اگر کوئی نفرت آمیز بیان دیا گیا تو اعلیٰ حکام کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا:سپریم کورٹ

0

نئی دہلی، (پی ٹی آئی) :سپریم کورٹ نے منگل کو اتراکھنڈ کے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ عدالت میں عوامی طور پر یہ کہیں کہ رڑکی میں طے شدہ ’دھرم سنسد‘ میں کوئی نا خوشگوار بیان نہیں دیا جائے گا اور وارننگ دی کہ اگر کوئی نفرت آمیز بیان دیا جائے گا تو وہ اعلیٰ حکام کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ یہ پروگرام بدھ کو ہونا ہے۔ جسٹس اے ایم کھانولکر کی صدارت والی 3 ججوں کی بنچ نے اتراکھنڈ سرکار کے ذریعہ دی گئی اس یقین دہانی پر غور کیا کہ حکام کو بھروسہ ہے کہ پروگرام کے دوران کوئی ناخوشگواربیان نہیں دیا جائے گا اور اس عدالت کے فیصلے کے مطابق سبھی قدم اٹھائے جائیں گے۔ بنچ نے اتراکھنڈ سرکار سے یہ بھی کہا کہ اگر ریاست تدارکی قدم اٹھانے میں ناکام رہتی ہے تو چیف سیکریٹری کو اس کے سامنے پیش ہونے کےلئے کہا جائے گا۔ بنچ نے کہا کہ ’آپ کی یقین دہانی کے باوجود کوئی ناخوشگوار صورتحال سامنے آنے پر ہم چیف سیکریٹری، داخلہ سیکریٹری، انسپکٹر جنرل آف پولیس کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ ہم اسے ریکارڈ میں ڈال رہے ہیں۔‘ عدالت عظمیٰ نے تشویش ظاہر کی کہ سرکار حکام کے ذریعہ کی جانے والی تدارکی تدبیروں پر عدالت عظمیٰ کی رہنما ہدایات کے باوجود ملک میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ بنچ میں جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس سی ٹی روی کمار بھی شامل ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ’ہم اتراکھنڈ کے چیف سیکریٹری کو مذکورہ یقین دہانی عوامی طور پر دینے اور اصلاحی تدابیر سے آگاہ کرانے کی ہدایت دیتے ہیں۔‘
سماعت کی شروعات میں ہماچل پردیش میں دھرم سنسد سے متعلق معاملے میں عرضی گزار کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ وقت وقت پر ہر دوسرے مقام پر ’دھرم سنسد‘ منعقد کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ اونا، ہماچل پردیش میں منعقدکی گئی۔ یہ بہت ہی چونکانے والا ہے۔ میں اسے عوامی طور پر بھی نہیں پڑھوں گا۔‘ بنچ نے ہماچل پردیش سرکار سے کہا کہ اسے پہلے سے موجود رہنما ہدایتوں پر عمل کرنا ہوگا۔ بنچ نے کہا کہ ’آپ ان کی پیروی کر رہے ہیں یا نہیں، آپ کو جواب دینا ہوگا۔ اگر نہیں، تو آپ کو اصلاحی تدابیر کرنی ہوں گی۔‘ ہماچل پردیش کے وکیل نے بنچ کو بتایا کہ اس نے تدارکی تدابیر کی ہیں اور جانچ بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے یہ یقینی بنانے کےلئے پولیس ایکٹ کی دفعہ 64 کے تحت نوٹس جاری کیا ہے کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔
بنچ نے کہا کہ ’آپ کو سرگرمی روکنی ہوگی، نہ کہ صرف جانچ کرنی ہے۔ ایک حلف نامہ دائر کریں جس میں بتایا گیا ہو کہ آپ نے اسے روکنے اور اس کے بعد کے لیے کیا قدم اٹھائے ہیں۔‘
بنچ نے ریاست کے داخلہ سیکریٹری کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ واقعات اچانک نہیں ہوتے ہیں۔ اس طرح کے پروگراموں کا پہلے سے ہی اعلان کر دیا جاتا ہے۔ مقامی پولیس کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ آپ ان مرحلوں کی وضاحت کرتے ہوئے ایک حلف نامہ داخل کریں۔ کیا آپ فوراً ایکشن میں آئیں گے یا نہیں؟‘سبل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ رڑکی میں ایک اور دھرم سنسد کا منصوبہ ہے۔ اتراکھنڈ کے وکیل نے بنچ کو بتایا کہ تدارکی تدابیر کے سلسلے میں ایک پریشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک شخص کہتا ہے کہ وہ دھرم سنسد منعقد کرے گا، ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا کہے گا اور ہم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ کیا کہا جائے گا۔‘ بنچ نے اس پر کہا کہ ’اگر مقرر وہی ہونے والا ہے تو آپ کو فوراً کارروائی کرنی ہوگی۔ ہم کچھ کہنے کے لیے مجبور مت کریے۔ تدارکی کارروائی کے دیگر طریقے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ کیسے کرنا ہے۔‘
اتراکھنڈ کے وکیل نے کہا کہ ایک رنگ ہے جو ایک مخصوص کمیونٹی سے وابستہ کیا جا رہا ہے۔ بنچ نے کہا کہ ’جس مخصوص کمیونٹی کی آپ حفاظت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ بھی ایسا کر رہا ہے۔ ہم چیزوں کو شانت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہم آہنگی بنی رہے۔‘