عمیر انس: ہماری تعلیمی تحریکیں!

0

عمیر انس

بیحد خوشی کی بات ہے کہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک سنجیدہ تعلیمی تحریک جو قوم کے مستقبل کو بدلنے کی ضمانت دے،اس کے اندر کم از کم 4مسائل کو مخاطب کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے اور اگر نہیں ہے تو اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہ پانچ ضرورتیں اس لیے قابل ذکر ہیں کیونکہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ پوری دنیا بشمول مسلمان ایک چوتھے صنعتی انقلاب کے مرحلے میں ہے۔ ڈیمانڈ اور سپلائی، پروڈکٹ اور پروڈیوسر، مزدور اور محنت، بازار اور سرمایہ، اور ان سب کے انتظامات کے وہ تصورات جو جدید سرمایہ دارانہ معیشت کے آغاز میں قائم کیے گئے تھے، تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان میں لاکھوں انجینئر اپنے پروفیشن کی نوکری کرنے کے لیے نا اہل ہیں، یا اپنے پروفیشن کے باہر کام کرنے کے لیے مجبور ہیں یا معمولی تنخواہوں پر مزدوری کر رہے ہیں۔ ان لاکھوں میں وہ مسلمان بھی ہیں جنہیں ہمارے اداروں نے یہ سوچ کر تیار کیا تھا کہ انجینئرنگ بہتر معاشی مستقبل کی گارنٹی ہے۔
انٹرمیڈیٹ کی سطح تک اگر آپ سب سے اعلیٰ پرفارمنس کی صلاحیت نہیں رکھتے تو اسکول بند کردیں، خراب اسکول نسل کشی سے کم جرم نہیں ہے۔ اتر پردیش، بہار اور بنگال میں مسلمانوں کے انٹر کالجز کی بدحالی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے یہاں تک کہ حکومت کے زیر انتظام مسلم انٹر کالج اپنے طلبا کو اچھی تعلیم دینے میں ناکام ہیں۔آپ مسلمانوں کے سو انٹر کالجز کے نتائج دیکھیں اور ان کے بچوں کے مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کی شرح دیکھیں، آپ کو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کے زیر انتظام اسکول مسلمان بچوں کے مستقبل کو برباد کرنے کے لیے جیسے قائم ہوئے ہوں۔ اس لیے مسلمانوں کی تعلیمی بیداری کی پہلی توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ان کے اداروں کی کوالٹی بہتر کی جائے۔ مسلمان اسکولوں میں سائنس، ریاضی، جیسے مضامین کے اچھے اساتذہ نہیں ہونے کی وجہ سے ان کے بچے ان مضامین میں پیچھے رہ جارہے ہیں۔ دہلی، علی گڑھ جیسے مرکزی اداروں کو چھوڑ دیں تو ڈگری کالجوں کی حالت بھی کوئی حوصلہ افزا نہیں ہوگی، اس لیے پہلی ضرورت یہ ہے کہ جو مسلمان تنظیمیں تعلیمی تحریک چلا رہی ہیں وہ کوالٹی ایجوکیشن کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں، کیونکہ آج کے زمانے میں تعلیم کا مقصد صرف دستخط کرنے بھر کی تعلیم نہیں بلکہ بہت بڑے مقابلے کے لیے تیار کرنے والی تعلیم ہے۔
ایک معاشی وژن کے بغیر تعلیمی تحریکیں صحرا میں بھٹکتی رہیں گی۔مسلمانوں کی تعلیمی تحریکیں عموماً صرف اس مقصد کے تحت شروع کی جاتی ہیں، مسلمان تعلیم میں پسماندہ ہیں، لیکن اب جبکہ ایک بڑی تعداد بنیادی خواندگی حاصل کر چکی ہے تو سبھی طبقات اختصاص کی طرف اور معیاری تعلیم کی طرف متوجہ ہو چکے ہیں، غیر مسلموں کی بہتر تعلیمی تحریکیں اب خصوصی صلاحیتوں، کورسز اور میدان عمل کے لیے مہمات چلا رہی ہیں، مسلمانوں میں تعلیمی تحریکوں نے مسلمانوں کے معاشی مسائل کا جو تصور قائم کر رکھا ہے، وہ وہی پرانا نوکریاں حاصل کرنے والا ہے۔ سوچیں کہ جب حیدرآباد اور بنگلور میں ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب برپا ہو رہا تھا تب بھی وہاں کے مسلمان شمالی ہند کے مسلمانوں سے بہتر تھے لیکن انہیں بھی یہ بات سمجھنے میں وقت لگا کہ یہ انقلاب کس رخ پر جائے گا، ملک کے آئی ٹی ورک فورس میں مسلم پروفیشنلز کی نمائندگی اور پھر ان کے ذریعے شروع کیے جانے والے اسٹارٹ اپس کی تعداد آپ دیکھیں، ایسا نہیں ہے کہ مسلمان اچھے تجربات نہیں کرسکتے اور نئے نئے سولوشن لے کر نہیں آ سکتے لیکن یہ کمی ہمارے معاشرے کے ماحول سے آتی ہے جہاں نوجوان پست ہمتی اور غیر ضروری قناعت پسندی کے عادی بنائے جاتے ہیں، اللہ پاک نے مسلمانوں کو مال کمانے اور نئے نئے تجربات کرنے سے نہیں روکا لیکن اگر آپ مسلم طلبہ تنظیموں اور دیگر جماعتوں کا ماحول دیکھیں تو وہ اپنے نوجوانوں کو پست ہمتی کے ماحول میں رکھتی ہیں، نئے معاشی انقلاب کے بارے میں سبھی یہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں افراد کی تخلیقی صلاحیت ہی اس کی سب سے بڑی دولت ہے جس سے وہ کچھ بھی حاصل کر سکتا ہے، کیا ہم اپنے نوجوانوں کو دنیا کے سب سے بہتر تخلیقی کام کرنے کے لیے تیار نہیں کرسکتے؟ اس لیے مسلمان تعلیمی تحریکوں کو بہت سنجیدگی سے اس بات پر غور و فکر کرنا چاہیے کہ دنیا کا معاشی انقلاب کس کروٹ رخ لے رہا ہے اور اس کا حصہ بننے کے لیے وہ ہندوستان میں کیا اور کیسے کرسکتے ہیں، اگر یہ بات ہمارے غور و فکر کا حصہ رہتی تو ہمارے افراد ہزار بہتر اپنی ساری زندگی محض خلیجی ریاستوں کی معمولی نوکریوں میں برباد کرنے کے بجائے ان ممالک کا بھی رخ کرتے جہاں پہنچ کر آج ہزاروں ہندوستانی اپنی صلاحیتوں کے دم پر آسمان بھی چھو سکتے ہیں۔اس کی وجہ سے مسلمان اکثر نوکری پیشہ تو ہو رہے ہیں لیکن نوکری دینے والے نہیں بن پارہے ہیں کیونکہ وہ ایجاد اور ابداع کے مقابلے میں شامل نہیں ہو پارہے ہیں۔
صلاحیتوں اور امکانات کی شناخت اور ان کے لیے ضروری مواقع بروقت میسر کرنا پہلی ترجیح ہو، ہندوستانی مسلمانوں کی آبادی کئی ممالک سے بھی زیادہ بڑی ہے لیکن ان کی فلاح اور ترقی کے بارے میں ہونے والی گفتگو کسی چھوٹے سے گاؤں کی ضرورت جیسی کی جاتی ہے۔اس لحاظ سے اگر درست رپورٹ ہو تو معلوم ہوگا کہ ہر میدان میں ماہرین بننے والے لوگ سیکڑوں کی تعداد میں نکل سکتے ہیں، اسی لیے میں بار بار یہ بات کہنے کی کوشش کرتا ہوں کہ ہندوستانی مسلمانوں اور ان کے نمائندوں کو اپنے مسائل کے بارے میں ایک ریاست کی طرح سوچنا چاہیے، ان کی منصوبہ بندی ویسے ہی ہونی چاہیے جیسے کسی معیاری مسلم ملک کو اپنے عوام کے بارے میں کرنا چاہیے، اس بارے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے درمیان نوجوان صلاحیتیں ہزاروں میں ہونے کے باوجود وہ بروقت صحیح موقع حاصل کرنے میں اور صحیح پلیٹ فارم تک پہنچنے میں ناکام ہو جاتی ہیں۔ ایک صلاحیت کو اس کو مزید فروغ اور تقویت بخشنے والے مقام تک پہنچنے میں مدد کرنا یہ تعلیمی بیداری کا ایک اہم مقصد ہونا چاہیے، یہ عموماً انٹر میڈیٹ کے بعد کے طلبا کی ضرورت ہے، انٹر میڈیٹ کے بعد کوئی طالب علم خالی بیٹھا ہے، اس بات سے مقامی تنظیموں کو فوراً واقف ہونا ہی چاہیے۔مقابلوں میں کامیاب ہوجانے والوں پر توجہ تو سب کی رہتی ہے لیکن نوے-اسّی فیصد طلبا تو مقابلے میں ناکام ہو جانے والوں کی ہی ہوتی ہے۔کیا ان طلبا کی صلاحیتوں کی فوراً شناخت کرنے اور انہیں کسی بھی طرح آگے بڑھانے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں؟ شاید بہت ہی کم! اسی طرح سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینے کے بعد بھی خاص طور پر ایم اے اور پی ایچ ڈی کرلینے کے بعد بھی بہت سارے نوجوان بے روزگار رہ جاتے ہیں یا ایسے میدانوں میں روزگار کے لیے مجبور ہیں جو ان کا اصل میدان نہیں ہے۔ معاشی ترقی صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ کتنے افراد کو روزگار حاصل ہوگیا بلکہ اس بات سے ممکن ہوتی ہے کہ روزگار کہاں، کس میدان میں اور کتنے بہتر مستقبل والا ملا ہے۔ جس روزگار میں دس بیس سال تک کوئی ترقی نہ ہو اس سے ضرورت تو پوری ہوسکتی ہے لیکن معاشی ترقی نہیں ہوتی۔ہمارے جلسوں اور خطبوں میں اب تعلیمی انقلاب کے ساتھ معاشی انقلاب بھی موضوع گفتگو بننا چاہیے۔
آخری بات جس پر اب بہت سارے حضرات نے توجہ دینا شروع کیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی ساری توجہ نوکری پر نہیں مرکز کرنی چاہیے، خاص طور پر جس طرح سے سول سروسز کی تیاری کرانے پر توجہ ہوئی ہے وہ بہت منطقی نہیں ہے۔ ہماری سول امتحانات میں کامیابی کی شرح پہلے سے ہی دو چار فیصد کی ہے، اس میں ناکام ہونے کی وجوہات میں اہم وجہ یہ ہے کہ مسلمان طلبا سول کی طرف بہت تاخیر سے متوجہ ہوتے ہیں، اس لیے سول کی تیاری کی مہم گریجویشن میں داخل ہونے کے بعد سے ہی شروع ہونی چاہیے تاکہ جن طلبا کو اس میدان میں جانا ہے وہ اسی وقت ذہنی تیاری کر لیں، باقی طلبا سماجیات، قانون، سیاست، آرٹ، میڈیا، معاشیات جیسے سیکڑوں میدان ہیں جہاں وہ بہت کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، لیکن ان میدانوں میں اکثر مسلمان طلبا اسی وقت متوجہ ہوتے ہیں جب وہ سبھی محاذوں پر اپنی کوششوں سے مایوس ہو جاتے ہیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان نوجوان زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں خواہ وہ آئی ٹی ہو یا میڈیکل، سماجیات ہو یا صحافت، معاشیات ہو یا میڈیا اسٹڈیز۔بلکہ کئی شعبے تو ایسے ہیں جس میں مسلمانوں کی غیر موجودگی ان کے لیے بیحد نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر ملک کی یونیورسٹیوں کے شعبہ تاریخ، شعبہ فلسفہ، شعبہ سماجیات اور شعبہ معاشیات میں مسلمانوں کی موجودگی دو چار فیصد ہی بچی ہے، سوچیں جب تاریخ نویسی کا رخ بدلا جائے گا تو آپ وہاں موجود نہیں ہوںگے، اب آپ کے معاشی مسائل پر تکنیکی گفتگو ہوگی تو آپ وہاں نہیں ہوںگے، جب میڈیا میں آپ کی تصویر کشی پر ماہرانہ گفتگو کی جائے گی تو آپ کے اساتذہ اور محققین وہاں نہیں ہوں گے، ظاہر ہے کہ ہمیں اپنی تعلیمی تحریک کو بہت مفید بنانے کی ضرورت ہے۔
dr.umair[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS