مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کیلئے اسلحوں کی بارش،جنگ میں نیا موڑ!

0

دبئی(ایجنسیاں) : یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج 65 واں روز ہے۔ ایسا نظر آرہا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی سپورٹ جاری رکھنے کے عزائم اس بحران میں ’حقیقی ٹرننگ پوائنٹ‘ ثابت ہوں گے۔حالیہ دنوں میں متعدد مغربی ممالک نے یوکرین کے لیے بھاری ہتھیاروں کی کھیپ پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں دونباس میں روسی فوج کی پیش قدمی میں رکاوٹ کھڑی ہو گی۔ یہ بات فرانسیسی اخبار لومونڈ میں شائع رپورٹ میں بتائی گئی۔معلومات کے مطابق مغربی (یورپی اور امریکی) سپورٹ کا آغاز ایندھن ، حفاظتی ساز و سامان، گولہ بارود، ٹینک شکن اور طیارہ شکن ہتھیاروں کے بھیجنے کے ساتھ ہوا تاہم حالیہ دنوں میں اس نے حملہ آور لوازمات کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ان میں ہاؤزر گولوں کی توپیں، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے حوالے سے مغرب کے منصوبے میں’ایک قسم کی جست‘سامنے آئی ہے۔ اس کا مقصد جنگ کے پہلے مرحلے میں مختلف محاذوں پر بھاری نقصان اٹھانے کے بعد یوکرین کی فوجی صلاحیت کو بحال کرنا ہے۔اس سے قبل روس نے حالیہ ہفتوں میں اپنی توجہ یوکرین ے مشرقی حصے پر مرکوز کر رکھی ہے۔ اس کا مقصد دونباس کے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا اور یوکرین کو بحیرہ آزوف تک رسائی سے مستقل طور پر محروم کرنا ہے۔
برطانیہ نے یوکرین کے لیے بھاری ہتھیاروں کی کھیپوں میں اضافے اور جنگی طیارے اس کے حوالے کرنے پر زور دیا تھا۔ لندن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک طویل جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ادھر جرمن پارلیمنٹ نے جمعرات کے روز یوکرین حکام کو بھاری ہتھیاروں کی ترسیل کی تجویز منظور کر لی۔ہالینڈ ، اسٹونیا ، جمہوریہ چیک ، فرانس اور امریکا نے بھی بھاری ہتھیاروں کی کھیپوں کے ساتھ یوکرین کو سپورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔روس نے 24 فروری کو یوکرین میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد سے اقوام متحدہ کی جانب سے اس آپریشن کی مذمت جاری ہے۔ مغربی ممالک کئیف کے شانہ بشانہ صف آرا ہو گئے ہیں۔ وہ یوکرین کو ہتھیاروں ، ساز و سامان اور انسانی امداد کے ساتھ سپورٹ کر رہے ہیں تا کہ روس کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ادھر مغربی ممالک جن میں امریکا سر فہرست ہے انہوں نے کرملن پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ مختلف سیکٹروں ، کمپنیوں اور بینکوں کے علاوہ ولادی میر پوتین کے قریبی سیاست دان اور دولت مند افراد ان پابندیوں کی لپیٹ میں آئے ہیں۔
دوسری جانب روس نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو بھیجے جانے والے ہتھیار کی کھیپیں یورپ کے امن کے لیے خطرہ ثابت ہوں گی۔