لیڈر کو دیوتا نہ بنائیں

0

نظریاتی اختلاف سے قطع نظر اگر دشمنوں کی بات پر بھی غور کیا جائے تو آنے والے مسائل اور مصیبتوں سے نجات کی راہ نکل سکتی ہے۔ کبھی دوست وہ رہنمائی نہیں کرپاتے ہیں جو دشمن اپنی دشمنی میں کرجاتا ہے۔وشو ہندو پریشد نے کانگریس کے حوالے سے کہا ہے کہ ’وناش کالے وپرت بدھی‘یعنی جب کسی کی موت یا ہلاکت کا وقت آتا ہے تو اس کی عقل و ذہانت کام کرنا چھوڑ دیتی ہے اور وہ درست فیصلہ نہیں کرپاتا ہے، اس کے برخلاف اس کا ہر قدم اسے تباہی کے نزدیک ہی لے جاتا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب پورے ہندوستان میں کانگریس کی حالت ناگفتہ بہ ہے،کئی ریاستوں سے پارٹی کا وجودختم ہوگیا ہے، جہاں پارٹی ٹکی ہوئی ہے وہاں بھی دھیرے دھیرے اس کے قدموں کے نیچے سے زمین نکل رہی ہے۔ایسے میں کچھ سینئر کانگریسی لیڈر اپنی ’ ذہانت ‘ سے تباہی کو نزدیک لانے کا کام کررہے ہیں۔اپنے لیڈر راہل گاندھی کا موازنہ ہندوئوں کے بھگوان رام سے کرکے جہاں تنازع کھڑا کررہے ہیں، وہیں ملک کی ایک قابل لحاظ آبادی کو کانگریس سے مزید دور کررہے ہیں۔
کانگریس اور بھگوا خیمہ میں نظریاتی اختلاف مسلم ہے۔ دونوں کا سیاسی اپروچ اور ہندوستان کے حوالے سے فکری بنیادیں بھی الگ الگ ہیں۔لیکن باوجود اس کے وشو ہندو پریشد اور بی جے پی کے حملے اور تنقیدیں ایسی ہیں کہ کانگریس اگر چاہے تو اس کی روشنی میں اپنی گرتی ساکھ اور کمزور ہوتی عوامی گرفت کو مضبوط کرسکتی ہے، لیکن ایسا ہوتا ہوا نظرنہیں آرہاہے۔ کانگریس اور اس کے لیڈران شخصیت پرستی، خوشامد اور چاپلوسی کی تثلیث سے باہر نکلنے کانام ہی نہیںلے رہے ہیں۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی ان دنوں کنیاکماری سے کشمیر تک پیدل سفر کرکے بھارت جوڑنے کا کام کررہے ہیں۔ان کا کام بجا طور پر ستائش اور حوصلہ افزائی کا مستحق ہے۔ان کی اس یاترا سے کانگریس کو سیاسی فائدہ حاصل ہو نہ ہو، ملک میںفرقہ واریت کی لہروں میںکمی ضرور آئے گی اور ان کے اس کام کو تاریخ کے اوراق میں سنہرے لفظوں میں بھی لکھاجائے گا لیکن باوجود اس کے راہل گاندھی کو ’دیوتا‘ کے منصب پر فائز نہیں کیا جاسکتا ہے۔لیکن کیا کیجیے کہ کانگریس کا اب تک کا کلچر ہی یہی رہاہے کہ اپنے لیڈروں کو انسانوں کی صف سے نکال کر دیوتائوں کے مسند پر متمکن کرتی رہی ہے۔اب یہی کام راہل گاندھی کے ساتھ بھی کیاجارہاہے، انہیں انسان اور لیڈر کے زمرے سے نکال کر یک لخت دیوتا کے منصب پر فائز کردیاگیا ہے۔ اور یہ کام ایک ایسے قدآور لیڈر نے کیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ موحد ہیں۔سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید کے خیال کے مطابق راہل گاندھی اور ہندوئوں کے بھگوان رام ایک دوسرے کے مماثل ہیں اور انہوں نے بھری پریس کانفرنس میں ان دونوں کا موازنہ بھی کر دکھایا۔ کل سلمان خورشید نے بھارت جوڑو یاترا کے اترپردیش میں داخل ہونے کے حوالے سے اخبار نویسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’راہل گاندھی ایک یوگی کی طرح ہی تپسیاکررہے ہیں۔بھگوان رام کا کھڑائوں(لکڑی کاچپل) بہت دور تک جاتا ہے، کبھی کبھی کھڑائوں لے کر بھی چلنا پڑتا ہے، ہمیشہ بھگوان رام نہیں پہنچ پاتے ہیں، بھرت ان کا کھڑائوں لے کر چلتے ہیں اس لیے ہم کھڑائوں لے کر اتر پردیش میں چلے ہیں، اترپردیش میں کھڑائوں پہنچ گیا ہے اور رام جی بھی پہنچیں گے۔‘‘
تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، راجستھان اور ہریانہ کا سفر کرتے ہوئے بھارت جوڑو یاترا ابھی دہلی میںچند یوم کیلئے موقوف ہے۔ اگلے 3جنوری 2023کو یہ یاترا اترپردیش کے غازی آباد میںداخل ہوگی۔اسی سلسلے میں سلمان خورشید کانگریس کارکنوں کی میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے اور اس دوران جوش محبت میں انہوں نے راہل گاندھی کا موازنہ ’ بھگوان رام‘ سے کرڈالا۔
ان کے اس موازنہ نے جہاں نیاتنازع کھڑا کردیا ہے، وہیں کانگریس کے خلاف بھگواخیمہ کو ایک نیا ہتھیار بھی دے دیا ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی، وشو ہندو پریشد اور اس طرح کی دوسری تمام جماعتیں کانگریس کو ملک دشمن اور ہندو دشمن ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگائی ہوئی ہیں تو دوسری طرف ہندو سنت اور بھگواپوش بابائوں کی فوج بھی کانگریس کے خلاف صف بستہ ہوگئی ہے۔ اترپردیش میں کانگریس کی حالت ویسے ہی انتہائی خراب ہے، گزشتہ اسمبلی انتخاب میں اس کی کارکردگی ڈھائی فیصد ووٹ اور2ایم ایل اے، تک سمٹ کر رہ گئی تھی، ایسے میں سلمان خورشید اور اس قبیل کے دوسرے کانگریسی لیڈران کو ہوش و گوش سے کام لیتے ہوئے بھارت جوڑنے کے کام میں راہل گاندھی کا ہاتھ بٹانا چاہیے نہ کہ اپنے بے تکے بیانات سے عوام کو کانگریس سے برگشتہ کرناچاہیے۔
راہل گاندھی کانگریس کے لیڈر ہیں، اس میں کوئی دورائے نہیں لیکن کانگریس کو شخصیت پرستی، خوشامد اور چاپلوسی کے دائرہ سے نکل کر یہ سمجھنا ہوگا کہ لیڈر چاہے جنتا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ ’’ The First one among the equal ‘‘ ہوتا ہے۔انسانی تاریخ میں اس سے زیادہ کا مقام حاصل کرنے والے لیڈر ہمیشہ تباہی و بربادی کاہی سبب بنے ہیں۔
[email protected]