یونانی طبی کانگریس کی وزیر اعظم سےیونانی کومناسب نمائندگی دینے کی درخواست

0

نئی دہلی، (یواین آئی) آل انڈیا یونانی طبی کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں درخواست کی ہے کہ طب یونانی کو قومی کمیشن برائے انڈین سسٹم آف میڈیسن (این سی آئی ایس ایم ) میں مناسب نمائندگی دی جائے مکتوب میں این سی آئی ایس ایم ایکٹ 2020 میں ضروری ترامیم کی درخواست کی گئی ہے۔
آل انڈیا یونانی تبی کانگریس کے قومی صدر پروفیسر مشتاق احمد نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تحریرکردہ ایک خط میں کہا ہے کہ این سی آئی ایس ایم ایکٹ 2020 کے ذریعے حکومت ہند کی طرف سے سینٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن کی جگہ نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن (این سی آئی ایس ایم) تشکیل دیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے اس میں طب یونانی کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ملک بھر میں طب یونانی سے وابستہ لوگوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔

خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آیوروید کے برعکس، کمیشن میں یونانی کے لیے کوئی الگ بورڈ نہیں بنایا گیا ہے اور اسے سدھ اور سووا رِگپا کے ساتھ ملا دیا گیا ہے، جو یونانی سے کم مقبول ہیں۔ جبکہ یہ بات عام ہے کہ سدھ اور سووا رِگپا کی موجودگی علاقائی ہے۔ اس کے برعکس، آیوروید کی طرح، طب یونانی پورے ملک میں رائج طب کا روایتی نظام ہے۔
مسٹر مشتاق نے کہا کہ این سی آئی ایس ایم کے تحت کمیشن میں چار آٹونومس بورڈز کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونانی کے 60 کالج، 100 اسپتال اور 1500 ڈسپنسریاں ہونے کے باوجود اس کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 11 اگست 2021 کو وزارت آیوش کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن اور بھی مایوس کن ہے کیونکہ اس نے کمیشن سمیت مختلف طریقہ علاج کے بورڈوں کے چیئرپرسنز کی تقرری میں یونانی کو نظر انداز کیا ہے۔ حتیٰ کہ یونانی، سدھ اور سووا رِگپا کے بورڈ صدور کا تقرر سدھ طریقہ علاج سے کیا گیا تھا۔ ان میں طب یونانی کے لوگوں کو کوئی قابل قدر مقام نہیں ملا، جبکہ یونانی میں ماہرین اور اہل افراد کی بڑی تعداد موجود ہے۔
2014 میں موجودہ حکومت کے مرکز میں آنے کے بعد سے آیوش طریقہ علاج کے لیے کیے گئے شاندار کام کی تعریف کرتے ہوئے، پروفیسر مشتاق نے وزیر اعظم مودی سے عاجزانہ درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں تاکہ یونانی کے ساتھ ہونےوالے سوتیلے برتاؤکو ختم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی این سی آئی ایس ایم میں سنگین خامیوں کو دور کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ترمیمی بل لانے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔