مسلمانوں کی تاریخ اسلام کا حصہ ہے؟

0
image:ummid.com

پروفیسر عارف الاسلام
قرآن کریم کی آیت ’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کریا‘‘(سورہ مائدہ3-) واضح اعلان کر رہی ہے کہ آج دین اسلام کی تکمیل ہو گئی۔بلکہ دین تکمیل کے آخری پائیدار مرحلے پر پہنچا دیا گیا۔حضور اکرمؐ نے بھی آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ دین مکمل ہو گیااور حاضرین سے گواہی بھی لی۔لیکن ہم اس مضمون میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا فی الواقعہ مسلمانان عالم اور خاص طور سے علمائے کرام نے اس آیت کو اپنی تحریر وں اور عقائد میں وہ اہمیت اور جگہ دی جس کی وہ حقدار تھی؟ اور کیااس دن علماء کرام و محدثین کی نظر میں دین اسلام واقعی عملی طور سے مکمل ہو گیا؟ یا اس کی تکمیل اور تشریح کا سلسلہ ابھی جاری ہے؟ اور اگر جاری ہے تو کب تک جاری رہے گا؟ ہمارے نزدیک 8؍جون632ء کے دن جب رسول اکرم ؐ کا انتقال ہوا اسلام تکمیل کے آخری مرحلے پر پہنچ گیا۔اس کے بعد ہونے والے علمی یا سیاسی واقعات چاہے وہ خلفاء کا انتخاب ہو یا مسلمانوں کے درمیان جنگیں ہوں یا کتابیں اور علمی مباحث جو کچھ ضبط تحریر میں آیا وہ اسلام کا حصہ نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی تاریخ کا حصہ ہے۔اور مسلمانوں کی تاریخ کسی بھی صورت میں اسلام کی تاریخ نہیں ہو سکتی۔اگر اسلام کی تاریخ کا تعین کرنا ہے تو وہ صرف پہلی آیت کریمہ ’’اقراء۔۔۔‘‘ کے نزول سے شروع ہو کر 8؍جون632ء تک کے درمیانی پیرئیڈ کی تاریخ ہے اور بس باقی اس دن کے بعد مسلمانوں کی تاریخ شروع ہو جاتی ہے جو کسی بھی حالت میں اسلام کی تاریخ نہیں کہی جاسکتی ہے۔لیکن عام طور سے مسلمانوں کی تاریخ کو بھی اسلام کی تاریخ سمجھا جاتا رہا ہے اسلام کی تشریح اور توضیح پر مسلمانوں کی تاریخ کا انتہائی گہرا اثر دیکھا جا سکتا ہے ۔خاص طور سے آنحضرت ؐ کے وصال کے بعد تین سو سال کے درمیان ہوئے سیاسی اور علمی واقعات (جن میں جنگ وجدل اور کتابوں کی تصنیف دونوں ہی شامل ہیں) کا اصل اسلام کی شکل و صورت کو متعین کرنے میں بڑا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔پہلا اہم واقعہ جوآنحضرت ؐ کے انتقال کے بعد رونما ہوا ،جس کی اشد سیاسی ضرورت تھی کہ کوئی خطۂ زمین ایک لمحہ کے لیے بھی حکمرانی سے خالی نہیں رہ سکتا،وہ خلیفہ کا انتخاب تھا۔حضرت ابو بکر صدیقؓ کا بحیثیت خلیفہ منتخب ہونا ایک مذہبی واقعہ نہ تھا محض ایک سیاسی ضرورت کو پورا کرنے کا ایک ضروری سیاسی مرحلہ تھا۔بہت سے لوگ رہے ہوں گے جن کی رائے مختلف ہوگی اور وہ کسی اور کو خلیفہ دیکھنا چاہتے ہوں گے دونوں ہی آراء کا تعلق اسلام سے نہیں بلکہ ایک سیاسی معاملہ میں اپنی اپنی پسند سے ہے۔تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت (مسلمانوں کے ہی ذریعہ) بھی ایک سیاسی مسئلہ تھی نہ کہ مذہبی۔اسی طرح قاتلان عثمانؓ سے بدلہ لینے کا معاملہ جنگ جمل یا جنگ صفین یا دوسری اور جنگیں ،تمام واقعات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ سیاسی اور اخلاقی مسائل سے ہے۔جو ہر قوم کی تاریخ میں ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔حضرت علی ؓ کی خلافت کا مختصر دور مسلمانوں کی آپسی خانہ جنگیوں میں گذرگیا ان کے بعد ایک بڑا سانحہ کربلا میں واقع ہوا حضرت حسین ؓ کو شہید کر دیا گیا۔ان کی شہادت نے نہ صرف مسلمانوں کی تاریخ بلکہ اسلام کی تعریف و تشریح پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے اور اسلام شیعہ اور سنیوں کے دو فرقوں میں بٹ کر رہ گیا۔جس کے اثرات آج تک ختم نہیں ہوئے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ شدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔موجود وقت میںشیعہ اور سنیوں کی خوفناک خون ریزیاں اور خانہ جنگیاں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں ۔یمن ،شام اور عراق اور دنیا کے دوسرے حصوں میں ہونے والی شیعہ سنی جنگیں مسلمانوں کو اقوام عالم کے سامنے شرمسار کر رہی ہیں۔
رسول اکرمؐ کے انتقال کے چند سالوں کے بعد ہی صحابہ کے درمیان مختلف امور پر ہوئی خونریز جنگوں میں ہزار ہا صحابہ ،صحابہ کے ہی ہاتھوں قتل ہوئے۔حضرت حسین ؓ کی شہادت نے اسلام کی بنیاد میں زلزلہ پیدا کر دیا جس کے اثرات نہ جانے کتنی صدیوں تک محسوس کئے جاتے رہیں گے۔ان واقعات کو مسلمانوں کی تاریخ سے نہیں بلکہ نصِ اسلام سے جوڑا گیا۔اسلام میں دو نئی اصطلاحات کی بنیاد پڑ گئی ایک خلافت اور دوسری امامت ۔جبکہ پورے قرآن میں کہیں بھی رسولؐ کی خلافت کا ذکر ہے اور نہ امامت کا۔رسول اللہ کے بعد ان کا کوئی جانشین خلیفہ یا امام کی شکل میں بھی ہوگا،اتنے اہم مسئلے کا ذکر جو جانشین رسالتؐ سے تعلق رکھتا ہے،قرآن پاک میں ضرور ہوتا بلکہ پوری سورہ ہی مابعد حیات رسول ؐ کے معاملات پر نازل کی گئی ہوتی لیکن چونکہ اسلام رسول للہ اپنی حیات مبارکہ میں ہی مکمل کر گئے تھے لہٰذا ایسی کسی بھی آیت کی ضرورت نہ تھی۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے انسا ن کو زمین پر اپنا خلیفہ قراردیا ہے؟ یعنی ہر انسان احمد،کرشن چند یا جان پال سبھی دنیا میں اللہ کے خلیفہ ہیں۔امام کا لفظ صرف گروپ لیڈر کے طور پر استعمال ہوا ہے کہ رسول اللہ کے جانشین کے طور پر۔8؍جون632 ء کے بعد کی تاریخ کو اسلام کی تاریخ سمجھنے کی غلط روش نے ان دوباہم متضاد فرقوں کو جنم دیا جو آج تک مسلمانوں کا خون مسلمانوں پر جائز قرار دئیے جانے کا بڑا سبب ہے۔ان خانہ جنگیوں میں مسلمانوں کے قتل عام پر علماء کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ذرا ذرا سے واقعات پر فتویٰ دینے والے علمائے اسلام باہمی قتل عام پر ایک دم خاموشی اختیارکر لیتے ہیں۔
بات صرف امامت اور خلافت تک ہی محدود نہ رہی بلکہ اس زمانے میں صحابہ کے درمیان باہمی اختلافات اور جنگوں کی وجہ سے ہر شخص نے یہ شیوہ بنا لیا کہ رسول اللہ کے اقوال و واقعات کو نقل کرنے لگا اور اسلام کی تشریح بجائے قرآن سے متعین ہونے کے ان راویوں کے بیانات سے ہونے لگی۔شرعی اور فقہی قوانین کا انبارلگتا چلا گیا۔حضرت علی ؓ اور حضرت معاویہ ؓ کے چاہنے والوں نے متضاد احادیث کے بیان کرنے میں حق کے سارے پیمانے پامال کر دیے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام شیعہ اور سنیوں کے دوباہم متحارب گروہوں میں بٹ کر رہ گیا حتیٰ کہ یہ نمازیں ،روزے اور دوسرے فرائض وغیرہ بھی مختلف طریقوں سے اد ا ہونے لگے۔مساجد بٹ گئیں اور مدارس جدا جدا ہو گئے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here