منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

0

عباس دھالیوال

کوئی دیش یا قوم صحیح معنوں میں اس وقت ہی ترقی کر سکتی ہے جب وہ زمانے کے چلن سے قدم سے قدم ملا کر چلے اور اپنے ملک کے باشندوں کی آزادی کا احترام کرے لیکن اگر کوئی قوم یا ملک ایسا نہیں کرتا ہے اور اپنی فرسودہ روایات پہ اڑا رہتا ہے اور زمانے کے ساتھ چلنے کے بجائے نئے ضابطوں و قوانین کو اپنانے سے ہچکچاتا ہے تو فرسودہ روایات پر پہرہ دینا ہی سب سے بڑا ڈرا بیک ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ایسی قومیں و ممالک پسماندگی کے اندھیرے میں دھنستے ہی چلے جاتے ہیں۔ دراصل ہمارے ملک کے نظام سے وابستہ کچھ قوانین وقتاً فوقتاً غلامی کے دور کی یادیں دلاتے رہتے ہیں۔ انہیں قوانین میں سے ایک ملک کی غداری کا قانون ہے جو کہ برطانوی دور حکومت کے عہد سے نافذ ہے۔ یہ اپنے وجود کی وجہ سے ایک بار پھر عدالتی گلیارے میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ در اصل مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ اس قانون کا استعمال اکثر لوگوں کی حق بجانب آوازوں کو دبانے کے لیے کیا جاتا رہا ہے ۔
گزشتہ دنوں ملک کے سپریم کورٹ نے ملک سے غداری کے اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر کے سوال کیا تھا کہ کیا آزادی کے 75 برس بعد بھی اس قانون کی ضرورت ہے؟ اس سلسلے میں مذکورہ قانون کے خلاف سنوائی کے لیے آئی ایک عرضی کو منظور کرتے ہوئے جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ یہ نو آبادیاتی دور کا قانون ہے اور اسے برطانوی حکومت آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے خلاف استعمال کیا کرتی تھی۔ یہاں تک کہ اس وقت اس قانون کا استعمال مہاتما گاندھی کے خلاف بھی کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی مذکورہ قانون کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس قانون کے استعمال پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ایسے مقدمات میں بہت کم سزائیں ہوئی ہیں۔ اس قانون کا بہت غلط استعمال ہوتا آیا ہے۔ ملک سے غداری کے اس قانون کے خلاف ایک سابق فوجی افسر میجر جنرل (ریٹائرڈ) ایس سی اوبڈیکرے کی نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی جس میں مذکورہ قانون کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ اسے بعد میں سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کر لیا تھا۔ اس سے قبل مذکورہ عرضی میں کہا گیا تھا کہ اس قانون کی وجہ سے اظہار رائے کی آزادی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ قانون بولنے کی آزادی اور جمہوری حقوق پر غلط طریقے سے اور غیر ضروری طور پر پابندی لگاتا ہے۔ اسی کے ساتھ عرضی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے کے تحت، جو کہ مذکورہ قانون کی وضاحت کرتی ہے، مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔ اسے فوراً ختم کیا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں عدالت کی طرف سے دلیل دی گئی کہ جب حکومت بہت سے پرانے قوانین ختم کر رہی ہے تو وہ اس کو ختم کرنے پر غور کیوں نہیں کرتی۔ عدالت عظمیٰ کے ججوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس قانون کا غلط استعمال اسی طرح ہو رہا ہے کہ ایک بڑھئی کو درخت کاٹنے کے لیے کلہاڑی دی جائے اور وہ اس سے پورا جنگل کاٹنے لگے۔ عدالت کے مطابق، اگر کوئی پولیس افسر کسی گاؤں میں کسی شخص کے خلاف کارروائی کرنا چاہتا ہے تو وہ تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے لگا دیتا ہے جبکہ اس سے قبل سپریم کورٹ کے سینئر جج ڈی وائی چندر چوڑ نے بھی حال ہی میں ایک پروگرام میں کہا تھا کہ مخالف آوازوں کو دبانے اور شہریوں کو ہراساں کرنے کے لیے انسداد دہشت گردی کا قانون استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سماجی معاشی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا سپریم کورٹ کی ذمے داری ہے۔ کچھ نیوز رپورٹوں کے مطابق، حکومت اور پولیس کی جانب سے جن لوگوں کے خلاف ’یو اے پی اے‘ لگا دیا جاتا ہے، وہ بعد میں عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں لیکن ان قوانین کی وجہ سے ان کو برسوں تک جیلوں میں بند رہنا پڑتا ہے۔

آزادی کے بعد ہمارے ملک نے جمہوری نظام حکومت کو اپنایا ہے تو یقیناً جمہوریت میں بولنے کی آزادی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ بھلے ہم کسی کی بات سے اتفاق نہ رکھتے ہوں لیکن صرف اس بنا پر کہ ہم کسی کی آرا سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں، ہم اس کے خلاف ملک سے غداری والی مذکورہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کریں تو یہ اپنے آپ میں ایک قابل تشویش بات ہے اور یہ فعل جمہوریت میں بولنے کی آزادی کے حقوق کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔

’یو اے پی اے‘ قانون جو کہ 1967 میں بنا تھا، حکومت نے 2004 میں اس میں ترمیم کر کے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کو سزائیں دینے کی بھی راہ ہموار کی تھی جبکہ 2019 میں ہونے والی ایک اور ترمیم کے تحت اب کسی شخص کو بھی اس قانون کے تحت دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے۔ مختلف رپورٹوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حالیہ برسوں میں متعدد صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلبا کو اس قانون کے تحت جیلوں میں ڈالا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے وزارت داخلہ نے رواں برس کے شروع میں پارلیمنٹ میں جو بتایا تھا، اس کے مطابق، 2015 کے مقابلے میں 2019 میں اس قانون کے تحت گرفتاریوں میں 72 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ یقینا قابل تشویش ہے۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق، 2016 سے 2019 کے درمیان 5982 افراد کو ’یو اے پی اے‘ کے تحت گرفتار کیا گیا لیکن صرف 132 افراد کو سزا ہوئی یعنی ایسے معاملات میں سزاؤں کی شرح دو فیصد سے بھی کم ہے۔ اگر غداری والے قانون کو مختلف وکلا کی نظر سے دیکھیں تو اس سلسلے میں سینئر وکیل زیڈ کے فیضان کے مطابق، ملک سے غداری کا قانون انگریزوں کے زمانے میں 1860 میں بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جو لوگ گورنر جنرل وغیرہ کے خلاف بولیں، ان کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی کی جائے لیکن حکومت نے ابھی تک اسے برقرار رکھا ہے۔ بقول ان کے اس وقت اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ جو لوگ برطانوی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کی بات کرتے تھے، ان کے خلاف یہ قانون استعمال کیا جاتا تھا لیکن آج کے آزاد ہندوستان میں حکومت کے خلاف بولنے پر اس قانون کا استعمال سراسر غلط ہے۔ ان کے مطابق، غداری کے مذکورہ قانون کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ آزاد بھارت میں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے جبکہ ادھر دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کا ماننا ہے کہ اس قانون کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ یہ انگریزوں کا بنایا ہوا قانون ہے۔ انہوں نے اپنے ملک میں اسے ختم کر دیا لیکن بھارت میں یہ اب بھی باقی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اس الزام سے اتفاق کیا کہ حکومت اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے اس قانون کا بے انتہا غلط استعمال کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق،2015 سے 2019 تک ’یو اے پی اے‘ کے تحت 7840 افراد گرفتار ہوئے جن میں سے صرف 155 افراد کو سزا ہوئی۔ گویا دو فی صد سے بھی کم لوگوں سزا ہوئی ہے۔ بقول ان کے 98 فیصد افراد پر الزام ثابت نہیں ہوئے یعنی ان کو غلط طریقے سے پھنسایا گیا اور جن دو فی صد پر الزام ثابت ہوا ہے، اس پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت ان قوانین کے غلط استعمال کے الزام کی لگاتار تردید کرتی آ رہی ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ جو لوگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، پولیس ان کے خلاف مقدمات درج کرتی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی ہوتی ہے۔ اس کے مطابق، عدالتیں جن لوگوں کو بری کرتی ہیں، انہیں فوری طور پر جیلوں سے رہا کر دیا جاتا ہے۔
آخر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آزادی کے بعد ہمارے ملک نے جمہوری نظام حکومت کو اپنایا ہے تو یقینا جمہوریت میں بولنے کی آزادی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ بھلے ہم کسی کی بات سے اتفاق نہ رکھتے ہوں لیکن صرف اس بنا پر کہ ہم کسی کی آرا سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں، ہم اس کے خلاف ملک سے غداری والی مذکورہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کریں تو یہ اپنے آپ میں ایک قابل تشویش بات ہے اور یہ فعل جمہوریت میں بولنے کی آزادی کے حقوق کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ آج جبکہ ہمارے ملک کو آزاد ہوئے تقریباً 74 سال ہو چکے ہیں تو ایسے میں یقینا اس قانون کے ضمن میں عدالت عظمیٰ کی آرا پر غور و خوض ہونا چاہیے اور جلد از جلد اس قانون کو ختم کرنے کی جانب قدم بڑھائے جانے چاہئیں ۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here