’ ٹور آف ڈیوٹی ‘

0

وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان کیلئے کئی خواب دیکھے ہیں اورا ن خوابو ںکی تکمیل کی سمت گزشتہ 9 برسوں سے ان کا سفر جاری ہے ۔ ان خوابوں میں سے ’5 کھرب کی معیشت ‘ اور ’ کانگریس سے پاک ہندوستان‘ کا باقاعدہ اعلان بھی کیاگیا تھا اور جگہ جگہ اس کی تشہیر بھی کی جاتی رہی ہے جب کہ کئی خواب ایسے بھی ہیں جن کا اعلان تو نہیں کیاگیالیکن قرائن سے ان کے بارے میں بہت کچھ سمجھاجاسکتا ہے ایسے خوابوں میں ہندوستان کو ’ہندوراشٹر‘ بنانا اور آئین سے ’سیکولرزم‘ کو ہٹانا وغیرہ شامل ہے۔
ان سب کے علاوہ بھی انہوں نے ایک اور خواب فوج میں نیا خون شامل کرنے کے حوالے سے دیکھا تھا ۔ اب یہ خواب تکمیل کی منزلوں تک پہنچنے والاہے اور چند دنوں میں اس کا باقاعدہ اعلان بھی کردیاجائے گا۔ فوج میں اصلاحات کے نام پر ’ اگنی پتھ ‘ اسکیم کے نام سے بحالی عمل شروع کیاجارہا ہے ۔ بتایاگیا ہے یہ وزیراعظم کا ’ ڈریم پروجیکٹ‘ ہے اوراس کی تکمیل کیلئے مسلح افواج کی تینوں کمانوں نے دن رات محنت کرکے منصوبہ عمل مرتب کر لیا ہے ۔ گزشتہ ہفتہ وزیراعظم کو اس کا پریزینٹیشن بھی دیاگیا۔اگلے چند دنوں میں اعلان کی جانے والی اس نئی اسکیم کامرکزی نقطہ فوج میں جوانوں کی چار سال کی ملازمت ہے جس کے ذریعہ فوج میں شامل ہونے والے فوجیوں کی اوسط عمر اور دفاعی اخراجات کو کم کیاجاسکے گا۔اس اسکیم کے تحت بحال ہونے والے فوجی ’ اگنی ویر‘ کہلائیں گے اور چار سال کی مدت مکمل کرنے کے بعدا نہیں رخصت کردیاجائے گا۔
اس اسکیم کی شان میں قصیدے پڑھے جارہے ہیں اور اسے فوجی طاقت کو ہر دم جوان رکھنے کا عملی قدم بتایاجارہاہے، یہ بھی کہا جا رہاہے کہ اس نئی اسکیم سے مسلح افواج سے متعلق بہت سے مسائل حل ہوں گے اور ان لاکھوں نوجوانوں کو فائدہ ملے گا جو بری، بحری اور فضائی فوج میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔لیکن کئی سبکدوش فوجی حکام نے اس اسکیم پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں، اس اسکیم کی کامیابی پر شبہ ظاہر کرنے کے ساتھ ا نہوں نے اسے ہندوستان جیسے ملک کیلئے نامناسب قدم بھی بتایا ہے ۔ان کا کہناہے کہ ایک پیشہ ورانہ فورس کو جسے کئی اطراف سے چیلنج کا سامنا ہو، اسے جزوقتی یا بھاڑے کے سپاہی کتنا سہارا دے سکتے ہیں، اس پر غور کیاجاناضروری ہے ۔یہ بھی قابل غور ہے کہ کیا یہ قدم فوج میں اصلاحات کا سبب بنے گا یا اس کے پس پشت کچھ دوسرے ہی عزائم ہیں جن کی تکمیل کیلئے فوج کو تختہ مشق بنایا جا رہا ہے۔ سوالات کئی ہیں جن کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
چین کو لال لال آنکھیں دکھانے اور دیش جھکنے اور بکنے نہیں دوں گا کے دعوئوں کے درمیان گزشتہ دو برسوں میں فوج میں بحالی نہ ہونے کے برابر ہوئی ہے ۔وزارت دفاع کے اعداد و شمارکے مطابق فوج میں جونیئر کمیشنڈ افسران کی ایک لاکھ سے زیادہ اسامیاں خالی ہیںاور عام فوجی جوانوں کی تقریباً3لاکھ اسامیاں بھی تقرری کا انتظار کر رہی ہیں ،جن پر معمول کے مطابق تقرری نہ کرکے دوسرا راستہ اپنایا جارہاہے ۔سبکدوش فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹور آف ڈیوٹی کی بجائے پیشہ ورانہ جذبہ سے خالی سیدھا سیدھا ٹور ہوکر رہ جائے گاجس سے فوج کو اپنا پیشہ ورانہ تشخص برقرار رکھنے میں دشواریوں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ نیز اس سے فوج میں عسکریت پسند اور فرقہ پرست عناصر کی دراندازی کا راستہ بھی کھل جانے کا امکان ہے اور یہ فوج کے سیکولر تشخص کیلئے زہر ثابت ہوسکتا ہے ۔
سابق فوجی حکام کی ان تشویشات کو یکسر مسترد نہیں کیاجاسکتا کیوں کہ یہ بھی ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ آج آر ایس ایس کے نظریات کے حامل افراد کا سول سروسز، خاص طور پر آئی اے ایس اور آئی پی ایس میں گہرا اثر و نفوذہے ۔آر ایس ایس نجی ملٹری اسکول بنانے کی بھی منصوبہ بندی کرتارہاہے لیکن اس راہ میں اسے کئی ایک دشواریوں کا سامنا ہے۔ چند برس قبل سرسنگھ سرچالک موہن بھاگوت نے کھلے اسٹیج سے یہ اعلان کیاتھا کہ ہندوستانی فوج کو تربیت یافتہ جوان تیار کرنے میں چھ ماہ لگیں گے، جب کہ اگر ضرورت پڑی تو آر ایس ایس اسے تین دن میں تیار کر سکتا ہے۔
ان کے اس بیان کو مدنظر رکھ کر اگر ’ ٹور آف ڈیوٹی ‘ کا جائزہ لیا جائے تو یہ خدشہ قوی ہوجاتا ہے کہ یہ فوج میں آر ایس ایس کارکنوں کے داخلہ کی راہ آسان کرنے والی اسکیم ہے ۔ابھی چند ماہ قبل ہی حکومت نے نئے سینک اسکول بنانے کے نام پر آر ایس ایس سے وابستہ کم و بیش دو درجن اسکولوں کو ’ سینک اسکول‘ کا درجہ بھی دے دیا ہے ۔نئی اسکیم بھی اسی کا تسلسل محسوس ہورہی ہے ۔بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ’ ٹور آف ڈیوٹی‘ کا مقصد فوج میں اصلاحات کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جو دھیرے دھیرے منظر عام پر آئے گا ۔ اگر حکومت کی نیت صاف ہے تو اسے سابق فوجی حکام کی ان تشویشات کا ازالہ کرتے ہوئے ان کے سوالوں کا جواب ضرور دینا چاہیے۔
[email protected]