وقف بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اسٹے

0

تحریک عدم اعتماد لانے والے ممبران کی ممبری کا تصفیہ کیا جائے: امانت اللہ خاں
نئی دہلی (ایس این بی) : دہلی وقف بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والے ممبران کو آج اس وقت سخت دھچکا لگا جب ہائی کورٹ میں امانت اللہ خان کی رٹ پٹیشن پر جسٹس منوج اوہری کی عدالت نے تحریک عدم اعتماد پر امانت اللہ خان کو اسٹے دے دیا اور سماعت کے لیے اگلی تاریخ 5اپریل مقرر کردی۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ دنوں وقف بورڈ کے کچھ باغی ممبران نے چیئرمین امانت اللہ خان کے خلاف ایل جی کے پاس جاکر تحریک عدم اعتماد پیش کرکے میٹنگ بلانے کی درخواست کی تھی۔ان کی اسی درخواست کے خلاف امانت اللہ خان ہائی کورٹ پہنچ گئے اور29-03-22کو رٹ پٹیشن کے ذریعہ عدالت عالیہ سے یہ درخواست کی کہ جو ممبران تحریک عدم اعتماد پیش کر رہے ہیں، ان میں سے کچھ کے خلاف ان کی ممبری کے تصفیہ کا معاملہ پہلے ہی دہلی حکومت کے یہاں زیر التوا ہے جس پر فیصلہ ہونا باقی ہے اس لیے پہلے ایل جی اور ڈویزنل کمشنر کے یہاں زیر التوا بورڈ ممبران کی ممبری کے معاملہ کا تصفیہ کیا جائے، اس کے بعد 04-03-22کو تحریک عدم اعتماد کے نوٹس پر سرکا ر کوئی فیصلہ لے۔
تفصیل کے مطابق باغی ممبر چودھری شریف و دیگر کی جانب سے محمود پراچہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے اسٹے کی مخالفت کی لیکن عدالت نے ان کی دلیل خارج کرتے ہوئے وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کی رٹ پٹیشن پراگلی سماعت تک کے لیئے اسٹے جاری کردیا۔غور طلب ہے کہ وقف بورڈ نے اپنے باغی ممبران میں سے کچھ کے خلاف ان کی ممبری ختم کیے جانے کی درخواست دے رکھی ہے جو حکومت کے پاس زیر التوا ہے۔بورڈ کا کہنا ہے کہ چودھری شریف متولی کے کوٹے سے وقف بورڈ کے ممبر تھے اور اب وہ متولی نہیں ہیں،علاوہ ازیں چودھری شریف لگاتار 11بورڈ میٹنگوں سے غیر حاضر ہیں،وہ بورڈ آفس تو اکثر آتے ہیں لیکن میٹنگ والے دن غیر حاضر رہتے ہیں اس لیے وقف ایکٹ 1995کے سیکشن 16کے تحت وقف بورڈ سے ان کی ممبری ختم کی جائے جبکہ سابق ایم پی کوٹہ سے بورڈ ممبر پرویز ہاشمی نے آج تک وقف بورڈ کی کسی میٹنگ میں شرکت نہیں کی اس لیے وقف ایکٹ کے سیکشن 14کے ذیلی سیکشن 2کے تحت ان کی ممبری ختم کردی جائے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے یہ دونوں پرزنٹیشن27-12-21 اور 07–03-22 کو دہلی حکومت کو دی ہوئی ہیں۔یہ دونوں معاملے ابھی تک دہلی حکومت کے پاس زیر التوا ہیں اس لیے امانت اللہ خان نے تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ لینے سے قبل ان مذکورہ دونوں معاملوں کا تصفیہ کرنے کی درخواست عدالت عالیہ سے کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے اگلی سماعت تک کے لیi اسٹے جاری کردیا۔