روئیںگے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

0

انجینئر خالد رشید علیگ

10جون کو ملک کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کا رد عمل سامنے آیا جو زیادہ تر مقامات پر پر امن رہا لیکن کچھ مقامات سے تشدد کی خبریں بھی آئیں جو تشویش ناک بھی ہیں اور ناخوش گوار بھی حالانکہ عرب ممالک کی انٹری کے بعد صورت حال کافی حد تک تبدیل ہوچکی تھی اور بی جے پی کو خطرے کا احساس ہو چلا تھا، بظاہر وہ بیک فٹ پر نظر آنے کا دکھاوا بھی کر رہی تھی جس کے نتیجہ میں اس نے نوپور شرما اور نوین جندل کے خلاف دکھاوے کی کارروائی بھی کی تھی کیونکہ اس کو یہ احساس ہو چلا تھا کہ اس نے بلِّی کو تڑپانے کے جنون میں شیر کی دم پہ پاؤں رکھ دیا ہے۔ ہندوستانی مسلمان تو ملک میں اسی لیے رکے تھے تاکہ ہندو فرقہ پرستوں کے ظلم کا نشانہ بنتے رہیں ان کے خلاف دھرم سنسد ہو ان کی موب۔لنچنگ ہوتی رہے، فرقہ وارانہ تشدد ہوتا رہے اور اگر وہ این آرسی اور سی اے اے کے خلاف پر امن مظاہرہ کریں تو ان کے گھروں پر بلڈوزر چلا دیے جائیں، سالوں ان کو جیلوں میں بندرکھا جائے اورپورا سماج خاموش تماشائی بنا رہے۔ لیکن نفرت کا طوفان بپا کرنے والے لوگ یہ بھول گئے کہ محمد ؐ صرف ہندوستانی مسلمانوں کے پیغمبرؐ نہیں بلکہ دنیا کے 170 کروڑ مسلمانوں کے پیغمبر ہیں اور عربوں سے ان کی محبت کا عالم یہ ہے کہ وہ ان کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ اتفاق سے وہ خلیجی مسلم ممالک ہندوستان کو ہرسال 50 بلین ڈالر کا زر مبادلہ بھی فراہم کراتے ہیں، جن کے دلوں میں محمدؐ کی محبت
سمندر سے زیادہ گہری ہے، جن کی رگوں میں محمدؐ کا خون دوڑتا ہے، شاید انہیں پالنہاروں کی ناراضگی کے خدشہ نے نوپور شرما اور نوین جندل کے عہدوں کی بلی لے لی۔ جہاں تک ہندوستانی مسلمانوں کا سوال ہے وہ توبھیگی بلّی بن چکے ہیں جن کو اپنے ہی ہم وطنوں کی نفرت کا شکار بننے کی عادت پڑچکی ہے لیکن ان کے صبر کے پیمانہ کی بھی کوئی حد تو ضرور ہوگی، ان کے ذہنوں میں بھی یہ سوال تو آتا ہی ہوگا کہ اگر پرامن مظاہروں اور پر تشدد مظاہروں دونوں کا انجام بلڈوزر ہی ہے تو پھر وہ اپنے رسولؐ کی اہانت پہ خاموش کیوں رہیں؟ اور شاید یہی وجہ تھی کہ مسلمان یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کو سخت سزا ملے گی، کچھ مقامات پر جذباتی ہوکر اپنی حدوں سے تجاوز کر گئے، حالانکہ تشدد کو کسی بھی حالت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اگر ان لوگوں کی چھتیں بھی بلڈوزر نے گرادیں جو پر امن مظاہرہ کر رہے تھے تو پھر پر امن رہنے کا فائدہ کیا ہے؟ ہندوستان کے مسلمان تو کسی نشانہ بازی کے مقابلے میں استعمال ہونے والے ہدف کی طرح ہے جو بار بار چھلنی ہوتا ہے اور جب نیا کھلاڑی آتا ہے تو اسی ہدف کو چپّیاں لگا کر نئے کھلاڑی کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو نئے سرے سے اس پہ مشق کرتا ہے لیکن یہاں سوال صرف مسلمانوں کا نہیںہے جو سوال ہر انصاف پسند شہریوں کے ذہن میں پیدا ہو رہا ہے، وہ یہ کہ آخر اس صورت حال میں خصوصاً مسلمانوں اور عموماً محب وطن ہندوستانیوں کو نفرت کی اس آندھی کا مقابلہ کیسے کرنا چاہیے؟ جو آندھی ملک کے سیکولر دستور ہمہ رنگ تاریخ ہندو- مسلم یکجہتی اور فرقہ وارنہ ہم آہنگی کے تناور درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دینے پہ تلی ہے، ہمیں اس آندھی کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن چھپالینے سے اس آندھی کو روکا نہیں جاسکتا، وقت آگیا ہے جب سارے آئین کے پیروکاروں، سب جمہوریت پسندوں، تمام محبان وطن شہریوں کو سرجوڑکے بیٹھنا ہوگا اور کوئی ایسا آئینی راستہ تلاش کرناہوگا اورجو ملک کو اس بحران سے نکال کر ایک بار پھر سے موہن داس کرم چند گاندھی کے خوابوں کا دیش بنا سکے۔ جہاں امن کا سفید رنگ زعفرانی اورہرے رنگوں کویکجارکھ سکے اور ملک کو اس بحران سے نکال سکے جو ملک کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دینا چاہتا ہے، اس خطرہ کا سامنا کرنا چاہتا ہے کیونکہ مسلمان اور دلت اس بحران سے سب سے زیادہ متاثرہو رہے ہیں اس لئے مظلوموں کی صف میں سب سے آگے کھڑے ہیں اس لیے ان کو آگے آکر ایک تحریک کی قیادت کرنی چاہے جو ملک کو آنے والے خلفشار سے بچا سکے۔ ملک تباہ ہوگا تو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی سبھی تباہ ہو جائیں گے۔ آئین اپنی افادیت کھو دے گا تو سبھی کے حقوق پامال ہوںگے، اس لیے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے عزیز ملک کی حفاظت کے لیے ایک عوامی تحریک شروع کریں جو مکمل طور پر آئین کے دائرہ میں ہو۔ جمہوری قدروں کی الم بردار ہو، انسانی حقوق کے اصولوں پہ مبنی ہو۔ پوری طرح سیکولر ہو اور پر امن گاندھی وادی ستیہ گرہ کے اصولوں پر مبنی ہو ملک کی سیاسی جماعتوں سے کوئی توقع کرنا موجودہ حالات میں ممکن نہیں۔ گزشتہ 8 سالوں میں ملک میں یہ تاثر قائم کر دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے حق میں کوئی بات کرنا گناہ ہوچکا ہے، اس لئے عام شہریوں اور سماجی تنظیموں کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آگے آکر ملک کے آئین کی حفاظت کریں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آئین کو بدلنے یا اس کو غیر فعال بنانے والوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن یہی لوگ اقلیت میں ہونے کے باوجود منظم ہیں، ہمیں ان لوگوں کو منظم اور متحد کرنا ہوگا جو لوگ ملک میں آئین کی بالادستی چاہتے ہیں اور تعداد میں کہیں زیادہ ہیں۔ جو عوامی تحریک ہم چلائیں اس میں مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے:
یہ تحریک پوری طرح غیر سیاسی ہو، اس کا ایجنڈا واضح اور مختصر ہو اور وہ یہ کہ ہمارا مقصد ملک بچانا ہے، آئین کی حفاظت کرکے ہی یہ کام کیا جا سکتا ہے۔اس تحریک کو مکمل طور سے سیکولر رکھا جائے، بھلے ہی اس کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو لیکن اس میں زیادہ سے زیادہ غیر مسلم شہری شامل ہوں۔
گاندھی کے اصولوں، عدم تشدد، ستیہ گرہ، اپواس اور خاموش مظاہروں کی پالیسی کو اپنایا جائے حالانکہ یہ کام نہایت مشکل ہے، جن لوگوں سے آپ کا مقابلہ ہے وہ پرامن مظاہروں کو پر تشدد بنانے میں مہارت رکھتے ہیں لہٰذا اپنی تحریک کو پر امن رکھناایک مشکل کام ضرور ہوگا لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
تحریک کو بجائے بڑے اجتماعات کے چھوٹے چھوٹے لیول پر چلایا جاسکتا ہے، مثال کے طور پر کسی متعین تاریخ پر ایک ہزار شہریوں کا ہر ضلع ہیڈ کوارٹر پر اپواس کرا کے اپنا احتجاج درج کرایا جا سکتا ہے ۔اپنی تحریک کو قومی رنگ دینے کے لیے قومی نعروں اور قومی پرچم کا کثرت سے استعمال کیا جانا چاہیے اور اپنے ہم وطنوں کو یہ واضح پیغام دینا چاہیے کہ ہماری یہ تحریک کسی سیاسی نظریہ کے خلاف نہیں بلکہ ان شر پسندوں کے خلاف ہے جو آئین کی بالادستی ختم کر دینا چاہتے ہیں ۔یاد رکھیئے یہ ملک ہمارا ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہماری ہے ۔ اسی ملک کے آئین نے ہمیں یہ حق دیا ہے کہ اگر کوئی ہمارے اوپر ظلم کرے تو اس پر احتجاج کرنا اور ظالم کو سزا دلوانے کا مطالبہ کرنا، سڑکوں پہ آکر پرامن مظاہرہ کرنا ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے لیکن اگر یہ مطالبات اور مظاہرے تشدد کی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو اپنی افادیت کھو دیتے ہیں ، لہٰذا جو تحریک بھی چلائی جائے مکمل طور پر پر امن رہے۔
[email protected]