ہم ساری دنیا مانگیں گے!

0

اقوام متحدہ کے منشور بظاہر روشن، اجلے، خوش رنگ اور دل آویز ہوتے ہیں،لیکن صاحبان دل کا دعویٰ ہے کہ یہ اجلے اجلے روشن روشن منشور اپنے اندرون میں انسانی لہو کا ٹھاٹھیں مارتا ہواسمندر جذب کیے ہوئے ہیں۔ اس دعویٰ کی دلیل میں فلسطین پر نظر ڈالنا ہی کافی ہے جہاں انسانی حقوق کے ’مقدس عالمی منشور‘کو امریکہ اورا قوام عالم کی پشت پناہی میں ظالم اسرائیل، بے گناہ فلسطینیوں کے لہو سے غسل دے رہاہے۔

اسی اقوام متحدہ نے مزدوروں اور محنت کشوں کی زندگی بہتر بنائے رکھنے کیلئے کچھ اصول و ضوابط طے کیے ہیں اور باقاعدہ اسے ایک منشور کی شکل دے کر دنیا بھر کے 187 ممالک میں اپنی ایجنسی عالمی ادارہ محنت(انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن ) کے ذریعہ نافذ کرانے کا دعویدار بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کی بازیابی میں ان کا ممد و معاون بن کرپورے کرۂ ارض پرسماجی انصاف کو یقینی بنانے کاکام کررہا ہے۔یہ دعویٰ کتنا درست ہے اس کی حقیقت تو دنیا بھر کے مزدوروں اور محنت کشوں کے حال زار دیکھ کر ہی معلوم ہوجاتا ہے۔

دنیا کا ہر مزدور آج بھی مایوسی اور محرومی سے دوچار ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بربریت آج بھی مزدوروں کی روح، احساس اور غیرت تک کو کچل رہی ہے۔استحصال کی شدت اورغربت کی ذلت میں محنت کشوں کی زندگی سے انسانی رشتے، سماجی بندھن اور تہذیبی اقدار تک ختم ہوتی نظر آرہی ہیں۔آج بھی مزدوروں کے احوال وہی ہیں جو 1886میں تھے۔ آج بھی اپنے حق کی آواز اٹھانے والے مزدوروں کو ان کے ہی لہو میں نہلا دیاجارہاہے جیسے یکم مئی 1886کوامریکہ کے شہر شکاگو میں کیاگیاتھا جب سفید جھنڈے اٹھائے ہوئے مزدوروں کے جلوس پرسرمایہ دارانہ نظام کی گماشتہ حکومت کے اہل کاروں نے گولی چلائی تھی اور محنت کشوں کے لہو سے سفید جھنڈوں کا رنگ سرخ ہوگیا تھا۔ ان محنت کشوں کا جرم یہ تھا کہ وہ اوقات کار آٹھ گھنٹے مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ محنت کشوںپر ہونے والے ستم کا یہ واقعہ مزدور تحریک کی تاریخ میں ایک حوالے کے طور پر درج ہوااور اس کی مناسبت سے ہر سال یکم مئی کو محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیاگیا۔جس کے بعد یہ دنیا بھر کے مزدوروں کا ایسا واحد تہوار بن گیا جو سرحد، مذہب، قوم، نسل، براعظم اور ہر دوسری جغرافیائی، سماجی، لسانی اور ثقافتی تقسیم سے بالا تر ہو کر منایاجاتاہے۔اس سال بھی دنیا بھر کے مزدور یہ تہوار منارہے ہیں۔ سرمایہ داروں کی پشت پناہی میں کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے، ایجنسیوں اور تنظیموں نے اس موقع کی مناسب سے رنگارنگ تقریبات کا بھی اہتمام کررکھا ہے۔ بتایا جارہاہے کہ اس سال اس یوم خاص کیلئے ایک تھیم بھی جاری کی گئی ہے۔ وہ تھیم ہے ’ موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان مزدوروں کے مقام کار کی حفاظت اور صحت کو یقینی بنانا‘‘۔

ایک طرف یہ پرکشش اور مزدور دوست تھیم ہے، دوسری طرف عملاً مزدوروں کو جہنم کی دہکتی آگ میں جھونک کررکھاگیا ہے۔ مقام کار کے ماحول کا بہتر ہونا تو دور کی بات ہے، کام کے مطابق مزدوروں کوا جرت بھی نہیں مل رہی ہے اور نہ وہ بہتر صحت، تعلیم اور بہتر خوراک کی ’عیاشی‘ کے ہی متحمل ہیں۔ دوسری جانب حکومتیں ہیں جنہوںنے مختلف طرح کے قوانین بناکر مزدوروں کی مشکیں کس رکھی ہیں۔ اوقات کار میں اضافہ کیا جارہا ہے، عوامی اداروں کی نجکاری ہورہی ہے تو جبری برطرفیوں کا طوفان بلاخیز محنت کشوں کو رزق خاک بنارہاہے۔معیشت کے نام نہاد بحران کا سارا بوجھ مزدوروں کے کاندھے پر منتقل کرکے ان پر دن رات نت نئے معاشی حملے کیے جا رہے ہیں۔

ہندوستان میں صورتحال تو سب سے زیادہ سنگین ہے، ایک رپورٹ کے مطابق ملک کی سرمایہ نوازحکومت نے باقاعدہ قانون سازی کرکے مزدوروںکے اوقات کار بڑھادیے ہیں۔ اجرت بورڈ آجروں کی رکھیل بن چکا ہے۔ کم از کم اجرت کا قانونی حق سوخت کرلیاگیا ہے۔ لیاقت اور اہلیت کے مطابق اجرت دینے کے بجائے ہرشعبہ میں ’ٹھیکہ پر بھرتی‘کے غیر قانونی عمل کو حکومت اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے۔ نجکاری کی ’عظمتوں‘ پرسرمایہ نوازحکمرانوں کی تقاریر محنت کشوں کی آرزوئوں کا خون کررہی ہیں۔

شدت کی گرمی کے اس موسم میںبھی جب درجہ حرارت میں اضافہ پچھلے تمام ریکارڈ توڑ رہا ہے اور دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے مزید شدیداور دیرپا ہونے کے خطرے کا سامنا ہے، کوئی ایسا قانون نہیں بنایاگیا ہے کہ مقام کار پر مزدوروںکو موسم کا تحفظ حاصل ہو۔ دنیا کے 80فیصد سے زائد محنت کشوں کو انسانی جسم کے نارمل اندرونی درجہ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے سنگین بیماری اور موت کے خطرات کا سامنا ہے۔دنیا بھر کے مزدوروں اور محنت کشوں کو صرف موسمیاتی تبدیلی کے دوران مقام کار پر تحفظ نہیں بلکہ مساوی مواقع اور منصفانہ سلوک بھی چاہیے۔اگر دنیا نے ایسا نہیں کیا تو محنت کشوں اور مزدوروں کے دلوں کے پلنے والے لاوے کی حدت سرمایہ داری کے اس مکروہ نظام کو پگھلاکر رکھ دے گی۔بقول فیض ؔ

ہم محنت کش جگ والوں سے جب اپنا حصہ مانگیں گے
اک کھیت نہیں، ایک دیس نہیں، ہم ساری دنیا مانگیں گے
جو خون بہا، جو باغ اجڑے، جو گیت دلوں میں قتل ہوئے
ہر غنچے کا، ہر قطرے کا، ہر گیت کا بدلہ مانگیں گے

موجودہ تناظر میںمزدوروں کایہ عالمی دن آئی ایل او کی کسی کھوکھلی ’تھیم ‘کی نذر کرنے کے بجائے مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق اور سماجی انصاف کیلئے جدوجہد کو مزید تیز کرنے کے عہد کادن ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS