کیا ملک قرضکے جال میں پھنستا جا رہا ہے؟

0

سراج الدین فلاحی

کووِڈ اور سرکار کی غیر متوقع پالیسیوں نے ملک کی معیشت کو پٹری سے اتار کر اسے اس قدر سخت بحران میں مبتلا کر دیا ہے کہ اب چونکا دینے والے اعداد و شمار آتے رہتے ہیں۔ اگر آپ معاشی امور سے متعلق خبروں پر نظر رکھتے ہیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کنٹرولر جنرل آف اکاؤ نٹس (سی جی اے) جو مالیاتی خسارہ سے متعلق جانکاری دیتا ہے، اس نے کہا ہے کہ رواں مالی سال میں ہندوستان کے مالیاتی خسارے میں 9.3 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ایک مالی سال میں قرض کو چھوڑ کر جب سرکار کا کل خرچ اس کی کل وصولیوں سے زیادہ ہو جاتا ہے تو اسے مالیاتی خسارہ کہتے ہیں۔ مثلاً: سرکار کی کل آمدنی ایک لاکھ روپے ہے اور اس کا کل خرچ ایک لاکھ دس ہزار روپے ہے تو اس صورت میں سرکار کا مالیاتی خسارہ دس ہزار روپے ہو گا۔ 9.3 فیصد مالیاتی خسارے کا مطلب ملک قرض میں ڈوب چکا ہے۔ اگر اسے نمبروں میں دیکھیں تو یہ 18.21 لاکھ کروڑ روپے کی ایک بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔ کووِڈ کی وبا سے پہلے مالیاتی خسارہ تین سے چار فیصد کے درمیان رہتا تھا۔ کووِڈ اور سرکار کی غیر متوقع اور غیر یقینی پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف آمدنی میں کمی آئی ہے بلکہ غیر ضروری اخراجات کی وجہ سے اس کا خرچ بھی بڑھ گیا ہے، اس لیے مالیاتی خسارے میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔ مالیاتی خسارے کی بھرپائی کے لیے سرکار قرض لیتی ہے جس سے ملک اور معیشت پر قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے جو اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ سرکار کا پیراس کی چادر سے بڑا ہے اور وہ اپنی چادر سے باہر پیر پھیلا رہی ہے۔ جب چادر چھوٹی ہوتی ہے اور پیر بڑا ہوتا ہے تو سرکار قرض لیتی ہے، اس لیے مالیاتی خسارہ جتنا زیادہ ہوتا ہے، سرکار کو اتنا ہی زیادہ قرض لینا پڑتا ہے۔

کووِڈ اور سرکار کی غیر متوقع اور غیر یقینی پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف آمدنی میں کمی آئی ہے بلکہ غیر ضروری اخراجات کی وجہ سے اس کا خرچ بھی بڑھ گیا ہے، اس لیے مالیاتی خسارے میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔ مالیاتی خسارے کی بھرپائی کے لیے سرکار قرض لیتی ہے جس سے ملک اور معیشت پر قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے جو اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ سرکار کا پیر اس کی چادر سے بڑا ہے اور وہ اپنی چادر سے باہر پیر پھیلا رہی ہے۔

سرکار اپنے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے آر بی آئی سے قرض لیتی ہے، آر بی آئی مالیاتی خسارے کو کم کرنے اور سرکار کو قرض فراہم کرنے کے لیے نئی کرنسی پرنٹ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ نئی کرنسی سے معیشت کے اندر منی سپلائی بڑھ جاتی ہے اور منی سپلائی میں اضافہ ہونے پر وہ افراط زر یعنی مہنگائی کا شکار ہوجاتی ہے۔ مہنگائی جب طویل عرصے تک قائم رہتی ہے تو معیشت میں Wage-Price Spiralکی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ اس صورت حال میں مہنگائی بھتا کے نام پر تنخواہ بڑھتی ہے اور بڑھی ہوئی تنخواہ کی وجہ سے مہنگائی مزید بڑھ جاتی ہے یعنی تنخواہ اور مہنگائی دونوں ایک دوسرے کا تعاقب کرتی ہیں۔ سرکار جب دیگر اداروں سے قرض لیتی ہے تواس سے اور زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں، کیونکہ قرض کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے صرف لوٹانا نہیں ہوتا بلکہ لوٹانے تک اس پر لگاتار سود بھی دینا پڑتا ہے۔ سود دینے سے ریونیو اخراجات بڑھتے ہیں نتیجتاً ریونیو خسارہ بڑھنے لگتا ہے اور ایسی صورت حال پیدا ہونے لگتی ہے کہ پرانے قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے نیا قرض لینا پڑتا ہے۔ بالآخر ملک قرضوں کے جال میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور آنے والی نسلیں مقروض پیدا ہوتی ہیں۔
مالیاتی خسارہ جب لگاتار بڑھتا ہے توجی ڈی پی گروتھ ریٹ کم ہونے لگتا ہے، کیونکہ اونچے مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے سرکا ر کو بسا اوقات ٹیکس میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ ٹیکس دینے کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید میں کمی واقع ہوتی ہے، قوت خرید میں کمی کے سبب مجموعی ڈیمانڈ کم ہو جاتی ہے اور مجموعی ڈیمانڈ کم ہونے کی وجہ سے پروڈکشن کم ہو جاتا ہے، بالآخر جی ڈی پی گروتھ کم ہو جاتی ہے۔ مالیاتی خسارہ چونکہ ریونیو پر اخراجات کے اضافے کا نام ہے ،اس لیے سرکار اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے ملک میں ہو رہے تعمیراتی و ترقیاتی کاموں کو پس پشت ڈال دیتی ہے جس کے نتیجے میں ملک کا انفرااسٹرکچر کمزور پڑنے لگتا ہے، کمزور انفرااسٹرکچر میں انوسٹمنٹ منافع بخش نہیں ہوتا، لہٰذا سرمایہ کار بازار چھوڑنے لگتے ہیں جس کا سیدھا اثرجی ڈی پی پر پڑتا ہے۔ جب جی ڈی پی کم ہوتی ہے تو سرکار کا ریونیو بھی گھٹ جاتا ہے اور ملک مزید معاشی بحران کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
جب مالیاتی خسارہ زیادہ بڑھتا ہے تو سرکار کو بیرون ممالک سے قرض لینا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ملک کی معیشت میں قرض دینے والے ممالک کی دخل اندازی بڑھ جاتی ہے۔ ظاہر ہے جو ملک بڑے بڑے قرض دے گا، وہ معاشی معاملات میں دخل بھی دے گا۔ نتیجتاً ملک معاشی غلامی کی طرف چلا جاتا ہے۔ معاشی غلامی کے سبب عالمی منی مارکیٹ میں صرف اس کی ساکھ ہی مجروح نہیں ہوتی بلکہ کریڈٹ ریٹنگ پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں۔ جب کریڈٹ ریٹنگ گرتی ہے تو عالمی سرمایہ کار ملک سے اپنا پیسہ نکالنے لگتے ہیں جس کا اثر ملک کی کرنسی پر پڑتا ہے اور ملک کی کرنسی گر جاتی ہے۔ جب ملک کی کرنسی گرتی ہے تو امپورٹ مہنگا ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہندوستان پیٹرولیم اور صنعتی ساز و سامان بڑے پیمانے پر امپورٹ کرتا ہے، اس لیے امپورٹ کے مہنگا ہونے پر نئے مسائل جنم لینے لگتے ہیں اور ترقی کاپہیہ رک جاتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ مالیاتی خسارہ ملک کی معیشت کو پیچھے کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ دھیان رہے مالیاتی خسارے سے صرف ملک کی موجودہ نسل پر قرضوں کا بوجھ نہیں بڑھتا ہے بلکہ آنے والی نسلیں بھی مقروض پیدا ہوتی ہیں، کیونکہ باپ اور دادا کا لیا ہوا قرض پوتوں کو وراثت میں منتقل ہو جاتا ہے اور آنے والی نسلیں اس کی بھرپائی کرتی ہیں۔
اب سوال صرف یہ نہیں ہے کہ مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لیے سرکار کو کیا کرنا چاہیے، سوال یہ بھی ہے کہ یہ ملک چلے گا کیسے؟ پیسہ کہاں سے آئے گا؟ کیا فنڈس اکٹھا کرنے کے لیے اس ملک کے سارے سرکاری اداروں کو بیچا جائے گا؟ کیا اسی لیے سرکار جب بھی کسی یوجنا کا اعلان کرتی ہے تو وہ کوئی راحت پیکیج نہیں دیتی ہے بلکہ وہ کہتی ہے کہ آپ محنت و مزدوری کر کے ملک کا نام روشن کیجیے، ہم آپ کو لون دیں گے۔ اس سلسلے میں پہلا اہم قدم تو یہ ہو سکتا ہے کہ سرکار اپنے غیر ضروری اخراجات جیسے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ اور بہت ساری غیر ضروری سبسڈیوں پر روک لگائے۔ ساتھ ہی نہ صرف لوٹ کھسوٹ، چوری، غبن، رشوت اور گھوٹالوں کو روکے بلکہ رائٹ آف کے نام پر بینکوں میں ہو رہی لاکھوں کروڑ روپیوں کی لوٹ کو بھی بند کرے۔ آپ کو سن کر حیرت ہو گی کہ بینکوں کے ذریعے دیا گیا وہ قرض جن کے واپس آنے کی امید معدوم ہو چکی ہے، جنہیںاین پی اے کہا جاتا ہے، وہ تقریباً12 فیصد ہو چکا ہے۔ آپ کو یہ بھی سن کر حیرت ہو گی کہ وہ ریاستی اور مرکزی لیڈران جن کو ہم چنتے ہیں، اگر وہ اگلے الیکشن میں ہار بھی گئے تو بھی ان کی پنشن اور بہتر سہولتوں کے نام پر تقریباً بیس ہزار کروڑ کا خرچ آتا ہے اور یہ خرچ اسی سرکاری پٹارے پر پڑتا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں پیسہ ہے ہی نہیں۔ ان پر روک لگانے سے مالیاتی خسارہ قابو میں نہیں آ رہا ہے تو دوسرا قدم یہ ہو سکتا ہے سرکار اپنے اداروں (PSUs)کو فروخت نہ کرے بلکہ انہیں کارآمد بنائے تاکہ ان اداروں سے زیادہ سے زیادہ آمدنی ہو۔ اس سے بھی بات نہ بنے تو ملک کے امیر ترین افراد پر ٹیکسوں میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here