کہیں پہاڑ پر بھاری نہ پڑجائے ترقی کا یہ ماڈل

0

پنکج چترویدی

مسلسل لینڈسلائڈنگ اور ملبہ جمع ہونے کے سبب اتراکھنڈ میں راستوں کے بند ہونے کی تقریباً 100خبریں اس برساتی موسم میں آچکی ہیں۔ چمولی ضلع میں چین بارڈر کے ساتھ جڑنے والا اہم راستہ دو ہفتہ سے زیادہ سے بند ہے کیوں کہ تمکانالا اور جموں میں مسلسل ہورہی لینڈسلائڈنگ کے سبب جوشی مٹھ اور ملاری کے درمیان ہائی وے پر نقل و حمل متاثر ہے۔ 6ستمبر کو اتراکھنڈ کے ٹیہری ضلع کے ناگنی میں پیر کے روز لینڈسلائڈنگ اور چٹان گرنے کے ایک ساتھ کئی واقعات ہوئے۔ 21ستمبر کو دہرہ دون-مسوری روڈ پر ملبہ آگیا اور نقل و حمل بند کی گئی۔ بارش کے سبب این ایچ-94رشی کیش-گنگوتری نیشنل ہائی وے ناگنی کے پاس مسلسل لینڈسلائڈنگ سے13ستمبر دوپہر پہاڑوں میں تیزی سے دراڑیں پڑنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑے بڑے بولڈر بڑی تیزی سے نیچے سڑک کی جانب گرگئے۔ 10ستمبر کو رُدرپریاگ کے سروبگڑ کے پاس رشی کیش-بدری ناتھ نیشنل ہائی وے پر پہاڑ کا بڑا حصہ گر گیا جس کی زد میں کئی بڑی گاڑیاں آگئیں۔ کئی جگہ سڑک بھی ڈیمیج ہوگئی ہے۔ رُدرپریاگ اور سری نگر کے درمیان ہائی وے پر نقل و حمل متاثر ہوگئی ہے۔ ابھی یکم اکتوبر کو گوپیشور اوکھی مٹھ روڈ پر ملبہ گرا۔
ترقی کے نام پر پہاڑی ریاستوں میں بے حساب سیاحت نے فطرت کا حساب گڑبڑایا تو گاؤں-قصبات میں ترقی کے نام پر آئی گاڑیوں کے لیے چوڑی سڑکوں کی تعمیر کے لیے زمین مہیا کرانے یا کنکریٹ حاصل کرنے کے لیے پہاڑوں کو ہی نشانہ بنایا گیا۔ ہمالیہ ہند برصغیر کے پانی کی اہم بنیادہے اور اگر نیتی آیوگ کے سائنس اور ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ تین سال پہلے تیار پانی کے تحفظ پر رپورٹ پر اعتماد کریں تو ہمالیہ سے نکلنے والی60فیصدپانی کی لہروں میں دن بہ دن پانی کی مقدار میں کمی آرہی ہے۔ گلوبل وارمنگ یا زمین کا گرم ہونا، کاربن کے اخراج، آب و ہوا میں تبدیلی اور اس کے برے نتیجہ کے طور پر زمین کو ٹھنڈا کرنے کا کام کررہے گلیشیروں پر آرہے خوفناک بحران اور اس کے سبب پوری زمین کے وجود کے خطرے کی باتیں اب محض کچھ ماہرین ماحولیات تک محدود نہیں رہ گئی ہیں۔ آہستہ سے کچھ ایسے دعوؤں کے دوسرے پہلو بھی سامنے آنے لگے کہ جلد ہی ہمالیہ کے گلیشیر پگھل جائیں گے، جس کے سبب ندیوں میں پانی میں اضافہ ہوگا اور اس کے نتیجہ کے طور پر جہاں ایک طرف نئے شہر-گاؤں پانی سے سیراب ہوجائیں گے، وہیں زمین کے بڑھتے درجۂ حرارت کو کنٹرول کرنے والی چھتری کے برباد ہونے سے خوفناک قحط، سیلاب و گرمی پڑے گی اور ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں انسانی زندگی پر بھی بحران ہوگا۔
گزشتہ برس مارچ ماہ کے تیسرے ہفتہ سے ہندوستان میں کورونا بحران کے سبب نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں بھلے ہی دفتر-بازار وغیرہ پوری طرح بند ہوگئے تھے، لیکن 31ترقیاتی پروجیکٹوں کے لیے 185ایکڑ گھنے جنگلوں کو اجاڑنے کی اجازت دینے کا کام ضرور ہوتا رہا۔ 7اپریل2020کو نیشنل بورڈ آف وائلڈ لائف(این بی ڈبلیوایل) کی مقامی کمیٹی کی میٹنگ ویڈیو کانفرنسنگ پر منعقد کی گئی۔ اس میں ڈھیر سارے اعتراضات کو درکنار کرتے ہوئے گھنے جنگلوں کو اجاڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ ماحولیاتی نقطۂ نظر سے حساس 2933ایکڑ زمین کے استعمال میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ 10کلومیٹر محفوظ علاقہ کی زمین کو بھی مبینہ ترقی کے لیے سونپنے پر کمیٹی متفق نظر آتی ہے۔ اس درجہ میں اہم تجویز اتراکھنڈ کے دہرہ دون اور ٹیہری گڑھوال اضلاع میں لکھوار ہمہ جہت مقاصد کے پروجیکٹ (300 میگاواٹ) کی تعمیر جاری ہے۔ اس پروجیکٹ بنوگ وائلڈ لائف سینکچوری کی سرحد سے 3.10کلومیٹر دور واقع ہے اورسینکچوری کے ڈیفالٹ ای ایس زیڈ میں گرتی ہے۔ پروجیکٹ کے لیے 768.155ہیکٹیئر جنگلات کی زمین اور 105.422ہیکٹیئر پرائیویٹ زمین کی ضرورت ہوگی۔ پروجیکٹوں کو دی گئی ماحولیاتی منظوری کو گزشتہ سال نیشنل گرین ٹریبونل نے ریجیکٹ کردیا تھا۔ اس کے باوجود اس پروجیکٹ پر نیشنل بورڈ کے ذریعہ غور کیا گیا۔ یہ حالت ہے کہ ہمارے پالیسی ساز کس طرح ہمالیہ پہاڑ کے ماحولیاتی حالات سے بے پروا ہیں۔
دنیا کے سب سے نوجوان اور زندہ پہاڑ کہلانے والے ہمالیہ کے ماحولیاتی چھیڑچھاڑ سے پیدا ہوئی 2013کی کیدارناتھ تباہی کو بھلا کر اس کی ہریالی اجاڑنے کے کئی پروجیکٹ اتراکھنڈ ریاست کے مستقبل کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ نومبر2019میں ریاستی کابینہ کے منظورکردہ ضوابط کے مطابق کم سے کم 10ہیکٹیئر میں پھیلی ہریالی کو ہی جنگل کہا جائے گا۔ یہی نہیں، وہاں کم ازکم پیڑوں کی کثافت 60فیصد سے کم نہ ہو اور جس میں 75فیصد مقامی درختوں کی نسلیں اُگی ہوں۔ ظاہر ہے کہ جنگل کی تعریف میں تبدیلی کا اصل مقصد ایسے کئی علاقوں کو جنگل کی فہرست سے ہٹانا ہے جو کہ مبینہ ترقی کی راہ میں روڑے بنے ہوئے ہیں۔ اتراکھنڈ میں بن رہی پکی سڑکوں کے لیے356کلومیٹر کے جنگلاتی علاقہ میں مبینہ طور پر 25ہزار پیڑ کاٹ ڈالے گئے۔ معاملہ این جی ٹی میں بھی گیا لیکن تب تک پیڑ کاٹے جاچکے تھے۔ یہی نہیں سڑکوں کاجال ماحولیاتی لحاظ سے حساس اترکاشی کی بھاگیرتھی وادی سے بھی گزر رہا ہے۔ اتراکھنڈ کے چار اہم دھاموں کو جوڑنے والے سڑک پروجیکٹ میں 15بڑے پل، 101چھوٹے پل، 3596پلیا، 12بائی پاس سڑکیں بنانے کا التزام ہے۔ کوئی 12ہزار کروڑ روپے کے علاوہ رشی کیش سے کرن پریاگ تک ریلوے لائن پروجیکٹ بھی منظور ہوچکا ہے، جس میں نہ صرف بڑے پیمانہ پر جنگل کٹیں گے، جنگلاتی زندگی متاثر ہوگی اور پہاڑوں کو کاٹ کر سرنگیں اور پل نکالے جائیں گے۔
یہ بات قبول کرنی ہوگی کہ گلیشیر کے نزدیک چل رہے پن بجلی پروجیکٹ کے لیے ہورہے دھماکوں اور توڑپھوڑ سے پرسکون اور سنجیدہ رہنے والے برف کے پہاڑ ناخوش ہیں۔ ہمالیہ انسٹی ٹیوٹ آف جیولوجی کی ایک ریسرچ کے مطابق گنگا ندی کا اہم ذریعہ گنگوتری آئس بلاک بھی اوسطاً 10میٹر کے بہ نسبت 22میٹر سالانہ کی رفتار سے پیچھے کھسکاہے۔ خشک ہوتی پانی کی لہروں کی بنیاد میں گلیشیر علاقہ کے قدرتی خدوخال میں ہورہی توڑپھوڑ ہے۔
واضح رہے کہ ہمالیہ پہاڑ نہ صرف ہر سال بڑھ رہا ہے، بلکہ اس میں ارضیاتی ہلچل ہوتی رہتی ہے۔ یہاں پیڑ اراضی کو باندھ کر رکھنے میں بڑا کردار نبھاتے ہیں جو کٹاؤ اور پہاڑ ڈھنے سے روکنے کا واحد طریقہ ہے۔ جاننا ضروری ہے کہ ہمالیائی زلزلہ زون میں ہندوستانی پلیٹ کا یوریشین پلیٹ کے ساتھ ٹکراؤ ہوتا ہے اور اسی سے پلیٹ باؤنڈری پر قوت کشیدگی مجتمع ہوجاتی ہے جس سے کرسٹل چھوٹا ہوجاتا ہے اور چٹانوں کی عدم پیوندکاری ہوتی ہے۔ یہ توانائی زلزلوں کے طور پر کمزور زونوں اور فالٹوں کے ذریعہ سامنے آتی ہے۔ جب پہاڑ پر توڑپھوڑ یا دھماکے ہوتے ہیں جب اس کی قدرتی شکل سے چھیڑچھاڑ ہوتی ہے تو دہلی تک زلزلے کے خطرے تو بڑھتے ہی ہیں، جمنا میں کم پانی کا بحران بھی کھڑا ہوتا ہے۔ زیادہ سرنگ یا بہتی لہروںکو روکنے سے پہاڑ اپنی قدرتی شکل میں نہیں رہ پاتا اور اس کے دوررس نتائج مختلف قدرتی آفات کی شکل میں سامنے آرہے ہیں۔ واضح ہو کہ پہاڑ کو کنکریٹ کا نہیں، اپنی قدرتی شکل کی ترقی چاہیے۔ سیمنٹ کے ڈھانچے پہاڑ کے پانی کے بہاؤ اور مٹی کے کٹاؤ کو روکتے نہیں، بلکہ اس کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here