یہ سوچئے کردار گھٹا ہے کہ بڑھا ہے !

0

عباس دھالیوال

انسان ترقی کر لینے کے بڑے بڑے دعوے کرتے نہیں تھکتا۔ اس کے ان دعوؤں پر شک بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یقینا انسان نے رب العزت کی بخشی ہوئی عقل و فہم کے صدقے میں چاند پر کمند ڈالنے کے بعد مریخ کو تسخیر کرنے کی سوچ رہا ہے لیکن اس ترقی کے باوجود جب ہم آدمی کے اخلاق و اقدار کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ہمارے اخلاق لگاتار تنزلی کی طرف گرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک کہاوت مشہور ہے کہ جیسا راجہ ویسی پرجا۔ ۔۔۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ حکمراں کی نیت کا دار و مدار عوام کے عوامل پر ہوتا ہے۔ اس عہد جس میں ہم لوگ جی رہے ہیں، اسے اگر آج ہم اخلاقیات کی کنگالی کا دور کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ جب ہم عالمی سطح پر نظر دوڑاتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ملکوں کی سیاست کا واحد محور آجکل وہاں اقلیتی طبقہ بنا ہوا ہے۔ مختلف مشاہدوں میں یہ باتیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں کہ اقلیتوں کے خلاف پالیسیاں بناکر سرکاریں اکثریتی طبقے کو خوش کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہیں تاکہ نااہلیوں و ناکامیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔اس ضمن میں دنیا میں خود کو حقوق انسانی کا علمبردار کہلانے والے امریکہ کی ہی بات کریں تو اونچی دکان پھیکا پکوان کے محاورے کی مصداق کہنے کو وہاں قانون کی رو سے سبھی کو یکساں حقوق حاصل ہیں لیکن جب وہاں کے سیاہ فام لوگوں کے حالات زندگی کو دیکھتے ہیں تو ان کے خلاف پولیس کی بربریت کی ڈھیروں مثالیں مل جاتی ہیں۔

امریکی ایجنسی نے جو رپورٹ پیش کی ہے، اس میں دنیا کے چند ملکوں کا ہی تذکرہ کیا گیا ہے جبکہ دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جو خود کو حقوق انسانی کے اور جمہوریت کے بڑے علمبردار کہلاتے ہیں لیکن ان کے یہاں بھی اقلیتی طبقے سے وابستہ پسماندہ لوگوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں اور جس طرح ان لوگوں کو ووٹنگ کے پولرائزیشن کے چلتے آئے دن ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، یقینا وہ بیان کرنا مشکل ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک کی بات کریں تو ان ملکوں میں بھی اکثر اوقات حکومت کی سطح پر اقلیتوں کے خلاف بڑے منظم طریقے سے مظالم ڈھانے کا ایک سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اس سلسلے میں چین نے اویغوروں کے خلاف ظلم کی انتہا کر رکھی ہے۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق چین میں بڑے منظم طریقے سے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ اویغور مسلمانوں کو اسلامی احکامات پر عمل نہ کرنے دیا جائے۔ نسل کشی اور ایذا رسانی کی روک تھام سے متعلق امریکہ کی ایک تازہ رپورٹ میں چھ ممالک میں نسل کشی اور ایذا رسانی کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ان ممالک میں میانمار، جسے برما بھی کہا جاتا ہے، چین، ایتھوپیا، عراق، شام اور جنوبی سوڈان شامل ہیں۔ رپورٹ میں ان مالی، سفارتی اور دیگر اقدامات کا بھی ذکر ہے جو امریکی حکومت نسل کشی اور ایذا رسانی کو روکنے کے لیے کر رہی ہے۔ مذکورہ رپورٹ کو جاری کرتے وقت امریکی وزیر خارجہ بلنکن کا کہنا تھا کہ ’اس سال پہلی مرتبہ اس رپورٹ میں مخصوص ممالک میں جن میں برما، ایتھوپیا، چین اور شام شامل ہیں، ایذا رسانی کی تفصیلات براہ راست بیان کی گئی ہیں۔ ان ممالک سے ہمارے ایجنڈے کو خارجہ پالیسی کے بعض سخت ترین چیلنجز درپیش ہیں۔‘ بلنکن کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم ایک مربوط داخلی دباؤ اور رد عمل کے لیے وہ تمام ذرائع استعمال کریں گے جو ہمیں حاصل ہیں اور جن میں سفارتکاری، بیرونی امداد، حقائق معلوم کرنے کے مشن، مالیاتی ذرائع اور اس نوعیت کی رپورٹیں شامل ہیں جیسی کہ یہ ہے۔‘ جبکہ اس سے قبل امریکہ، یوروپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چین کے دو عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں اور اسی بنیاد پر درجنون چینی کمپنیاں سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر نے والوں کی امریکی فہرست میں شامل کی گئی ہیں۔ ادھر ماہرین کی مانیں تو بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی کو روکنا نہ صرف ایک اخلاقی ذمے داری ہے بلکہ ایک فرض بھی ہے۔
دوسری طرف ’جینوسائیڈ واچ‘کے بانی صدر گریگری سٹینٹن کے مطابق نسل کشی امریکی وفاقی عدالتوں کے تحت عالمی عملداری کے جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔ خواہ یہ نسل کشی دنیا میں کہیں بھی ہوئی ہو، امریکی وفاقی عدالتوں میں اس پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے مجرموں کا امریکہ میں موجود ہونا ضروری ہے، کیونکہ امریکہ میں کسی کے خلاف اس کی عدم موجودگی میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ چین، امریکہ اور دیگر 150 ممالک کے ساتھ اس ’جینو سائیڈ کنونشن‘کا فریق ہے۔ میانمار کے معاملے میں امریکہ نے 2021 کی بغاوت کے بعد اس کی فوجی قیادت پر پابندیاں عائد کی ہیں اور اس کے ساتھ فوجی رابطے معطل کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ ایتھوپیا کے ٹگرے کے علاقے میں جبر و ستم کو نسل کشی کی کارروائیوں کے خلاف ایسی امداد پر پابندی لگا رہا ہے جس کا تعلق انسانی ہمدردی سے نہیں ہے اور اس ملک کے ساتھ دفاعی تجارت پر مزید پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ اس ضمن میں جب امریکی وزیر خارجہ بلنکن سے سوال کیا گیا کہ آیا امریکی حکومت نے ٹگرے اور برما میں روہنگیا کے خلاف جبر و ستم کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کے جواب میں بلنکن کا کہنا تھا کہ ان دونوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ان پر فعال طریقے سے غور ہو رہا ہے جبکہ ادھر ایک نیوز رپورٹ کے مطابق ’جینو سائیڈ واچ‘کے سٹینٹن نے امریکی محکمہ خارجہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس کے قانون دانوں نے بہت سے دیگر ممالک میں ہونے والی نسل کشی کے بارے میں اعلانات کو روک دیا تھا۔ اس حوالے سے سٹینٹن کا کہنا تھا کہ روانڈا میں نسل کشی کو تین ماہ تک نسل کشی کہنے سے انکار کیا گیا۔ ان کے مطابق اب بھی برما میں روہنگیا کے خلاف کارروائیوں کو نسل کشی تسلیم کرنے میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے اور اس بارے میں بھی رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے کہ نائیجیریا میں مسیحیوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔
دراصل امریکی ایجنسی نے جو رپورٹ پیش کی ہے، اس میں دنیا کے چند ملکوں کا ہی تذکرہ کیا گیا ہے جبکہ دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جو خود کو حقوق انسانی اور جمہوریت کے بڑے علمبردار کہلاتے ہیں لیکن ان کے یہاں بھی اقلیتی طبقے سے وابستہ پسماندہ لوگوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں اور جس طرح ان لوگوں کو ووٹنگ کے پولرائزیشن کے چلتے آئے دن ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، یقینا وہ بیان کرنا مشکل ہے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here