پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس

0

آج سے پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہوجائے گا جو 13اگست تک جاری رہے گا۔ دیگر اجلاسوں کی طرح یہ بھی حکومت اور اپوزیشن کے لئے کافی اہم ہے ۔جہاں سرکار کی کوشش ہوگی کہ 3 آرڈیننسوں اور 17نئے بلوں سمیت کل 22 بلوں کو پارلیمنٹ سے منظور کراکے انہیں قانونی حیثیت دلائے، وہیں اپوزیشن سرکار کو گھیرنے کی کوشش کرے گی ۔ مہنگائی، پٹرولیم اشیا اور خوردنی تیلوں کے داموں میں اضافہ ، کورونا کے ٹیکوں کی کمی اور ضرورت کے مطابق بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری نہ ہونا، رافیل معاہدہ، کسان تحریک، قومی سلامتی اوربدعنوانی جیسے ایشوزاٹھائے جائیں گے ۔ سرکار کتنی زور زبردستی کرتی ہے اور اپوزیشن پارٹیاں سرکار کے سامنے کتنی مشکلات کھڑی کرتی ہیں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا ۔ اتنا تو طے ہے کہ حسب سابق اس اجلاس میں بھی شوروہنگامہ ہوگا ، واک آئوٹ کی نوبت بھی آسکتی ہے ۔ نمبر گیم سرکار کے حق میں ہے اوروہ ہر بل آسانی سے پاس کراسکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ بھی توہے کہ اپوزیشن پارٹیاں بلوں کی پیشی ، ان پر بحث اورووٹنگ کے لئے کتنا وقت سرکار کو دیتی ہے۔اگر ہنگامہ زیادہ ہوا اورایوان کی کارروائی ملتوی ہوتی رہی تو ایجنڈے کے مطابق سرکار زیادہ بلوں کو پیش نہیں کرسکے گی یا پیش کردیا تو اس پر بحث یا ووٹنگ نہیں ہوسکے گی۔
جس طرح کے حالات ہیں ، سرکار اوراپوزیشن کے درمیان مفادات کا ٹکرائو یقینی ہے ۔ حالانکہ ہر اجلاس سے قبل کل جماعتی میٹنگ کی جو رسم ادا کی جاتی ہے اوراس میںیا اس کے بعد جو کہا جاتا ہے ، اجلاس کے دوران اس کے برعکس صورت حال ہوتی ہے ۔اس بار بھی کل جماعتی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندرمودی نے کہا کہ اپوزیشن کے مشورے کافی اہم ہوتے ہیں۔ بحث کافی معنی رکھتی ہے اوروہ مثبت وصحت مند ہونی چاہئے ۔ضابطہ کے مطابق سرکار ہر ایشو پر بحث کرنے کو تیار ہے۔ لیکن کیا ایساہوگا، شاید اس کی ضمانت نہ سرکار دے سکے اورنہ اپوزیشن۔کیونکہ جیسے اجلاس کی کارروائی شروع ہوتی ہے ہنگامہ شروع ہوجاتا ہے اورایجنڈکے مطابق کارروائی نہیں ہوپاتی۔ آخر میں ایسی نوبت آجاتی ہے کہ کئی اہم ایشوز پر بحث نہیں ہوپاتی یا نہیں کرائی جاتی اورکچھ ضروری بلوں کو بحث کی رسم اداکرکے یاتومنظوری دیدی جاتی ہے یا سرکار زبردستی منظورکرالیتی ہے اورکچھ بلوں کو اگلے اجلاس کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔
مانسون اجلاس سے قبل ترنمول کانگریس کے قومی ترجمان اورمتعدد پارلیمانی کمیٹیوں کے ممبر ڈیریک اوبراین نے ایک اہم ایشوکی طرف ملک کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سرکار پارلیمنٹ کا مذاق نہ اڑائے۔ قانون سازی ایک اہم کام ہے ، اس کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے اوراس کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ این ڈی اے اوریوپی اے سرکار کے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے ایک ٹوئٹ میںکہا ہے کہ بلوںپرغوروخوض کیلئے پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجنے کے رجحان میں گزشتہ 7برسوں میں کافی کمی آئی ۔ان کاکہناہے کہ 14ویں لوک سبھا میں 60فیصد ، 15ویں میں 71فیصد بل اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجے جاتے تھے جو 16ویں لوک سبھا میں 25 اور 17 ویں میں 11فیصدبھیجے جارہے ہیں۔یہ گراف افسوس ناک ہے۔گزشتہ چند برسوں سے دیکھا جارہا ہے کہ اہم اورمتنازع بلوں کو غوروخوض کیلئے اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ اپوزیشن کرتی رہتی ہے لیکن سرکار زبردستی پاس کرادیتی ہے۔ جس سے بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں اورسرکار کو بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیساکہ زرعی قوانین کے معاملہ میں دیکھا جارہاہے ۔اس صورت حال کو بدلنا ہوگا ۔ غوروخوض کے بعد ہی بلوں پر بحث اورووٹنگ ہوتاکہ مسائل کا بھی حل ہو اورکسی کو پریشانی نہ ہو۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here