جنگ نہیں ہونی چاہیے

0

جنگ شروع ہوگئی ہے۔دنیا کی اپیلوں اور امریکہ و ناٹوافواج کی دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے روس نے یوکرین پر حملہ کردیا ہے۔روس کا دعویٰ ہے کہ وہ یوکرین کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کررہاہے لیکن جو تصاویرا ور مناظر سامنے آرہے ہیں، وہ روس کے اس دعوے کی تردید کررہے ہیں۔شہری آبادیوں میں بھی فضائی حملوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔یوکرین کی راجدھانی کیف میں مسلسل فضائی حملے ہو رہے ہیں جن میں اب تک درجنوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ یوکرین کا بھی دعویٰ ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں روس کے 5 ایئر کرافٹ کو مار گرایا ہے اور 50سے زیادہ فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ یوکرین کے رہنمااپنے فوجیوں اور شہریوں کا حوصلہ بلند رکھنے کیلئے ’ لڑیں گے اور جیتیں گے ‘ جیسے نعرے لگارہے ہیں اور مدد کیلئے دوسرے ممالک کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں۔اس بیچ اقوام متحدہ نے اپیل کی ہے کہ انسانیت کے نام پر یہ جنگ روک دی جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ جنگ کا آغاز بڑاآسان ہوتا ہے لیکن اس کے ختم ہونے کی کوئی مدت طے نہیں کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس کے نتائج کے سلسلے میں کوئی حتمی پیش قیاسی ممکن ہے۔ اگر یہ جنگ پہلے ہی مرحلے میں نہ روکی گئی تو عین ممکن ہے کہ یہ تیسری عالم گیر جنگ بن جائے۔اس جنگ کا ذمہ دار کون ہے اور اس کے نتائج کا ملبہ کس کے سر ڈالا جائے گا، یہ الگ بحث ہے۔دو عالمی جنگوں کی ہولناکی دیکھنے والی دنیا کیلئے بہرحال یہ تیسری عالمی جنگ ایک اور بھیانک تعبیر بن سکتی ہے۔ ویسے بھی آج کی دنیا دہشت گردی، خانہ جنگی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے ساتھ ساتھ کورونا کی وبا کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ ان کی وجہ سے روزانہ ہزاروں اور لاکھوں عام لوگوں کی زندگیاں تباہ ہورہی ہیں۔دنیا کے کئی ممالک کی معیشتیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ ان حالات میں دنیاکسی اور جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ میں جیسا کہ حالات اور واقعات بتارہے ہیں عین خدشہ ہے کہ امریکہ اور ناٹو اتحاد بھی کود پڑیں کیوں کہ دو دہائی قبل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر مختلف ممالک میں بٹ جانے والا امریکہ کا سب سے بڑا عسکری اور نظریاتی حریف سوویت یونین اب روس کی شکل میں ایک بار پھر امریکہ کیلئے چیلنج بن گیا ہے۔امریکہ یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ مشرقی بلاک پھر طاقت پکڑے اوراس کی سامراجیت کیلئے چیلنج بنے۔ اور روس کو یہ منظور نہیں ہے کہ اس کا کوئی پڑوسی ملک جو پہلے اس کا باج گزار رہ چکا ہے، امریکہ اور ناٹو اتحاد کی گود میں جا بیٹھے۔ روس کے حالات کا جائزہ لیاجائے تو پتہ چلتا ہے کہ سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد روس نے بڑی تیزی سے خود کو سنبھالا ہے، عسکری قوت میں بے پناہ اضافہ کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت کو بھی مستحکم کیا ہے۔ دوسری جانب دنیا پر یک و تنہا حکومت کا خواہش مند امریکہ، روس کے چاروں جانب ناٹو افواج کی چوکیاں قائم کرچکا ہے۔ روس کے آس پاس کے یوروپی ممالک کو مالی اور جنگی امداد فراہم کرکے امریکہ مسلسل روس کے دردسر میں اضافہ کرتا رہاہے۔ یوکرین بھی امریکہ سے جنگی امداد لینے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ 2014 سے لے کر اب تک یوکرین نے امریکہ سے 2.5 ارب ڈالر حاصل کیے ہیںاور روس کو یہ خدشہ بھی ہے کہ یوکرین ناٹو اتحاد میں شامل ہوکر روس کے مستقبل کیلئے بڑا چیلنج بن جائے گا۔ جب کہ روس کا مفادناٹو کو پیچھے دھکیلنے میں ہے۔اسی مقصد کے تحت اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل کریمیا علاقہ کو روس نے2014 میں اپنے ساتھ ملحق کرلیا۔
یکے بعد دیگرے کیے جانے والے اقدامات کو روسی عوام کی جانب سے ملنے والی حمایت نے صدر پوتن کی ہمت کو اور بڑھاوا دیااور انہوں نے چند یوم قبل مشرقی یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ممالک کا درجہ دے کر وہاں قیام امن کے نام پرا پنی فوج بھیج دی۔یہ فوج آج یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملہ آور ہے۔ اس جنگ کا واحد مقصد امریکہ کی سامراجیت کو سابقہ مشرقی بلاک ( روس اور اس سے متصل موجودہ ممالک) سے دور رکھنا ہے۔ سردجنگ کے خاتمہ اور سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد امریکہ نے اعلان کیاتھا کہ ناٹو کے دائرۂ کار میں مشرق کی جانب ایک انچ کی بھی توسیع نہیں کی جائے گی لیکن ہوا اس کے برعکس، ان30برسوں میں ناٹو کا دائرۂ کار مشرق میں ایک ہزار کلو میٹر تک وسعت اختیار کرچکا ہے اور اب روس سے علیحدہ ہونے والے جارجیا اور یوکرین جیسے ممالک ناٹو اتحاد کے رکن بننے کی دہلیز پر ہیں۔روس نے جنگ سے قبل امریکہ اور ناٹو سے جو مطالبات کیے تھے، ان میں سابقہ مشرقی بلاک میں امریکہ اور ناٹو کاجنگی سرگرمیوں سے اجتناب، میزائل روس کے اتنے قریب نصب نہ کرنا جو اس پر مارے جا سکتے ہوں اور مشرق میں ناٹو کے پھیلاؤ کا خاتمہ شامل تھا لیکن جیسا کہ امریکہ سے توقع ہے، اس نے ان مطالبات کو پر کاہ کی بھی اہمیت نہیں دی اور انہیں غیرمعقول ٹھہراتے ہوئے مسترد کردیا۔
دیکھاجائے تو روس نے یوکرین پر حملہ کرکے امریکہ کی سامراجیت کو چیلنج کردیا ہے اور جیسا کہ امریکہ کی اب تک کی تاریخ ہے کہ جب اس کے مفاد پر آنچ آتی ہے تو وہ دوسرے ممالک کی ’ قومی خودمختاری ‘ اور ’ سرحدوں کا احترام‘ کے مقدس اصول کی مالاجپتے ہوئے حکومتوں اور ملکوں پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا ہے۔روس اور یوکرین کے معاملہ میں بھی بعینہٖ یہی صورتحال ہے۔لیکن دنیا کسی بھی حال میں اب تیسری عالمی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔دنیا کی بھلائی اسی میں ہے کہ اس جنگ کو ختم کرنے کا سامان کیاجائے۔ ضرورت ہے کہ اقوام متحدہ اپیل سے آگے بڑھے اور اپنا فعال کردار اداکرے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS