سر سید احمد خان کی فکری معنویت آج بھیبرقرار

0

ڈاکٹر ریحان اختر

سرسید احمد خان کا شمار انیسویں صدی کے ان مصلحین و مفکرین میں ہوتا ہے جن کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، آپ ایک عظیم دانشور، ایک روشن خیال اور دوراندیش ماہر تعلیم، ایک شاندار ادیب، ایک علمی و سماجی مصلح، ایک ہمہ گیر و بلند خیال مصنف ،جدید علم کلام کے بانی، ایک نڈر صحافی، سیکولرازم اور ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی، جدید ہندوستان کے ممتاز معمار، قومی رہنما اور مسلم نشاۃ ثانیہ کے علمبردار تھے۔ آپ 17 اکتوبر 1817 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ دستور زمانہ کے مطابق عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد اپنے خالو مولوی خلیل اللہ سے وکالت سیکھی اور پھر اسی میدان میں محنت اور ایمانداری سے سر کاری خدمات انجام دیں۔ سر سید متنوع شخصیت کے مالک تھے اپنی زندگی میں انہوں نے تعلیمی ، سیاسی، ادبی، تحقیقی ہر قسم کی علمی اور قومی مشغولیت کو اپنی زندگی کا اہم حصہ بنایا اور ہر میدان میں اپنے دیر پا اثرات چھوڑے ہیں ، بات اگر اردو زبان و ادب کی کی جائے تو آپ کی ذات گرامی اولین معماروں کی صف میں کھڑی ہوئی نظر آتی ہے، وہیں اگر تعلیمی معاملات کا ذکر ہو تو علی گڑھ تحریک کی اہمیت و افادیت و خدمات سے کسی کو انکار نہیں ، غرض کہ علم و عمل کے ہر میدان میں اس عظیم سپوت نے مستقل یادگار چھوڑی ہیں۔ سرسید کے کارنامے و خدمات کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر سیکڑوں کتابیں و رسائل ضبط تحریر میں لائے گئے۔ اس تحریر میں سر سید کے ان افکار و خیالات کو ذکر کیا جائے گا جو موجودہ دور سے پوری پوری مطابقت رکھتے ہیں اور جن کی آج اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ سر سید کے عہد میں تھی اور جن کی معنویت رہتی دنیا تک رہے گی۔
سر سید کی پیدائش اس دور میں ہوئی جب مغل حکومت اپنے آخری سالوں کو گن رہی تھی اور اس سلطنت کا چراغ بجھنے کو تھا، انگریز حکومت کا ہندوستان پر پورے طور پر تسلط و قبضہ ہو نے کو تھا اور ملک میں جنگ آزادی کی مہم چھڑی ہوئی تھی، 1857 میں جب آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو شکست ہوئی اور مغلیہ سلطنت کا بالکلیہ خاتمہ ہوا تو اس جنگ میں مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان بھی انہیں کے حصے میں آیا۔ انگریز اس کے بعد مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن بن گئے جس سے مسلمانوں کی زندگی دشوار سے دشوار ہوتی چلی گئی ، نہ جانے کتنے ہی مسلمانوں کو سزائے موت ہوئی، ان کے گھر ، مال و دولت ، زمین جائیداد سب کچھ چھین لیا گیا اور روزگار کے تمام مواقع و راستے مسدود کر دئے گئے ، جو قوم صدیوں سے معزز تھی وہ ایک دم سے ذلت و پستی کی غار میں پہنچ چکی تھی جس سے بآسانی نکلنا دشوار تھا۔ ان پر خطر و پر آشوب حالات میں سر سید ہمیشہ اسی فکر اور تلاش میں رہتے کہ کیسے مسلمانوں کو ان حالات سے نکال کر ان کے مستقبل کو تابناک بنایا جائے ؟ چنانچہ سر سید کے تدبر و تفکر نے ان مسائل کا یہ حل تلاش کیا کہ قوم کی حالت کو اگر بہتر بنایا جا سکتا ہے تو یہ صرف ان کے اندر تعلیمی بیداری کو عام کر کے ہی ہو سکتا ہے، آپ کا خیال تھا کہ مسلمانوں کے زوال کا جو سب سے بڑا سبب ہے وہ در اصل تعلیم سے دوری ہے اپنے دور کی مسلمانوں کی تعلیمی و اخلاقی زبوں حالی کاجو نقشہ سر سید نے کھینچا ہے وہ ان ہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔ فرماتے ہیں ’اگر ہماری قوم میں صرف جہالت ہوتی تو چنداں مشکل نہ تھی مشکل تو یہ ہے کہ قوم کی قوم جہل مرکب میں مبتلا ہے۔‘شرفا اور معزز گھرانوں کے علمی افلاس کے تعلق سے سر سید کہتے ہیں ’ہمارے ملک کے شرفاکی حالت موجب ذلت و رسوائی ہے جب ہم ان نامی گرامی خاندانوں پر نظر ڈالتے ہیں جو ایک زمانے میں معدن علم و ہنر اور مخزن فضل و کمالات تھے تو اب وہی خاندان سب سے زیادہ تنگ و عار معلوم ہوتے ہیں اور جن لوگوں کے آبا و اجداد نے صرف علم و عقل کے سبب سے کبھی شرف حاصل کیا تھا وہی لوگ اب علم و عقل سے بے بہرہ ہیں ۔‘ سر سید کے نزدیک مسلمانوں کی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ مسلمان اگر تعلیم حاصل کرتے بھی تھے تو وہی قدیم طرز تعلیم اور نصاب کو پڑھتے تھے ان کے خیال میں اس طرز تعلیم سے اب کوئی فائدہ نہیں اس سے نہ ملک کا بھلا ہوگا اور نہ مسلمانوں کو کوئی فائدہ پہنچے گا، ان کا کہنا تھا کہ اگر سوسائٹی میں ترقی کرنی ہے تو ہائر ایجوکیشن کو حاصل کرنا ہوگا چناچہ 1887 میں لکھنؤ کی تقریر میں سر سید نے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا ’جو چیز تم کو اعلیٰ درجہ پر پہنچانے والی ہے وہ ہائر ایجوکیشن ہے جب تک ہماری قوم میں ایسے بزرگ پیدا نہ ہوں گے ہم ذلیل رہیں گے ،اوروں سے پست رہیں گے اور اس عزت کو نہیں پہنچیںگے جس پر پہنچنے کو ہمارا دل چاہتا ہے ‘سر سید ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہو یوروپین سائنس اور یوروپین ادب میں خوب خوب ترقی کریں اور مزید اگر ہو سکے تو کیمبرج اور آکسفورڈ کا رخ کریں۔ آپ کے خیال میں تعلیم کا مقصد صرف علم حاصل کرنا ہی نہیں تھا بلکہ آپ کہتے تھے کہ تعلیم در اصل اس وقت تک تعلیم نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کے ساتھ تربیت کو شامل نہ کر لیا جائے بغیر تربیت کے تعلیم کے حصول کو سر سید گدھوں سے تشبیہ دیتے تھے ،اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں ’عزیزو تعلیم اگر اس کے ساتھ تربیت نہ ہو اور جس تعلیم سے قوم قوم نہ بن سکے وہ تعلیم در حقیقت کچھ قدرے لائق نہیں ، بس انگریزی پڑھ لینا اور بی اے ، ایم اے ہو جانا جب تک کہ اس کے ساتھ تربیت اور قومیت کی فیلنگ نہ ہو قوم کو قوم اور ایک معزز قوم نہیں بنا سکتی ۔‘
سر سید نے اپنی دور بینی و دور اندیشی سے محسوس کر لیا تھا کہ تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت کے لیے کسی سوسائٹی یا ادارہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ نے متعدد سوسائٹی اور تنظیموں کی بنیاد ڈالی۔ انہیں میں سے ایک تحریک ’علی گڑھ تحریک‘ کے نام سے موسوم ہے جس کے کچھ مقاصد تھے۔ ایک تو یہ تھا کہ مسلمان جو قدامت پرستی کے دلدل میں پھنسے ہوئے تھے ان کو اس سے نکال کر جدید علوم و فنون کے حصول کی طرف متوجہ کرنا تھا کہ مغربی قومیں ان کو سیکھ کر دنیا میں ترقی کے منازل طے کر رہی ہیں اور ہماری قوم پستی کا شکار ہو رہی ہے۔ ایک دوسرا مقصد اس تحریک کا یہ تھا کہ ایک زمانے سے مسلمانوں کے اخلاق و معاشرت میں جو بگاڑ پیدا ہو گیا تھا ان کی اصلاح کی جائے۔ سر سید کی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز در اصل 1857 کے غدر سے ہوتا ہے ، آج جب ہم لفظ سیاست کو سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں وہ منظرنامہ گردش کرتا ہے جس پر آج سیاست کا اطلاق ہوتا ہے۔ مثلاً ظلم و زیادتی، جھوٹ ،دھوکا فریب، بد عنوانی لیکن دراصل سیاست کا اصل مفہوم تو وہ ہے جس کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے سر سید نے راتوں کی نیند اور دن کا آرام قربان کیا اور لوگوں کے طعنے، گالیاں اور نہ جانے کیا کیا برداشت کیا۔ غدر کے بعد سر سید کو یقین ہو گیا تھا کہ اگر انگریز حکومت کا مسلمانوں کے ساتھ یہی دشمنی والا رویہ رہا تو قوم مزید پستی کے دلدل میں چلی جائے گی لہٰذا سر سید مصلحت کا دامن پکڑے ہوئے حکومت کے ساتھ تعلق استوار کرنے کے تئیں منظم منصوبہ بندی کرتے رہے چنانچہ مسلمانوں کے تئیں انگریز بدگمانی کو دور کرنے کے لئے 1858 میں ’سرکشی ضلع بجنور‘ کتاب اور 1859 میں ’اسباب بغاوت ہند‘ نامی ر سالہ تصنیف کیا تاکہ حکومت کو معلوم ہو جائے کہ بغاوت کے اصل اسباب کیا تھے چنانچہ سرسید اپنے اس مشن میں کامیاب ہوئے اور مصلحت پسندی کے ساتھ انگریز حکومت کے تعاون سے اپنے مشن کو جاری رکھا جس پر ان کو انگریز حکومت کا غلام جیسے نازیبا الفاظ سے مطعون کیا گیا۔ اس تعلق سے سرسید کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمان جس پستی میں ہیں اس سے نکلنے کا واحد راستہ انگلش گورنمنٹ کی بدولت ہی تلاش کیا جا سکتا ہے، گویا ان کا خیال یہ تھا کہ حکومت وقت کا تعاون کسی بھی قوم کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔سرسید اس سے اتفاق نہیں رکھتے تھے کہ مسلمان باقاعدہ کسی سیاست کا حصہ بنے یا کوئی سیاسی تنظیم قائم کریں کیونکہ غدر کے بعد مسلمانوں کی حالت دیکھ کر انہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ ان کے لئے کسی سیاسی تحریک میں شامل خطرے سے خالی نہیں ہے۔ سر سید نے آپسی بھائی چارہ، پیار محبت کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا ہے آپ ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے وہ پہلے ایسے دانشور اور مفکر ہیں جنھوں نے علاقائی قومیت کا تصور پیش کیا وہ کہتے تھے ’ہندوستان کے تمام باشندے خواہ ان کا تعلق کسی بھی ذات یا مذہب سے ہو وہ سب ایک قوم ہیں ‘ آپ کے اس تصور قومیت میں بھی بھائی چارگی کا جوہر مضمر ہے کہ ہندوستان جیسی سرزمین جہاں سب سے زیادہ ہندو اور اسلام دھرم کے ماننے والے اور پیروکار ہیں ان میں آپسی بھائی چارگی انتہائی اہمیت کی حامل ہے آپ کی متعدد تقاریر ہیں جن میں انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے۔ 1883میں پٹنہ کی تقریر میں آپ نے فرمایا تھا کہ ہم نے ہندوستان کو اپنا وطن سمجھ لیا ہے اسی کی ہوا سے ہم دونوں جیتے ہیں مقدس گنگا جمنا کا پانی ہم پیتے ہیں ہندوستان کی زمین کی پیداوار ہم کھاتے ہیں آگے کہتے ہیں کہ ہندوستان ایک دلہن کی مانند ہے جس کی دو خوبصورت آنکھیں ہندو اور مسلمان ہیں اگر وہ آپس میں نفاق رکھیں گے تو وہ پیاری دلھن بھینگی ہو جائے گی۔
سر سید کے دور میں بہت سے لوگوں کو ان کے افکار و نظریات سے شدید اختلاف بھی رہا ہے لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو افکار و خیالات سر سید نے پیش کئے ہیں آج بھی ان کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی آپ کے عہد میں تھی اور رہتی دنیا تک رہے گی ، معاشرت و اخلاق کی اصلاح کی ضرورت جس طرح اس دور میں تھی موجودہ دور میں تو اس سے کہیں زیادہ نظر آتی ہے۔ سرسید ان لوگوں میں سے نہیں تھے کہ جو قوم کی ناگفتہ بھی حالات پر چند آنسو بہا کر یا چند رسائل تصنیف کر کے بیٹھ جائے بلکہ سر سید نے وہ سب کارنامے سر انجام دئے کہ جو قوم کی ترقی کے ضامن ہوں، اپنے آنسو بھی بہائے،کتابیں تصنیف کیں، اور تقاریر بھی کیں۔ آج بھی حالات کم و بیش ایسے ہی نظر آتے ہیں اگر آج تعلیم کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے تو وہیں ہم اخلاقی زبوں حالی اور پستی کا شکار ہیں،آپسی بھائی چارگی، پیارمحبت سماج و معاشرے میں مفقود نظر آتی ہے۔ صحیح معنیٰ میں آج کے حالات میں سرسید کے افکار و خیالات کو اپنانے کی زیادہ ضرورت ہے، موجودہ دور کے منظر نامے کو دیکھ کر دل میں بس یہی خواہش ہوتی ہے کہ اے عظیم مصلح آپ کو اس وقت ہمارے بیچ میں ہونا چاہیے تھا موجودہ ہندوستان اور قوم کو آپ کی اشد ضرورت ہے۔
[email protected]