اللہ کی بات اس کے بندوں تک پہنچانا

0

محمد خالد داروگر، ممبئی
اللہ کی بات اللہ کے بندوں تک پہنچانے والوں کولوگوں کی فلاح اور نجات سے محبت ہوتی ہے ، وہ بگڑے ہوئے لوگوں کو برائیوں سے نکال کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے ہیں،قوم کی زیادتیوں اوردست درازیوں کے باوجود صبر کرتے ہیں،اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اوراللّٰہ تعالیٰ پر مکمل توکل کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو ہمیشہ اہل طائف کے سنگدلانہ سلوک جو انہوں نے نبی کریمؐ کے ساتھ کیا تھا کو یاد رکھنا چاہیے کیوں کہ یہ واقعہ حوصلہ دینے کا کام کرتاہے۔ نبی کریمؐ طائف تشریف لے گئے، آپؐ کو امید تھی کہ شاید بنو ثقیف کے لوگ آپؐ کی دعوت کی طرف توجہ کریں اور اسے قبول کر لیں گے۔ آپؐ کے ساتھ آپؐ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہؓ بھی تھے۔ راستے میں آپؐ جس قبیلے کے پاس سے گزرتے اسے اسلام کی دعوت دیتے مگر کسی قبیلے نے دعوت قبول نہ کی۔ آپؐ طائف پہنچے، سب سے پہلے وہاں کے سرداروں سے ملے اور انہیں اسلام کی دعوت دی مگر ان سب نے نہایت ظالمانہ ردعمل ظاہر کیا۔ آپؐ طائف کے علاقے میں دس دن ٹھہرے، ہر سردار اور بڑے آدمی سے ملے اور اس سے گفتگو فرمائی مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ انہوں نے آپؐ کو طائف سے نکل جانے کا حکم دیا۔ اسی پر بس نہ کی، وہاں کے بچوں اور اوباشوں کو بھی آپؐ کے پیچھے لگا دیا۔ آپؐ طائف سے واپس آنے لگے تو یہ بچے اور اوباش لوگ اکھٹے ہوکر راستے کے دونوں جانب کھڑے ہوگئے۔ یہ ظالم اور وحشی لوگ عالم انسانیت کی اس سب سے بڑی شخصیت سے بدزبانی بھی کرتے تھے اور پتھر بھی برساتے تھے۔ انہوں نے ٹانگوں پر پتھر برسائے جس سے آپؐ کا جوتا مبارک خون سے سرخ ہو گیا۔ حضرت زیدؓ خود پتھروں کے سامنے آکر آپؐ کو پتھروں سے بچانے کی کوشش کرتے رہے حتی کہ ان کے سر میں کئی زخم آگئے۔ رسول اللّٰہ انتہائی غم اور پریشانی کی حالت میں مکہ کی طرف چل پڑے۔ آپؐ کا دل شکستہ ہو گیا تھا، اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت جبریلؑ کو آپ کی خدمت میں بھیجا، ان کے ساتھ پہاڑوں پر مقرر فرشتہ بھی تھا، اس نے آپؐ سے اجازت طلب کی کہ اطراف کے دونوں پہاڑ اہل علاقے پر دے مارے۔
حضرت عائشہ صدیقہؓاس کی تفصیل یوں بیان کرتی ہیں:’’میں نے پوچھا:اے اللّٰہ کے رسول! کیا آپ پر کوئی دن احد کے دن سے بھی زیادہ سنگین گزرا ہے؟آپ نے فرمایا:عائشہ! میں نے تمہاری قوم کے ہاتھوں بڑے مصائب جھیلے ہیں، مجھے سب سے زیادہ تکلیف عقبہ کے دن پہنچی جب ابنِ عبد یالیل بن عبد کلال کو دعوت دی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، میں انتہائی غمگین بے سدھ حالت میں چل دیا، مجھے ہوش آیا تو میں قرن ثعالب کے مقام تک پہنچ چکا تھا، میں نے سر اوپر اٹھایا تو دیکھا کہ ایک بادل مجھ پر سایہ کرتا آرہا ہے، میں نے غور سے دیکھا تو مجھے اس میں جبریل ؑ نظر آئے، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہنے لگے:اللّٰہ عزوجل نے آپ کی قوم کا جواب سن لیا اور ردعمل دیکھ لیا ہے اور آپ کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے، آپ ان کے بارے میں جو چاہیں اسے حکم دیں، اتنے میں پہاڑوں کے فرشتے نے بھی مجھے سلام کہا اور بولا: اے محمد! اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کا جواب سن لیا ہے اور مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے، میں پہاڑوں پر مقرر فرشتہ ہوں، آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں، رسول اللّٰہ نے فرمایا: نہیں! مجھے امید ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کی نسل میں ایسے لوگ پیدا کرے گا جو ایک اللّٰہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے‘‘۔
طائف کے لوگوں کی طرف سے اتنی سخت ترین تکلیف پہنچانے کے باوجود بھی ان کے لیے کلمۂ خیر ہی آپ کی زبان مبارک سے نکل رہا ہے۔حالات کتنے بھی سنگین کیوں نہ ہوں، لوگ اللہ کی بات اللہ کے بندوں تک پہنچانے کے نتیجے میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی کیوں نہ ڈال دیں، قید و بند کی صعوبتوں کا سلسلہ دراز ہی کیوں نہ ہوجائے ، اس فریضہ کو عزیمت کی راہ اختیار کرتے ہوئے انجام دینا ہے۔اللّٰہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ’’دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے بشرطیکہ تم مومن ہو‘‘۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here