وائس چانسلرطارق منصور استعفیٰ دیں: محمد ادیب

0

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس کی بربریت کے خلاف رد عمل کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق صدر محمد ادیب نے اے ایم یو میں ہوئی پولیس بربریت کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ محمد ادیب نے اے ایم یو کے وائس چانسلر اور انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ علی گڑھ سے وابستہ افراد پوری دنیا میں موجود ہیں۔ ان لوگوں کو چاہئے کہ آواز اٹھائیں اور وی سی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کا سوشل بائیکاٹ کریں۔ انہوں نے کہاکہ وائس چانسلر کو طلبا کا رہنما، محافظ اور والدین کی حیثیت حاصل رہتی ہے ، لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور اور انتظامیہ نے باضابطہ تحریری طور پر پولیس اہلکاروں کو ہاسٹلوں میںآنے کی اجازت دی ۔ یہ اے ایم یو کی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا۔ جب پولیس کو اندر آنے کی اجازت دی گئی۔ جس کے بعد پولیس نے طلبا پر مظالم کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے انہیں بے رحمی سے مارا پیٹا ان پر فائرنگ کی۔ جس کی وجہ سے ایک بچے کا ہاتھ ختم ہوگیا اور درجنوں بچے زخمی ہوگئے۔ سب سے ستم گر بات یہ ہوئی کہ لڑکیوں کو ایک بجے رات میں ہاسٹل خالی کرنے کے لیے کہاگیا ۔ ایسے میں کشمیر اور آسام کے طلبا و طالبات کیا کرتے، کشمیر کے راستے بند ہیں اور آسام جل رہا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ 20بچوں پر دفعہ 307 کے تحت معاملہ درج ہوا ہے۔ ایسے حالات میں بچوں کی مددکرنی چاہئے تھی ، صرف تعطیلات کا اعلان کرنا بچوں کے مسائل کا حل نہیں تھا۔ایک دن میں 16000 ہزار بچوں کو یونیورسٹی احاطہ چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا اور جو بچے رہ گئے تھے، انہیں بھوکے رہنا پڑا کیوں کہ ہاسٹل میں کھانا تیار کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ ان حالات کے سبب بچوں کو بہت زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے مزید کہاکہ جے پرکاش نارائن تحریک کے بعد مجھے ایسا لگا کہ اس کی روح اب بھی زندہ ہے۔ اور اس میں سب سے اہم کردار جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کا رہا ہے۔ ہمارا ملک ظالموں کی گرفت میں ہے، جو اپنے ہی ملک میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہے کہ ہمارا نوجوان نہ تو احمق ، نہ ہی اندھا ہے اور ملک بھر میں مظاہروں کی میزبانی کر رہا ہے ۔ مجھے فخر ہے کہ ابتداءجامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ قومی مسائل پر آواز اٹھائی جائے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری قوم نہ ہی طلاق ثلاثہ پر سامنے آئی، نہ ہی 370کے خاتمے پر سامنے آئی اور نہ ہی بابری مسجد اراضی پر سامنے آئی، لیکن جب ملک کی مشترکہ وراثت خطرے میں آئی تو سبھی متحد ہوکر سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS