BF.7سے احتیاطی تدابیر میں کوئی حرج نہیں

0

ایم اے کنول جعفری

چین میں کہرام مچارہے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومی کروم BF.7کے خطرناک ہونے کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں ہر روز اوسطاً آٹھ ہزار افرادموت کا شکار ہو رہے ہیں۔آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے لاشوں کوکولڈ اسٹوریز میں رکھا جا رہا ہے۔اس ویرینٹ کے چار معاملے ہندوستان میں پائے جانے کے مد نظرملک کو ایک بار پھر سے کورونا وائرس سے متعلق پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اس بابت مرکزی حکومت نے تمام صوبائی ریاستوں اور متعلقہ محکموں کو وائرس کی موجودہ اور ابھرتی ہوئی شکلوں پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی بڑھانے کی ہدایت کے ساتھ لوگوں کو بھیڑ والے مقامات پر ماسک پہننے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔21دسمبر کو مرکزی وزیر صحت من سکھ مانڈویہ نے ایک اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں کورونا کی صورت حال کا جائزہ لیا۔ اس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے ہر ہفتہ ایک میٹنگ کی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہBF.7کے تین معاملے گجرات اور ایک معاملہ اُڈیشہ میں ملا ہے۔ یہ سبھی معاملے جولائی،ستمبر اور نومبر میں سامنے آئے ہیں۔کووڈ سے متعلق تیاریوں کو پرکھنے کے مدنظر27دسمبر کو پورے ملک کے اسپتالوں میں ماک ڈرل کا اہتمام کیا گیا۔
BF.7شدید طور پر متاثر کرنے کے علاوہ تیزی سے پھیلنے والا خطرناک وائرس ہے۔یہ کورونا سے متاثر ہوچکے یا اس سے حفاظت کا ٹیکہ لگوا چکے افرادکو بھی اپنی گر فت میں لینے کی قوت رکھتا ہے۔اس کے معاملے امریکہ،برطانیہ، بلجیم، جرمنی،فرانس اور ڈنمارک جیسے یوروپی ممالک میں پائے گئے ہیں۔ دوسری جانب صفر کووڈ پالیسی سے باہر نکلتے ہی چین میں کورونا دھماکے کی موجودہ حالت بھلے ہی انتہائی تعجب خیز نہ ہو، لیکن چین میں کورونا افزائش کی صورت حال نے ایک مرتبہ پھر سے دنیا کو خوف زدہ کردیا ہے۔تقریباً تین برس بعد لاک ڈاؤن سے مکمل طور پر باہر نکل چکے چین میں اندرون ملک اور بین الاقوامی پروازوں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اُسے دیکھتے ہوئے مارچ 2023 تک پروازوں کی تعدادکے کووڈسے پہلے کی سطح کو تجاوز کرنے کے امکانات ہیں۔آئندہ فروری میں نئے برس کے دوران چین میں مسافروں کی تعداد میںنئے ریکارڈ قائم ہو سکتے ہیں۔ اسے پورے عالم کے لیے تشویش کا ایک اور سبب تسلیم کیا جا رہا ہے۔ وہ بھی اس صورت میں جب چین کے اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں اور شمشان گھاٹ پر لاشوں کے انبار لگے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چین میں 60فیصد لوگ یا84کروڑ افراد آئندہ کووڈ کی گرفت میں آسکتے ہیں۔اس کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کی کووڈ پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ طویل مدتی لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہاں کے لوگوں میں ہائی امیونٹی تیار نہیں ہوسکی۔ چین 90فیصد لوگوں کو ٹیکے لگائے جانے کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ80برس سے زیادہ عمر کے صرف50فیصد لوگوں کو ویکسین لگائی جا سکی ہے۔اس سبب وہاں ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تر عمر رسیدہ لوگ ہیں۔حقیقت یہ بھی ہے کہ دوسرے ممالک کے مقابلے چین میں تیار کی گئی ویکسین زیادہ اثردار ثابت نہیںہو سکی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ویکسین جدید ایم آر این اے ٹیکنالوجی کے بجائے پرانی اور فرسودہ طرز پر تیار کی گئی تھی۔
برطانیہ کی ’ گلوبل ہیلتھ انٹلیجنس اینڈ اینالٹکس فرم‘ نے چین میں کورونا وائرس کے انفیکشن کے حوالے سے تبدیل ہوتی صورت حال پر نیا تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس میںواضح کیا گیا ہے کہ چین میں ہائی برڈ امیونٹی کی کمی کو دیکھتے ہوئے ملک میں ویکسی نیشن اور بوسٹر خوراک کی تقسیم کم ہونے کی وجہ سے صورت حال مزید خراب ہو نے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کے مطابق اگر چینی حکومت اپنی صفر کووڈ پالیسی کو مکمل طورپر تبدیل کرتی ہے تو 13سے21لاکھ تک لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑسکتی ہیں۔ دوسری جانب چین کے اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ کا کہنا ہے کہ بیجنگ میں کووڈ کے سنگین معاملے بہت تیزی کے ساتھ برھنے کے قوی امکان ہیں۔ان سے جلد از جلد نمٹنا لازمی ہے۔اخبار نے چین کے معروف نظام تنفس کے ماہر وانگ گوآنگفا کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ہمیں کووڈ کے وائرس سے نمٹنے کے لیے جلدی تیاری کے علاوہ بخار،کلینک،ہنگامی اور سنگین علاج کے وسائل کو تیار کرلینے کی ضرورت ہے۔اسی دوران چین میں وبائی مرض سے ہونے والی اموات کی کل تعداد5,241سے تجاوز کرگئی ہے۔’ایئرفنیٹی‘ کے تجزیے کے مطابق چین کی آبادی میں قوت مدافعت کی سطح بہت کم ہے۔شہریوں کو مقامی طور پر تیار کردہ’ جینس سنوبینک‘ اور’ سنوفارم‘ کے ٹیکے لگائے گئے، جو انفیکشن اور اموات کو روکنے میں زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئے۔’دا اِکنامسٹ‘ میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ کے مطابق لوگ انفیکشن کی شرح اور دیگر حالات کے مطالعہ کی بنیاد پر تقریباً15لاکھ چینی شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔یہ اعداد و شمار دیگر اعداد و شمار سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔ان میں گزشتہ ہفتے ’دی لانسٹ‘ میگزین کی رپورٹ بھی شامل ہے۔ان رپورٹوںسے اشارہ ملتا ہے کہ چین میں پابندیوں میں نرمی کے بعد کورونا وائرس سے لاکھوں افراد کی موت ہو سکتی ہے۔اسے دیکھتے ہوئے آکسفورڈ یونیورسٹی میں وبائی سائنس کے پروفیسرجھینگ منگ چَین نے چین کی صفر کووڈ پالیسی میں تبدیلی کے وقت پر سوال اُٹھایا ہے۔چین نے’دی لانسٹریسپریٹری میڈیسن‘ کو بتایا کہ چین نے کووڈ پابندیوں کو ہٹانے کے لیے مناسب اقدام نہیں کیے۔انہوں نے نہ تو ویکسی نیشن کو فروغ دیااور نہ ہی اس کے لیے کوئی قابل ذکر تیاری کی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ چین میں کورونا کو لے کر سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہورہا ہے، اس میں اسپتال کے اندر اور باہر لوگوں کی قطاریں لگی ہیں۔چونگ گنگ شہر کے ایک ویڈیو میں اسپتال کے ایمرجنسی رُوم میں مریض جہاں تہاں فرش پر لیٹے ہوئے ہیں۔ ایک جانب کمرے کے سبھی بیڈ مریضوں سے بھرے پڑے ہیں، وہیں ڈاکٹر فرش پر لیٹے مریضوں کو سی پی آر دینے میں لگے ہیں۔ڈیوٹی کے بعد اَوور ٹائم میں کام کرنے کی بنا پر کئی ڈاکٹر،مریضوں کا معائنہ کرتے ہوئے اچانک بے ہوش تک ہو رہے ہیں۔
اس خطرناک صورت حال کے مدنظر ماہرین نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جون 2023 چین کے لیے بہت زیادہ مشکلات پیدا کرنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔ چین کے علاوہ جاپان، امریکہ، کوریا اور برازیل میں بڑھتے انفیکشن کو دیکھتے ہوئے ہندوستان میں احتیاط برتنا عقلمندی ہے۔اس کے تحت مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو مریضوں کی شناخت، علاج، ٹیکہ کاری، جینوم کی ترتیب اور کووڈ کے لیے مناسب رویہ پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت بتائی گئی ہے۔ اس بابت مرکزی وزیر صحت نے افسران کے ساتھ جائزہ میٹنگ کی اور لوگوں سے بھیڑ والے مقامات پر ماسک کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے چین سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کورونا کی تیزی سے افزائش کو دیکھتے ہوئے خبردار تو کیا ہی، احتیاط برتنے کی صلاح بھی دی ہے۔انہوںنے سخت نگرانی کے ساتھ کووڈ سے متعلق انفرااسٹرکچر کا آڈٹ کیا اور اسپتالوں کو تیار رہنے کی پوزیشن پر رکھنے کا حکم دیا۔انہوں نے آکسیجن کے سلنڈروں،وینٹی لیٹروں اور اسٹاف کی تعداد وغیرہ پر توجہ دینے کے علاوہ ڈاکٹروں سے ضروری ادویات کی دستیابی اور قیمتوں پر نگاہ رکھنے اور مثبت معاملوں میں جینوم سیکوینسنگ کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ اسی کے ساتھ لوگوں سے ماسک پہننے،دوگز کی دوری بنائے رکھنے،بزرگوں اور خطرے والی آبادی میں کووڈ کے احتیاطی ٹیکے لگانے کا دائرہ بڑھانے کو کہا۔ اسی دوران انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملک میں صورت حال تشویش ناک نہیں ہے۔ اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر بھی ہمیں’احتیاط علاج سے بہتر ہے‘ کے فارمولے کو اپنانا چاہیے۔ اس نے غیرملکوں کے سفر سے احتیاط برتنے کے علاوہ بخار،کھانسی اور ڈائریا کی علامات پر ڈاکٹروں سے فوراً صلاح لینے کا مشورہ دیا۔اسی ترتیب میں دہلی،بودھ گیا اور کولکاتا میں دوسرے ممالک سے آئے مسافروں میں18 کورونا سے متاثر ملے،لیکن ان میں کسی کی حالت خطرناک نہیں ہے۔
ہندوستان میں 10سے16دسمبر کے درمیان 495 اضلاع میں کورونا کا انفیکشن صفر اور 192 اضلاع میں ایک فیصد سے کم ہونا خوش آئندہے۔دوسری جانب میزورم کے سیرچھپ، ہماچل پردیش کے کلو، اروناچل پردیش کے پاپم پارے،منی پور کے امپال اور میگھالیہ کے جین تیا ہلس(پانچ اضلاع) میں انفیکشن کی شرح زیادہ ہونے کی بنا پر ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ان اضلاع میں انفیکشن کی ہفتہ واری شرح پانچ سے14.29فیصد درج کی گئی۔ چین، جاپان یا کسی دیگر ملک کی نسبت ہم بہتر حالت میں ہیں۔ کئی صوبوں میں ایک ہفتے سے کورونا کے کسی مریض کا سامنے نہیں آنا بھی نیک فال ہے۔ حالانکہ یو پی کے سون بھدر اور گوتم بدھ نگر میں ہفتہ واری انفیکشن کی شرح بالترتیب 0.76 فیصد اور 0.71 فیصد ہے،جبکہ لکھنؤ سمیت 10اضلاع میں یہ شرح0.50فیصد سے نیچے ہے۔ ان 12اضلاع کے علاوہ کسی ضلع میں کورونا کا کوئی مریض نہیں ہے۔چھتیس گڑھ کے دنتے واڑہ اور دُرگ ضلع میں ہفتے واری شرح1.10 فیصداور0.30فیصد ہے۔ آندھراپردیش کے اننت پور میں2.72 فیصد، آسام کے کام روپ میٹرو میں2.36فیصد،کرناٹک کے بنگلور میں2.51فیصد،کیرالہ کے پیتھا ماتھٹّا میں 2.15 فیصد، میگھالیہ کے ری بھوئی میں4.35فیصد،راجستھان کے گنگا نگر میں3.77 فیصد، سکم کے جنوب میں2.13فیصد،نینی تال میں2.97فیصد نمونے متاثر پائے گئے۔ انڈمان نکوبار،دادر ناگر حویلی،دمن دیپ،جھارکھنڈ، لداخ،لکش دیپ، ناگالینڈ اور تلنگانہ میں اسی ہفتے میں کورونا کا کوئی مریض نہیں ملا۔ اَومیکرون ویرینٹ کو لے کر پہلے بھی دعویٰ کر چکے امریکہ کے ماہر صحت ڈاکٹر رویندر گوڈسے کے مطابق بھارت میں کووڈ کی یہ نئی لہر نہیں آئے گی اور نہ ہی اس کا کوئی گہرا اثر پڑے گا۔ اَومیکرون ویرینٹ سے ملک بھر میں ’ہائی امیونٹی‘ پیدا ہوئی۔ اس نے کووڈ کے خلاف ویکسین کا کام کیا۔ تازہ وائرس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے صرف گلے میں خراش ہوتی ہے اوردو تین دن میں مریض ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اس سب کے باوجود کورونا سے حفاظت کے طریقے اپنانے میں کوئی حرج نہیںہے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی اور ادیب ہیں)
[email protected]

 

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS