آئی ٹی قوانین میں ترمیم سوشل میڈیا کی آزادی پر حملہ: کانگریس

0

نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس نے جمعرات کو انفارمیشن ٹکنالوجی قوانین میں ترمیم کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں سوشل میڈیا میں اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا اور ان ترامیم کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کی۔
یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے میڈیا انچارج پون کھیڑا نے کہا کہ حکومت نے آئی ٹی (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ) رولز 2021 میں ترمیم کے مسودے کے لیے مشاورت کی مدت میں 25 جنوری تک کی توسیع کرکے بڑی چالاکی سے ایک دفعہ کو شامل کردیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے ذریعے طاقت کے گھمنڈ کی وجہ سے مودی حکومت سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے آمرانہ رویہ اپنا رہی ہے۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ اس دفعہ کے مطابق حکومت کے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی )کے فیکٹ چیکنگ یونٹ کی جانب سے کسی بھی خبر کو ‘جھوٹی، بے بنیاد یا جعلی’ قرار د یکر اس رپورٹ کو سوشل میڈیا، آن لائن ویب سائٹس اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ وزارت اطلاعات و نشریات کا پریس انفارمیشن بیورو کسی بھی آن لائن مواد کو باضابطہ طور پر ہٹا سکتا ہے جسے اسے نامناسب معلوم ہوتا ہے۔
مسٹر کھیڑا نے آئی ٹی رولز میں کی گئی تبدیلیوں کو انتہائی قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم سوشل میڈیا کی آزادی اظہار پر حملہ ہے اس لئے حکومت اسے فوری طور پر واپس لیکر پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں ان قوانین پر تفصیل سے بحث کرانی چاہئے۔
ترجمان نے کہا “اس اصول کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ جو رپورٹ وزیراعظم نریندر مودی کی شبیہ کے حق میں نہیں ہے، اب پی آئی بی کا فیکٹ چیکنگ یونٹ ان رپورٹس کو ہٹانے میں جج کے طور پر کام کرےگی ۔ حکومت کے آئی ٹی ڈرافٹ میں نئے رولز کے اضافے سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ بے ایمانی، بے رحمی اور بے حسی کے ساتھ اظہار رائے کو دبانے کا کام کر رہی ہے۔

کانگریس کے نیڈیا انچارج پون کھیڑا نے کہا کہ ان کی پارٹی پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ یہ ضابطہ سوشل میڈیا کو دیے گئے تمام تحفظات اور سیکورٹی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا’ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں آئی ٹی ْانون کے ضابطے میں دھوکہ دہی پر مبنی تبدیلیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
مسٹر کھیڑانے کہا کہ پی آئی بی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پی آئی بی پہلے ہی جھوٹ کو سچ کہہ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ٹویٹ پوسٹ میں پی آئی بی نے ایک ویڈیو میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو غلط دکھایا ہے۔
بھارت جوڑو یاترا سے متعلق ایک ویڈیو میں مسٹر گاندھی کو نجکاری سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ‘ریلوے اسٹیشن، ورکشاپس، طبی مراکز اور اداروں کی نجکاری کی جائے گی’۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ایک اور پوسٹ میں پی آئی بی نے اتر پردیش کی اسپیشل ٹاسک فورس کی جانب سے اپنے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو حفاظتی وجوہات کی بناء پر 52 چینی ایپس کو اپنے موبائل سے ہٹانے کی ہدایت دینے والی خبروں کو جعلی خبر قرار دیا حالانکہ یہ خبر درست تھی۔ اسی طرح 2 جون 2020 کو پی آئی بی نے لائن آف کنٹرول (ایل اے سی ) کے ہندوستانی حصے میں چینی فوجیوں کی موجودگی کا ‘انکار’ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہوا ہے۔ صرف دو ماہ بعد وزارت دفاع کی ایک دستاویز میں کہا گیا کہ چین نے مئی 2020 میں ہندوستانی علاقے میں گھس پیٹھ کرلیاتھا۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ اسی طرح کسان تحریک کے دوران کئی ٹویٹر یوزرس کو نشانہ بنایا گیا۔ سال 2021 میں دہلی پولیس نے 17 ایف آئی آر درج کیں اور وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرنے والے پوسٹرز کے لیے 15 لوگوں کو گرفتار کیا۔ دیہی علاقوں میں کام کرنے والے 50 سے زیادہ صحافیوں کو گرفتار کیا گیا یا ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔