غیرپارلیمانی الفاظ : فضول بحث

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

پارلیمنٹ کی تقاریر میں ارکان پارلیمنٹ کون سے الفاظ کا استعمال کر سکتے ہیں اور کون سے نہیں، یہ بحث ہی اپنے آپ میں فضول ہے۔ قابل اعتراض الفاظ کون کون سے ہو سکتے ہیں، ان کی فہرست 1954 سے اب تک کئی بار لوک سبھا سکریٹریٹ شائع کرتا رہا ہے۔اس بار جو فہرست شائع ہوئی ہے، اس کے تعلق سے کانگریس کے لیڈر الزام لگا رہے ہیں کہ یہ فہرست ایسے الفاظ سے بھری ہوئی ہے جو وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے لیے اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کے ذریعہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ جیسے جملہ جیوی، آہنکاری، تاناشاہی وغیرہ۔ دوسرے الفاظ میں پارلیمنٹ تو پورے ہندوستان کی ہے لیکن اب اسے بی جے پی اور مودی کے نجی ادارے کی شکل دی جارہی ہے۔اپوزیشن لیڈروں کا یہ الزام بظاہر درست معلوم ہوتا ہے لیکن اس میں مبالغہ آرائی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے واضح طور پر کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں بولے جانے والے کسی بھی لفظ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تمام الفاظ بولے جا سکتے ہیں لیکن اسپیکر جن الفاظ اور جملوں کو قابل اعتراض سمجھیں گے، انہیں وہ کارروائی سے ہٹوا دیں گے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ان الفاظ کی فہرست جاری کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے، کیونکہ ہر لفظ کا مفہوم اس کے آگے پیچھے کے سیاق و سباق سے ہی واضح ہوتا ہے۔ اس معاملے میں اسپیکر کا فیصلہ ہی حتمی ہوتا ہے۔ کوئی لفظ توہین آمیز ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ نہ تو کوئی کمیٹی کرتی ہے اور نہ ہی ووٹنگ سے طے ہوتا ہے۔ بہت سے الفاظ کے ایک نہیں بلکہ کئی معنی ہوتے ہیں۔ 17ویں صدی کے عظیم شاعر بھوشن کی کویتاؤں میں ایسے متعدد معانی والے الفاظ کا استعمال دیکھنے کے لائق ہے۔ تقریر کرتے وقت مقرر کی نیت کیا ہے، اس پر منحصر کرتا ہے کہ اس لفظ کا کیا مطلب اخذ کیا جانا چاہیے۔ اسپیکر اوم برلا نے اسی بات کو دہرایا ہے۔ ایسی صورت حال میں روزانہ استعمال ہونے والے سیکڑوں الفاظ کو قابل اعتراض کے زمرے میں ڈالنا کہاں تک مناسب ہے؟ جیسے جملہ جیوی، بال بدھی، شکونی، جئے چند، چنڈال چوکڑی، پٹھو، اُچکّا، گل کھلائے، دلال، سانڈ، انٹ-شنٹ، تلوے چاٹنا وغیرہ! اگر پارلیمانی سکریٹریٹ کی طرف سے پروموٹ کیے گئے ان نام نہاد ’قابل اعتراض‘ الفاظ کا استعمال نہ کیا جائے تو پارلیمنٹ میں کوئی بھی تقریر مکمل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اتنے سارے الفاظ کی فہرست جاری کرنا بے معنی ہے۔ہاں، تمام اراکین پارلیمنٹ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی تقریروں میں وقار اور شائستگی کو برقرار رکھیں۔ کسی کے خلاف گالی گلوچ، توہین آمیز اور فحش الفاظ کا استعمال نہ کریں۔ جن الفاظ کو ’غیر پارلیمانی‘ قرار دیا گیا ہے، ان کا استعمال ہمارے روزمرہ کے بیانات، اخبارات اور ٹی وی چینلز اور ادبی مضامین میں باقاعدگی سے ہوتا رہتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا یہ پارلیمانی وقار کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جائے گا؟ اس طرح کی فہرست شائع کرکے کیا پارلیمنٹ اپنی ساکھ کو مضحکہ خیز نہیں بنا رہی ہے؟ ہندوستان کو برطانیہ یا امریکہ کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ممالک قابل اعتراض الفاظ کی فہرست جاری کرتے ہیں تو کیا ہم بھی ان کی نقل کریں، یہ ضروری ہے؟ اس معاملے میں ہمارے حکمراں اور اپوزیشن لیڈر ایک فضول کی بحث میں تو-تو- میں- میں کر رہے ہیں۔
(مصنف ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]