انسانیت کے نجات دہندہ اور رہبر کامل

0

قاضی محمد فیاض عالم قاسمی

مذہب اسلام ایک ایسامذہب ہے جس کی فطرت میں قدرت نے یہ کشش رکھی ہے کہ انسان اگر سنجیدگی اور منصفانہ مزاج سے غور کرے تووہ ضرور اس کا معترف ہوجاتا ہے، گویا کہ حق ایک ایسی چیز ہے جو قلب سلیم اور منصف دل کو دستک دئے بغیر نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی حقانیت کااعتراف نہ یہ کہ صرف اس کے ماننے والوں نے کیا:بلکہ اس کی واضح ہدایات اورروشن تعلیمات سے محروم رہنے والوں نے بھی ان کی خوبیوں کے گن گائے ہیں۔اگر ہم تاریخ کے جھروکے میں جھانکیں تو معلوم ہوگا کہ پیغمبر اسلام ، ہادی عالم،رہبر کامل، فخرکائنات،نبی آخرالزماں ، حضرت محمد مصطفیؐ کو اسلام کے بد ترین دشمنوں نے بھی پرتپاک انداز میں خراج تحسین پیش کیا ہے ۔قرآن کریم نے آج سے چودہ سوسال سے قبل بعض غیر مسلموں کے بارے میں کہاتھا کہ یہ لوگ حضرت محمدؐ کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ حق سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔(سور البقر :146)
مشرکین مکہ:
نبی اکرمؐ نے اپنی زندگی کے تیرہ سال مکہ میں بہت ہی کٹھن اوردرد ناک اذیتوں کے ساتھ گزارے۔آپ کا سماجی بائیکاٹ کیاگیا،آپ نے شِعب ابی طالب میں تین سال قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں،محض دعوتِ حق کی وجہ سے مشرکین مکہ نے طرح طرح کی تکلیفیں دیں،آپ کا راستہ روکا گیا، جسم اطہر پر غلاظت پھینکی گئی،پتھرپھینکے گئے،جس سے جسم اطہر لہولہان ہوگیا، راستے میں کانٹے بچھائے گئے، اسی پر بس نہیں، بلکہ قتل کی سازش رچی گئی، لیکن قربان جائیے ایسے جانی دشمن بھی آپ کو الصادق الامین یعنی سچا اورامانت دارکہتے تھے۔
جب حجر اسود کو دیوارکعبہ پر نصب کرناتھا،تو مکہ کے قبیلے اس سعادت کے لئے جھگڑنے لگے،ہر قبیلہ چاہتاتھا کہ اس کو یہ سعادت ملے، بالاخرآپ کے دشمنوں نے آپ ہی کو حَکم تسلیم کیاکہ محمدؐ جو فیصلہ کریں گے اورجس طرح کریں گے،ہمیں منظورہے۔ الحمد للہ آپ نے بحسن وخوبی سارے قبیلے کو یہ موقع عنایت فرماتے ہوئے پتھرکو اس کے مقام پر اپنے دست مبارک سے رکھا،جس پر کسی نے بھی چوں چرانہیں کی۔
حضرت ابوسفیان:
جب نبی کریمؐ نے روم کے بادشاہ ہرقل کے پاس دعوتی خط بھیجا تو ہرقل نے مکہ کے ایک قافلہ، جس میں حضرت ابوسفیان بھی تھے، کو بلابھیجاتاکہ اس خط میں مذکورشخصیت کے بارے میں جانکاری حاصل کی جاسکے۔حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا، مگر اس کے باوجود انھوں نے ہرقل کی پوچھ تاچھ میں حق گوئی کا مظاہرہ کیا، خود حضرت ابوسفیان کہتے ہیں کہ میں چاہتاتھا کہ محمد کے بارے میں جھوٹ موٹ بول کر ان کو محمد سے بدگمان کردوں، لیکن مجھے خوف تھا کہ میری قوم مجھے جھوٹ کاطعنہ دے گی،اوراندرسے دل بھی آمادہ نہیں تھا، اس لئے مجھے مجبورا حضرت محمدؐکے حسب ونسب، سچائی ،امانت داری،اوران کے پیغام ِحق کے بارے میں ہرقل کے سامنے سچ سچ کہنا پڑا۔
ہر زمانہ میں ایسے مفکرین ، مؤرخین اوراصحاب علم ودانش پید اہوئے جنھوں نے نبی کریم کی ذات ، آپ کی اعلیٰ صفات، آپ کی پاکیزہ سیرت، آپ کے بلنداخلاق وکردار،آپ کی عادات شریفہ، آپ کی حکمت عملی،اور فکروتدبر کو تسلیم کیا، داد دی، پھر آنیوالی نسلوں کے لئے شہادت کے طورپرسپر د قرطاس کیا۔
کَرَچنرانسائیکلوپیڈیا:
پیغمبر اسلام کی تعریف وتوصیف اور پاکیزہ سیرت کا ایک مختصر خاکہ عیسائیوں کی طرف سے مرتب کردہ:کَرچنر انسائیکلوپیڈیا (Chvrches) churches( encyclopedia(میں بیان کیا گیا ہے کہ رسو ل اللہ عظیم اخلاق پر فائز تھے،خندہ زن اور پُر استقامت تھے غصہ کو پینے والے اورشدت سے دور تھے وہ ظالم نہیں تھے، اپنے مسلمان متبعین کو اخلاق حمیدہ اور خوش روئی سے آراستہ ہونے کا حکم دیتے تھے۔
انسائکلوپیڈیا برٹانیکا:
اسی طرح انسائکلوپیڈیا برٹانیکا میں ہے:تمام پیغمبروں اور مذہبی شخصیتوں میں محمد ؐسب سے زیادہ کامیاب ہیں ۔
مائیکل،ایچ،ہارٹ:
امریکی ماہر فلکیات مائیکل،ایچ،ہارٹ (Michael.H.Hart)نے حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر اپنے زمانہ تک کے مشہور اور ممتاز شخصیتوں پر تحقیق کرکے ان میں افراد کو منتخب کیا اور ان سو اہم شخصیتوں میں سب سے اہم شخصیت محمدؐ کو قرار دیا اور اپنی کتاب میں سب سے پہلے آپ کا تذکرہ کیااور عیسائی ہونے کے باوجودآپ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاتذکرہ کیا،اس پر بعض عیسائیوں نے اعتراضات کئے تو دوسرے ایڈیشن میں اس نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ بہت غور وفکر کے بعدجن کا جو مقام تھا میں نے انہیں وہ مقام دیاہے۔مائیکل ہارٹ کہتے ہیں کہ دنیا میں جتنے بھی لوگوں نے انقلابی کارنامے انجام دئیے وہ کارنامے ان کے بغیر بھی رونما ہوسکتے تھے، مگر حضرت محمدؐ نہ ہوتے تو اتنا عظیم کارنامہ کبھی انجام نہیں پاسکتا تھا۔
نپولین بونا پارٹ :
محسن انسانیت آنحضرتؐ کی ذات گرامی پر تبصرہ کرتے ہوئے نپولین بونا پارٹ ، Napoleon Bonaparte رقم طراز ہیں کہ محمد ؐکی ذات ایک مرکز ثقل تھی جس کی طرف سب کھینچے چلے آتے تھے آپ کی تعلیما ت نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور ایک گروہ پیدا ہوگیا جس نے چند ہی سالوں میں دنیا کو جھوٹے خداؤں سے آ زادکرادیا۔ عرب کے لوگوں نے بتوں اور جھوٹے خداؤں کی پرستش سے توبہ کرلی، مٹی کے بت مٹی میں ملا دیئے گئے، یہ حیرت انگیز کارنامہ محمدؐکی تعلیمات اور ان پر عمل کرنے کے سبب انجام پایا۔
ریجنلڈ باسوَرتھ اسمتھ:
ریجنلڈ باسوَرتھ اسمتھReginald. Bosworth Smith مشہور برطانوی مصنف ہیں،کہتے ہیں کہ آپ کی زندگی دراصل سورج کی طر ح ہے جس کی کرنیں پوری دنیا کو منور کئے ہوئے ہیں، آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک سادگی اور عاجزی کو اپنائے رکھا۔
جارج برنارڈ شا:
جارج برنارڈ شاGeorge Bernard Shaw کہتے ہیں کہ اگر روتی سسکتی انسانیت سکون چاہتی ہے تواسے آج بھی وہ اصول رائج کرنے پڑیں گے جو پیغمبر اسلام نے / سو سال پہلے پیش کئے تھے ۔
ولیم مور:
سرویلیم مور۔Sir William More کہتے ہیں کہ آپ اپنے دورہی کے عظیم ترین انسان نہیں تھے بلکہ آنے والے تمام انسانوں کی عظیم ترین ہستی تھے آپ نے ایک عظیم ترین مدبر حکومت اور سیاستداں کی طرح مختلف الخیال اور مختلف العقیدہ اور آپس میں منتشر لوگوں کو یکجا اور متحد کرنے کاکام بڑی مہارت سے سر انجام دیا ۔
آر ۔ایچ جارج:
عظیم مفکرآر ۔ایچ جارج R.H George رقم طراز ہیں کہ تاریخ میں صرف محمد ؐکی شخصیت ہی ایسی ہے جس نے مذہبی اورغیرمذہبی امورمیں بھی عظیم کامیابی حاصل کی ہے۔
پروفیسر راما کرشنا را و:
پروفیسر راما کرشنا را و، میسور یونیورسٹی میں پروفیسر تھے، لکھتے ہیں کہ محمدؐ کا قلب مبارک محبت اور اخوت سے لبریز تھا۔ آپ زندگی بھر اپنے بدترین دشمن کو بھی معاف کرتے رہے ہیں۔ ذات محمد ی ایک ایسی گھٹا تھی جو خشک آسمانوں پر پھیل گئی، وہ روشنی کا ایک مینارہ تھی ۔چودہ صدیاں ختم ہوگئیں مگر یہ روشنی اپنی جگہ پرقائم ہے اور امتدادزمانہ کے باوجود اس چراغ کی لُو سے زمانہ آج تک رہنمائی حاصل کر رہا ہے۔آپ مزیدکہتے ہیں کہ محمدؐ کی شخصیت اور اس کی پوری سچائی میں جانابہت مشکل ہے۔ہم صرف چندپہلوئوں کو ہی پکڑسکتے ہیں۔ محمدؐ ایک نبی بھی ہیں، محمدؐ ایک سپہ سالاربھی ہیں، تاجر بھی ہیں، خطیب بھی ہیں،مبلغ بھی ہیں،یتیموں کے مولیٰ بھی ہیں، غلاموں کے محافظ بھی ہیں،(مظلوم)عورتوں کے نجات دہندہ بھی ہیں،جج بھی ہیں،ولی بھی ہیں، ان تمام اعلیٰ صفات میں اور انسانی سرگرمیوں میں وہ ایک ہیروکی طرح ہیں۔
رانا بھگوان داس:
رانا بھگوان داس لکھتے ہیں کہ اگر آپ نہ آتے تو دنیا کا ظلم بڑھتے بڑھتے اس کو تباہ کردیتا،اگر آپ نہ ہوتے تو یوروپ کے تاریک زمانے دوچند بلکہ سہ چند تاریک تر ہوجاتے۔اگر آپ نہ ہوتے تو انسان ریگستانوں میں پڑے بھٹکتے پھرتے۔ جب میں آپ کی جملہ صفات اور تمام کارناموں پہ بحیثیت مجموعی نظر ڈالتا ہوں کہ آپ کیا تھے؟ اور کیا رہے ہوں گے اور آپ کے تابع دار صحابیوں نے جن میں آپ نے زندگی کی روح پھونک دی تھی کیا کیا کارنامے دکھائے تو آپ مجھے سب سے بڑے بزرگ ،سب سے برتر دکھائی دیتے ہیں ۔
مہاتما موہن داس کرم چندگاندھی جی:
بابائے قوم، مہاتما موہن داس کرم چندگاندھی جی کہتے ہیں کہ اُس وقت جب کہ مغرب خطرناک تاریکی میں بھٹک رہا تھا مشرق میں روشن ہونے والے اسلام کے بلند سورج نے مستحق عذاب دنیا کو روشن ومنور کردیااورباشندگان دنیا کوسلامتی، راحت وطمانینیت بخشش،دین اسلام باطل مذہب نہیں،جب بھی ہندؤں نے اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور اسکے بارے میں تلاش وجستجو کی ہے تووہ اس کے ایسے ہی گرویدہ ہوگئے جیسا میں اس کا گرویدہ ہوں۔q