دو رپورٹیں

0

ملک کی ابتر ہوتی معیشت، کمر توڑ مہنگائی اور ختم ہوتے روزگار کے درمیان گزشتہ کل دو رپورٹیں منظرعام پر آئی ہیں۔ ایک رپورٹ وزارت دیہی ترقیات نے ہندوستان میں غربت اور خط افلاس کے نیچے رہنے والے لوگوں کی بابت ایوان میں پیش کی ہے تو دوسری رپورٹ مشہور بین الاقوامی تجارتی میگزین فوربس نے وقت کے ارب پتی افراد کے بارے میں شائع کی ہے۔ دونوں ہی رپورٹیں ہندوستان میں دو الگ الگ ہندوستان کی عکاسی کررہی ہیں۔ ایک طرف دولت و وسائل کاپہاڑفلک بوس ہوتاجارہاہے تو دوسری جانب غربت، افلاس، قلت خوراک اور بھکمری ڈیرہ ڈالے بیٹھی ہے۔ان سب کے باوجود حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ ’ سماجی انصاف‘ قائم کرنے میں کامیاب ہے۔ حکومت اپنے اس دعویٰ کو طرح طرح کی گمراہ کن دلیلوں سے بھی مزین کررہی ہے۔ صدر جمہوریہ کے عہدہ جلیلہ پر قبائلی خاتون محترمہ دروپدی کے متمکن ہونے کو بھی ’سماجی انصاف اور جمہوریت و مساوات‘ کی روشن صبح کے طور پر پیش کررہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں سماجی ا نصاف، جمہوریت اور مساوات کی آڑ میں سرمایہ داری کی ایسی مکروہ شکل سامنے آئی ہے جس نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ بڑھتی مہنگائی، کم ہوتے روزگاراور زبوں حال ملکی معیشت کے بارے میں محنت کشوں اور مزدروںکے مطالبات کو پہلے تو کورونا وائرس کا لرزہ خیز خوف دکھا کر داخل دفتر کیاگیا اور ا ب حکومت کو اپنی نااہلی، بے سمتی اورغریب و مزدور دشمنی کی آڑ کیلئے ’ روس- یوکرین جنگ ‘کاپردہ بھی مل گیا ہے۔حالات کی ابتری کا سارانزلہ اسی عضوضعیف پر گراکرحکومت اپنے دامن کے داغ چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔
جمعرات کو لوک سبھا میں مرکزی حکومت نے بڑے ہی اہتمام سے بتایا کہ ملک کی آزادی کے وقت ہندوستان کی 80فیصد آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزاررہی تھی جو 75 برسوں بعد کم ہوکر ا ب صرف22فیصد رہ گئی ہے۔ ایوان میں وزارت دیہی ترقیات کی جانب سے پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق آج ہندوستان جنت نشان میں صرف 27 کروڑ آبادی ہی خط افلاس کی حد پار نہیں کرپائی ہے جب کہ 113کروڑ آبادی اس حد کو عبور کرکے مزے لوٹ رہی ہے۔ اب یہ تو حکومت ہی بتاسکتی ہے کہ اس دیو ہیکل مہنگائی اور افراط زر کے سنگین تر دور میںدیہاتوں میں 816 روپے ماہانہ یعنی یومیہ27روپے 20پیسے اور شہروں میں1000 روپے ماہانہ یومیہ33روپے خرچ کرکے کوئی بھی شہری کیسے خط افلاس کی حد عبور کرسکتا ہے۔جب کہ ایک وقت کے کھانے کا خرچ کم سے کم بھی 100روپے ہے، اس کے علاوہ دیگر ضروریات علیحدہ، علاج معالجہ، تعلیم، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اپنی جگہ ہیں، گھر کے کرایہ کا بھاری بھرکم بوجھ بھی کمر دوہری کیے ہوئے ہے۔ دوسری طرف صرف ایک لیٹرپانی کیلئے 800 روپے دینے والا ’معزز‘طبقہ بھی ہے۔
جمعرات کو ہی فوربس نے بھی وقت کے ارب پتی افراد کی فہرست پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے ارب پتی سرمایہ دار گوتم اڈانی دولت کے معاملے میں دنیاکے چوتھے امیر ترین شخص کا اعزازحاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے بل گیٹس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ فوربس کے مطابق جمعرات کو ہندوستانی تاجر وسرمایہ دار گوتم اڈانی کی مجموعی دولت 115.5 بلین ڈالر تک پہنچ گئی جب کہ بل گیٹس کی کل دولت 104.6 بلین ڈالر ہے۔ ہندوستان کے دوسرے سرمایہ دارمکیش امبانی بھی اپنی 90بلین ڈالرکی دولت کے ساتھ فہرست میں 10 ویں نمبر پر ہیں۔ اس سے قبل اسی سال اپریل کے مہینہ میں بھی گوتم اڈانی نے ہی نیاریکارڈ قائم کیاتھا اورامریکی سرمایہ دار وارن ایڈورڈ بفیٹ(Warren Edward Buffett) کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 123.7بلین ڈالر کی دولت کے ساتھ ارب پتی افراد کی فہرست میں پانچویں مقام پر پہنچ گئے تھے۔اس سے قبل نومبر 2021 میں بھی یہ خبر آئی تھی کہ گوتم اڈانی، مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایشیا کے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔اس وقت گوتم اڈانی کی مجموعی دولت 91 بلین ڈالر تھی جبکہ مکیش امبانی کے اثاثوں کی مالیت 88.8بلین ڈالر تھی۔ 2021 میں گوتم اڈانی کی دولت میں 50 بلین ڈالر اور مکیش امبانی کی دولت میں 14.3 بلین ڈالر کا اضافہ ہواتھا۔
ملک کے دونوں سرمایہ دار حضرات کی دولت میں ان ہی دنوں بے پناہ اضافہ ہوا جب ملک کی90فیصد آبادی کورونا وائرس کے بحران میں مبتلاہوکر روزگار کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی تھی، کروڑوں افراد کے روزگار چھن گئے تھے، اتنے ہی افراد کی اجرتوں میں بھی بھاری کٹوتیاں ہوئی تھیں جن کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
حکومت معیشت کی ابتری، بڑھتی مہنگائی اور کم ہوتے روزگار کیلئے عالمی مندی، کورونا وائرس اور روس – یوکرین جنگ کی آڑ لے رہی ہے۔حکومت کو یہ بتاناچاہیے کہ ان ہی حالات میں سرمایہ داروں کی دولت میں تیز رفتاراضافہ کیسے ہورہاہے اور غریب تیزی سے غریب تر کیوں ہوتے جارہے ہیں۔ ہندوستان میں ہی دو ہندوستان کیوں بن گئے ہیں۔ اس بھیانک عدم مساوات اور بھاری خلیج کو پاٹنے کیلئے حکومت کیا اقدامات کررہی ہے۔
[email protected]