے، آزمائشوں سے دوچار کیا جائے یا نقصان پہنچایا جائے۔ ہمہ وقت اور ہر کہیں مسلمانوں کا استقامت، ثابت قدمی اور عزم والا کردار اپنی خوبیوں کے ساتھ سامنے آئے۔ یہی کردار ہے جو اللہ کو مطلوب ہے اور کامیابی و نجات کا ضامن ہے۔ اس لئے کہ یہ مسلمانوں کے مقصد حقیقی کو پیش کرتا ہے۔ اسی سے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ اسے دیکھ کر دنیا یہ کہہ اٹھتی ہے کہ یہ اچھے اور سچے لوگ ہیں اور پھر لوگوں کے دل ان کے لئے نرم پڑجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں ’’ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے‘‘(فصلت: 34)۔ اس کردار کے نتیجہ میں اللہ مسلمان کا دوست بن جاتا ہے’’سنو کہ یقینا اللہ کے دوست ہی ہیں جن کو کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ تقویٰ پرعمل پیرا تھے، ان کے لئے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے‘‘(یونس: 63-65)۔’جو ایمان لائے اور وہ تقویٰ پرعمل پیرا تھے‘ یہ فرمان الٰہی بتا رہا ہے کہ ایمان کا لازمی تقاضہ عمل ہے اور عمل کا ایمان سے روشنی حاصل کرنا اور اس کی ہدایت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ ایمان کی روشنی کے بغیر عمل بہت ممکن ہے کہ اپنے ظاہر میں حسین اور سود مندہو۔اس کا زمانہ قصیدے پر قصیدے پڑھ رہا ہو اور دنیاکی زندگی میں اس کے فائدے گنائے جارہے ہوں اور اس کے فائدے نظر بھی آرہے ہوں۔ سچ یہ ہے کہ وہ اس نتیجہ کی برآمدگی سے قاصر ہے جو ایمان کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ ’’قسم زمانہ کی ۔انسان در حقیقت بڑے خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے‘‘ (العصر1-3)۔ ایمان وحق اور سچ کی راہ اختیار کرنے، اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے، اپنے عمل سے اس کا چلتا پھرتا نمونہ پیش کرنے اور پھر اس کی تلقین کرنے کے نتیجہ میں لازماً آزمائش کا دور چلے گا، مسائل و مشکلات بھی پیش آئیں گی۔ اس صورت میں اہل ایمان کو اپنا کردار پیش کرنا ہے۔ وہ کردار صبر، تحمل، سنجیدگی، متانت، بردباری، برداشت، دانشمندی اور فراست والا ہے۔ کہیں سے بھی ایسا عمل یا رد عمل نہیں ہوگا جو اس کے مطلوبہ کردار کے خلاف اور متصادم ہو اور اس کے مشن، مقصد کو سبوتاز کرنے والا اور ملت کے وجود کو خطرے میں ڈالنے والا ہو۔ اللہ کے دوست پست ہمت نہیں ہوتے، وہ بے حوصلہ اور مشتعل مزاج بھی نہیں ہوتے اور نہ ایسے ہوتے ہیں جنہیں کوئی بھی آسانی سے بے سمت کردے اور بھٹکا دے۔ اللہ کے دوست نہ غمزدہ ہوتے ہیں اور نہ خوف زدہ ہوتے ہیں۔مسلمان کا دوست جب اللہ بن جائے اور ہم سفر ہوجائے تو پھر راستہ بھی مل جاتا ہے، منزل بھی مل جاتی ہے اور کامیابی بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ اللہ نے مسلمان سے وعدہ کیا ہے کہ جو اس سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کردے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ دور میں مسلمان مال ومتاع، جاہ ومنصب کی محبت کو ترک کرتے ہوئے اپنے آپ کو کردار سازی کے عمل سے گزاریں اور اس کی خاطر مشقت برداشت کریں۔اس لئے کہ اس وقت لوگ پورے طور پر ان کی طرف متوجہ ہیں اور ہر سمت سے نگاہیں انہیں پر جمی ہوئی ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ ’’ اور جو لوگ ہماری رآہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے‘‘ (العنکبوت:69)۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS