بے لگام گرانی، زبردست بے روزگاری اور

اندھا دھند نجکاری ملکی معیشت کو کھوکھلا کر رہے ہیں

0

عبیداللّٰہ ناصر

ملک کی اقتصادی حالت پر لفاظی، پبلسٹی اور دروغ گوئی کے ذریعہ لاکھ پردہ پوشی کی کوشش کی جائے لیکن نہ صرف تلخ حقیقت عوام کے سامنے آجاتی ہے بلکہ وہ اس کا اپنی روزمرہ کی زندگی میں تجربہ بھی کر رہے ہیں۔اشیائے ضروری کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور آمدنی اس کے مقابلہ قریب قریب منجمد ہے۔ اگر سرکاری ملازمین کو چھوڑ دیا جائے جنھیں ہر ماہ ایک بندھی رقم بطور تنخواہ مل جاتی ہے تو سماج کا ہر طبقہ گرانی، محدود آمدنی اور زندگی کی دیگر تلخ حقیقتوں کا سامنا کر رہا ہے، یہی نہیں سرکاری ملازمین کا وہ طبقہ جو عوامی زمرہ کے اداروں میں ملازم ہے، اس کے سامنے نہ صرف گرانی اور محدود آمدنی کا مسئلہ کھڑا ہو گیا بلکہ حکومت جس تیز رفتاری سے نجکاری کر رہی ہے، اس سے ان کے سامنے روزی روٹی کا بھی مسئلہ کھڑا ہوگیا۔تاجر طبقہ پریشان ہے۔ ظاہر ہے کہ جب عوام کی آمدنی محدود ہے تو وہ اشیائے ضروری کے علاوہ اشیائے تعیش اور دیگر غیر ضروری خریداری سے اجتناب کر رہے ہیں۔ہم سب چشم دید گواہ ہیں کہ بڑی بڑی دکانوں، شو روموں اور مالوں میں دکاندار دن بھر خریداروں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔حکومت اور میڈیا دعوے کرتے ہیں کہ دیوالی میں اتنا سونا فروخت ہوا، اتنی کاریں فروخت ہوئیں، لیکن ان کے خریدار کون ہوتے ہیں یہ کبھی ظاہر نہیں کرتے۔ یہ خریدار سماج کا وہی طبقہ ہے جس کو موجودہ سیاسی اور اقتصادی نظام میں فائدہ مل رہا ہے اور یہ کون طبقہ ہے ہم آپ سب جانتے ہے۔حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس سہ ماہی میں جی ایس ٹی وصولیابی میں خاطرخواہ اضافہ ہوا تو کیا یہ اضافہ اصل خریدو فروخت سے ہوا ہے یا اشیا کے داموں میں اضافہ کی وجہ سے ہوا، یہ کبھی واضح نہیں کیا جاتا لیکن جانتے سب ہیں۔
حکومت کے ہی جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تھوک گرا نی کی شرح 30 سال کے سب سے بلند مقام پر ہے، ظاہر ہے کہ خردہ گرانی کی شرح بھی اسی حساب سے بڑھے گی یعنی عوام کو ابھی مزید برے دنوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ملک میں اس وقت زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جو بس کسی طرح اپنا گزر بسر کر رہے ہیں مزید گرانی بڑھی تو ان کی حالت کیا ہوگی سمجھا جا سکتا ہے۔حکومت نے عوام کی قوت خرید بڑھانے اور انھیں خود کفیل بنانے کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے بجائے انھیں مفت راشن دینے کی مہم شروع کی ہے، اس سے دو فائدے ہیں ایک تو عوام کو مفت خور بنا کے ان کا احساس مارا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی بدحالی کے خلاف بغاوت تو درکنار احتجاج کرنے کے بارے میں بھی نہ سوچیں، دوسرے فوری فائدہ حاصل کرکے وہ ووٹ بھی انہی کو دیں گے۔آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔اترپردیش میں چونکہ چند مہینوں میں ہی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اس لیے حکومت کی یہ دریادلی زیادہ زوروں پر ہے اور عوام کو مفت راشن کے ساتھ ہی ساتھ مفت ریفا ئنڈ آئل، نمک اور چنا بھی دیا جا رہا ہے اور یہ تقسیم جشن مناتے ہوئے جگہ جگہ کی جارہی ہے جس پر اربوں روپیہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے، جبکہ اترپردیش کا شمار خود نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق بہار اور جھارکھنڈ کے بعد ملک کی تیسری غریب ترین ریاستوں میں ہوتا ہے اور اس پر دس برسوں میں سب سے زیادہ قرض کا بوجھ ہے پھر بھی عوام کا پیسہ پبلسٹی اور مفت خوری پر بے دریغ خرچ ہورہا ہے۔
ہندوستان میں ما بعد کورونا ہر زمرہ میں ڈیمانڈ گری ہے، رئیل اسٹیٹ اور میڈیکل میں کچھ سدھار ضرور دکھائی دے رہا ہے۔ میڈیکل یعنی دوائیں خریدنا انسان کی مجبوری ہے اور گھر کی ضرورت تو سبھی کو ہے، ا س کے علاوہ دیہی علاقوں میں پردھان منتری آواس یوجنا کی وجہ سے تعمیرات کا کام رفتار پکڑ رہا ہے لیکن عام طور سے گھروں اور رہائشی پلاٹوں کی خریداری میں کوئی اضافہ نہیں نوٹ کیا جا رہا ہے۔یکم دسمبر سے موبائل ری چارج، دالوں، خوردنی تیل اور دیگر ضروری اشیاکی قیمتیں بڑھی ہیں، گیس سلنڈر بھی مہنگا ہوا ہے، پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں پانچ ریاستوں میں مجوزہ اسمبلی الیکشن کی وجہ سے اضافہ روک دیا گیا ہے لیکن مارچ اپریل میں الیکشن ختم ہوتے ہی سود بیاج سمیت اس میں اضافہ کا امکان ہے۔
ہندوستان ہی نہیں دنیا کے ہر ملک کی حکومت عوام سے حقائق چھپا تی ہیں لیکن اس بار یہ مرض ہمارے یہاں کچھ زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے اور فرضی اعداد و شمار سے شرح نمو میں اضافہ کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے جبکہ کورونا سے پہلے اور بعد کی شرح نمو میں اب بھی منفی85فیصد کی کمی ہے مثال کے طور پر قبل از کورونا کسی چیز کی بکری100یونٹ تھی کورونا میں گھٹ کر وہ 10یونٹ رہ گئی اور کورونا کے بعد وہ 15 فیصد ہو گئی تو کہنے کو تو یہ اضافہ ڈیڑھ گنا ہے لیکن اصل کمی تو اب بھی 85یونٹ کی ہے۔ حکومت یہی باریکی عوام سے پوشیدہ رکھ رہی ہے۔اس شرح نمو کے حساب سے معیشت کو 2018کی سطح پر آنے میں ایک دہائی کا وقت لگ سکتا ہے۔یہ درست ہے کہ بہت سے حالات حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ فضول خرچی، منصوبہ بندی اور دور اندیشی کے فقدان کی وجہ سے بہت سے مسائل الجھ گئے ہیں، ان حالات میں حکومت جو پانچ ٹریلین کی معیشت کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے وہ بس خواب ہی رہ جائے گا۔ حکومت ضروری اور تدارکی اقدام کرنے کے بجائے صرف لفاظی اور پبلسٹی کر رہی ہے، عوام کو مفت اناج دے کر اور میڈیا کو اشتہار دے کر مینیج کیا جا رہا ہے۔حکومت نے مانگ بڑھانے کے لیے جی ایس ٹی میں کمی سمیت کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے اورنہ ہی قرض دینے کے عمل میں کوئی ڈھیل دی ہے، ظاہر ہے جب تک مانگ نہیں بڑھے گی تب تک پیداوار نہیں بڑھے گی اور مانگ تبھی بڑ ھے گی جب عوام کی قوت خرید بڑ ھے گی۔عوامی زمرہ کے اداروں کی نجکاری اور ان کے حصص فروخت کر کے جو رقم آرہی ہے وہ پیداواری کاموں میں لگانے کے بجائے مفت غلہ بانٹ کر ووٹ خریدنے پر خرچ کی جا رہی ہے، اس طرح ایک طرف تو ملک کی معیشت کھوکھلی ہورہی ہے، دوسری طرف عوام کی روز مرہ کی زندگی تلخ سے تلخ ہوتی جا رہی ہے۔
اس تلخ حقیقت کا ہمیں اعتراف کرنا پڑے گا کہ حکومت کی لاپروائی، عدم توجہی اور غیر پیداواری کاموں میں عوامی خزانہ لٹانے کی اصل وجہ عوام کی بے بسی اور دھرم و راشٹر واد کی افیم کھا کر مست رہنا ہے۔نوٹ بندی، پھر بنا تیاری کے جی ایس ٹی کا نفاذ، کورونا کے دور کی لاپروائیوں اور اندھادھند نجکاری کے خلاف کہیں سے آواز نہ اٹھنے سے ہی حکومت اپنی من مانی کر رہی ہے اور اس کا سیاسی فائدہ بھی اٹھا رہی ہے۔ خدا بھلا کرے کسانوں کا جنہوں نے نئے زرعی قوانین کے خطروں کو سمجھا اور اس کے خلاف سینہ سپر ہوگئے اور ایک سال تک ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کیں، اپنے 700ساتھیوں کی قربانی پیش کی اور آخر سرکار کی ضد ، ہٹ دھرمی اور تکبر کو شکست دے کر نہ صرف زرعی قانون واپس کرائے بلکہ حقیقت میں ہماری غذائی آزادی کا تحفظ کیا ہے جسے مودی حکومت کارپوریٹ کے ہاتھ میں دینے کا منصوبہ بنا چکی تھی۔ عوامی زمرہ کے جن اداروں کی نجکاری کی گئی ہے، وہاں کا عملہ اور عوام اگر ایسے ہی ہمت اور قربانی کا جذبہ دکھاتے تو آج ملک معاشی طور سے کھوکھلا ہونے سے بچ سکتا تھا۔اب بینکوں کے ملازمین نے بینکوں کی نجکاری کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے، ہر زمرہ کے ملازمین ہی نہیں عوام بھی ان کی پوری حمایت کر کے حکومت کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر سکتے ہیں، ورنہ انجام یہی ہوگا کہ ہمارا جو پیسہ بینکوں میں جمع ہوگا وہ دھنا سیٹھوں کے کام آئے گا۔ ہمارے لیے ضرورت پر قرض ملنا تو درکنار خود اپنی جمع رقم بھی پوری طرح محفوظ ہوگی، یہ یقین کرنا بھی مشکل ہے۔ابھی حکومت نے بڑی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ اگر بینک دیوالیہ ہوئے تو آپ کو5 لاکھ تک کی رقم واپس مل جائے گی، بھلے ہی آپ کا پانچ کروڑ بینک میں جمع رہا ہو۔ نجکاری کے ان خطروں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بیدار عوام ہی حالات بدل سکتے ہیں۔
(مضمون نگار سینئر صحافی و سیاسی تجزیہ نگار ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS