اوپیک پلس کے فیصلہ سے امریکہ-سعودی تعلقات خطرہ میں

0

ڈاکٹر محمد ضیاء اللّٰہ

اوپیک پلس کے وزراء برائے پٹرول و انرجی کی جو میٹنگ 5 اکتوبر کو آسٹریا کی راجدھانی ویانا میں منعقد ہوئی تھی اس میں سبھی 23 ممبر ممالک نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ لیا تھا کہ اگلے مہینہ نومبر سے مجموعی طور پر بیس لاکھ بیرل یومیہ کے حساب سے پٹرول کی پیداوار میں کمی کی جائے گی۔ کورونا کے بعد سے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں پٹرول کی پیداوار میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اوپیک پلس کا یہ فیصلہ کوئی جذباتی معاملہ نہیں تھا اور نہ ہی اس کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا تھا۔ ممبر ممالک نے خود اس فیصلہ کی وجوہات کی طرف واضح الفاظ میں اشارے کئے ہیں۔ اوپیک ہلس کے بیان کے مطابق عالمی اقتصاد کے افق پر اور پٹرول کے بازار میں بے یقینی کے جو آثار نظر آ رہے ہیں اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ ایک طویل مدتی پروگرام تیار کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پیداوار میں کمی کا اعلان اچانک طور پر بھی نہیں کیا گیا ہے کیونکہ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کی امید پہلے سے ہی کی جا رہی تھی کہ پانچ لاکھ بیرل فی دن کے حساب سے پٹرول کی پیداوارا میں کمی کی جا سکتی ہے۔ البتہ روس کی جانب سے یہ خبریں موصول ہو رہی تھیں کہ وہ دس لاکھ بیرل یومیہ کے حساب سے پیداوار میں کمی کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن جب اوپیک پلس کے ممبر ممالک کا یہ فیصلہ سامنے آگیا کہ بیس لاکھ یومیہ کے حساب سے پٹرول کی پیداوار میں کمی ہوگی تو یوروپین ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ کو سب سے بڑا دھچکا لگا کیونکہ امریکہ کی جانب سے لگاتار سعودی عرب اور دیگر تیل پیدا کرنے والے حلیف ممالک پر دباؤ بنایا جا رہا تھا کہ وہ تیل کی پیداوار میں کمی نہ کریں ورنہ عالمی منڈی کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔ امریکہ کے اس دباؤ کا کوئی اثر سعودی عرب پر نہیں پڑا اور اس طرح بائیڈن ادارہ کی دقتیں بڑھ گئیں۔ امریکہ نے اوپیک پلس کے اس فیصلہ پر اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا اور وہائٹ ہاؤس سے لگاتار ایسے بیانات جاری ہونے لگے جو دھمکی آمیز تھے۔ مثلاً وہائٹ ہاؤس کا ایک بیان یہ جاری ہوا کہ اوپیک نے تیل کے بازار پر جو اپنا تسلط قائم کر لیا ہے وہ عالمی منڈی کے لئے مفید نہیں ہے اور دنیا سے امریکہ نے یہ وعدہ بھی کر لیا کہ وہ اوپیک کے چنگل سے اسے آزاد کروائے گا۔ امریکہ نے تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلہ کے لئے بنیادی طور پر سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اسے سخت تنقید اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا ہے اور وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کارین جین پیئر کے بقول سعودی عرب نے روس کے ساتھ کھڑے ہونے کی جسارت کی ہے۔ گویا کہ امریکہ نے ایک لکیر کھینچ دی جس میں ایک طرف روس اور اوپیک پلس ممبر ممالک کھڑے کر دیئے گئے جبکہ دوسری طرف امریکہ اور یورپ یوکرین کے ساتھ کھڑے دکھائے گئے۔ ظاہر ہے کہ یہ نہایت بچکانہ بیان ہے اور امریکہ جیسے سْپر پاور کو زیب نہیں دیتا ہے۔ دراصل امریکی جھلاّہٹ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اوپیک پلس نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا ہے جب کہ بائیڈن ایڈمنسٹریشن کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ فطری طور پر جب عالمی منڈی میں انرجی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تو اس کی وجہ سے امریکی بازار میں بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جس کا سیدھا اثر غذائی مواد، ٹرانسپورٹ اور ایکسپورٹ کے وسائل کی قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں نکلے گا۔ اسی طرح ضیافت اور سروس سیکٹر کے علاوہ سفر و سیاحت کے لئے بھی امریکیوں کو زیادہ سے زیادہ پیسے خرچ کرنے ہوں گے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو گا جب کہ امریکی اقتصاد میں مہنگائی کی شرح لگاتار بڑھ رہی ہے اور انٹریسٹ کی شرح میں اضافہ کی وجہ سے چیزوں کی قیمتیں پہلے ہی آسمان چھو رہی ہیں۔ جس کے نتیجہ میں امریکیوں کو مزید اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے لئے یہ اچھی خبر نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ اگلے ہی مہینہ یعنی نومبر میں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات عمل میں آنے والے ہیں جہاں اقتصادی مسائل نے پہلے ہی سے امریکی عوام کے سر پر ڈیرہ جما رکھا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 30 فیصد ووٹ دہندگان کے نزدیک شرح مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے جبکہ 22 فیصد رائے دہندگان اسقاط حمل سے متعلق قانون کے خلاف اپنے غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد صحت عامہ اور ہجرت کے مسائل کو دھیان میں رکھ کر بھی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے والوں کی خاصی تعداد ہے۔ ایسے پس منظر میں امریکی صدر کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ اوپیک پلس کے فیصلہ سے ان کی پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ اس کے سیدھے اثرات امریکی عوام کی خرید و فروخت کی صلاحیت پر پڑیں گے اور اسی لئے جو بائڈن سعودی عرب اور دیگر حلیف ممالک پر دباؤ بنا رہے تھے کہ کم از کم ایک مہینہ تک رک جائیں اور اس کے بعد کوئی فیصلہ لیں۔ البتہ جب اوپیک پلس نے امریکہ کے اس مطالبہ کا دھیان نہیں رکھا تو امریکی اڈمنسٹریشن کا غصہ ابل پڑا۔ خود امریکی صدر نے سی این این کو دیئے گئے اپنے بیان میں یہ کہہ ڈالا کہ سعودی عرب نے جو موقف اختیار کیا ہے اس کے نتائج اسے بھگتنے ہوں گے۔ سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات کو بھی نشانہ بنایا گیا لیکن بنیادی طور پر دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک سعودی عرب کو سخت سست کہا گیا۔ یہاں تک کہ امریکی اعلیٰ افسران نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات کو ختم کرنے اور اسٹریٹجک معاہدوں سے بائر نکل آنے کی بھی دھمکیاں دے ڈالیں۔ البتہ اس پورے معاملہ میں سعودی عرب اپنے اس موقف پر قائم رہا کہ یہ صرف اس کا اپنا فیصلہ نہیں ہے بلکہ تمام ممبران نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ لیا ہے۔ سعودی عرب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اوپیک اور اوپیک پلس کا فیصلہ کسی سیاسی بازی گری پر مبنی نہیں ہے اور نہ ہی وہ تیل کے ذخائر کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے جونیئر وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بھی ایک امریکی چینل کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں اس کی وضاحت کی کہ یہ معاملہ خالص اقتصادی نوعیت کا ہے۔ سعودی عرب نے امریکہ کے اس الزام کو بھی خارج کر دیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ مل کر کوئی محاذ آرائی کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر آج ہم پر روس کے ساتھ موافقت کا الزام لگایا جا رہا ہے تو یاد رکھنا چاہئے کہ 2020 میں جب دنیا کی منڈی میں تیل کی پیداوار میں اضافہ کی ضرورت تھی تو سعودی عرب نے روس کے دباؤ اور اعتراض کو برطرف رکھتے ہوئے تیل کی پیداوار میں اضافہ کا فیصلہ لیا تھا۔ اس وقت بھی امریکہ کی حمایت اور روس کی مخالفت کا پہلو پیش نظر نہیں تھا جس طرح اس وقت تیل کی پیداوار میں کمی کرنے کا فیصلہ امریکہ یا یوروپی ممالک کے مفاد کے خلاف اقدام نہیں ہے۔ بلکہ اس کا واحد مقصد دنیا کی اقتصادی منڈی میں توازن کو برقرار رکھنا ہے اور یہ ڈیمانڈ و سپلائی کے اصولوں کو دھیان میں رکھ کر کیا گیا فیصلہ ہے۔ اگر اس وقت تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ نہیں لیا جاتا تو قیمتوں میں سخت گراوٹ آ جاتی جو تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لئے مفید نہیں ہوتا۔
ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ عالمی اقتصاد پھر کساد بازاری کی طرف بڑھ رہا ہے اور آئندہ مارکیٹ میں اس قدر تیل کی ضرورت نہیں ہوگی جتنی آج ہے اس لئے یہ کمی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اگر اس فیصلہ سے امریکہ کی داخلی سیاست پر اثر پڑتا بھی ہے تو صرف امریکی عوام کے مفاد کی خاطر پوری دنیا کے اقتصاد کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات کے خاتمہ کا سوال ہے تو یہ قطعاً ممکن نہیں ہے کیونکہ دونوں ممالک یکساں طور پر ایک دوسرے پر منحصر ہیں بلکہ بعض اعتبار سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کو سعودی عرب کی ضرورت زیادہ ہے۔ اگر مزید دباؤ اس پر ڈالا گیا تو جان بوجھ کر اپنے خلیجی حلیفوں کو روس و چین کی گود میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا اور اسی لئے امریکہ کے کئی دانشوران اور ریپبلکن پارٹی کے لیڈران جو بائیڈن کی سعودی مخالف بیان بازی پر برہم نظر آ رہے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس کے برے نتائج امریکہ کو بھگتنے ہوں گے اور جس کا پہلا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس خطہ میں ایران کو تقویت مل جائے گی جو ہرگز امریکی مفاد میں نہیں ہوگا۔ معاملہ جو بھی ہو لیکن امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دباؤ ڈال کر پالیسی بدلوانے کا دور اب ختم ہوچکا ہے۔ جب تک ایک دوسرے کے مفاد کا خیال نہیں رکھا جائے گا تب تک یہ تعلقات کارگر نہیں ہوں گے۔ امریکہ کو اپنے حلیفوں کے ساتھ احترام اور بقاء باہم کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر ہی کام کرنا ہوگا ورنہ اس کا مستقبل مشرق وسطیٰ میں ہمیشہ کے لئے تاریک ہوجائے گا۔
مضمون نگار سینٹر فار انڈیا ویسٹ ایشیا ڈائیلاگ کے وزیٹنگ فیلو ہیں