’تھوک‘ اور ’پھونک‘ میں فرق ہے!

0

ہندوستان کے لوگ ہی اگر ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو نہیں جانیں گے تو پھر کون جانے گا؟ یہ سوال اہمیت کا حامل اس لیے ہے کہ ایسی باتیں بھی تنازع کی وجہ بن جاتی ہیں جو اس گنگا جمنی تہذیب کے لیے نئی نہیں مگر کچھ لوگوں کے لیے جب گنگا جمنی تہذیب کی ہی زیادہ اہمیت نہیں، پھر یہ امیدکیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ’تھوک‘ اور ’پھونک‘ کے فرق کو سمجھیں گے۔ کوئی ذی ہوش انسان کسی پر نہیں تھوکتا، شاہ رخ خان بھی ایک ذی ہوش انسان ہیں، یہ بات ہی اپنے آپ میں حیران کن ہے کہ لتا دیدی پر ’تھوکنے‘ کا الزام ان پر عائد کیا گیا ہے جبکہ لتا منگیشکر وہ شخصیت ہیں جن کے پرستار ہمارے دشمن ملک کے لوگ بھی ہیں، اسی لیے ان کی موت پر پاکستان سے بھی سوگ کے پیغامات آئے ہیں۔ شاہ رخ پر یہ اندیشہ ظاہر کرنا کہ وہ آخری دیدار کے لیے لتا منگیشکر کے پاس کھڑے تھے تو انہوں نے ان پر ’تھوکا‘، یہ نہ صرف شاہ رخ خان اور لتا منگیشکر کے رشتے سے عدم واقفیت کا ثبوت ہے بلکہ اس ملک کی تہذیب سے نابلد ہونے کا بھی اظہار ہے، یہ اندیشہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کچھ لوگوں کے اذہان کو نفرتوں نے اس حد تک پراگندہ کر دیا ہے کہ وہ اندیشوں میں مبتلا ہو گئے ہیں، وہ ’تھوک‘ اور ’پھونک‘ میں فرق کرنے کے اہل نہیں، خواہ مخواہ کا تنازع کھڑا کرنے کی وجہ بن جاتے ہیں اور اس تنازع کو ہوا دینے کاکام میڈیا کے وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں ٹی آر پی کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی اس ٹی آر پی کے نتیجہ میں کتنے معصوم اذہان زہرآلود ہوجاتے ہیں۔
پی ایم مودی اور دیگر شخصیات 6 فروری کو ممبئی کے شیواجی پارک میں لتا منگیشکر کی آخری رسومات سے پہلے پہنچی تھیں تاکہ اظہار عقیدت پیش کر سکیں۔ شاہ رخ خان بھی لتا منگیشکر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آئے۔ ان کی ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ اور ’ویرزارا‘ جیسی فلموں کو ان کی اور کاجول اور پریتی زنٹا جیسی اداکاراؤں کی اداکاری نے ہی سپرہٹ نہیں بنایاتھا، انہیں سپرہٹ بنانے میں یش چوپڑا کی ہدایت کاری اور لتا منگیشکر کی آواز نے بھی اہم رول ادا کیا تھا۔ لتا دیدی، راج کپور اور یوسف خان سے لے کر شاہ رخ خان تک کی پسندیدہ گلوکارہ رہی ہیں۔یوسف خان کو وہ راکھی باندھتی تھیں اور شاہ رخ کے بارے میں یہ مانتی تھیں کہ ’انہوں نے ایک رومانی ہیرو کے تصور کی نئی تعریف پیش کی ہے۔‘ ایسی صورت میں شاہ رخ خان کا لتا دیدی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جانا کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔ ٹھیک اسی وقت جب شاہ رخ ہاتھ اٹھاکر لتا دیدی کے لیے دعا کر رہے تھے، ان کی سکریٹری پوجا دلدانی ہاتھ جوڑ کر شردھانجلی پیش کر رہی تھیں، یہ تصویر سوشل میڈیا پر ہندوستانیوں کے بھائی چارے کی مثال کے طور پر لوگ پیش کرنے لگے مگر بی جے پی ہریانہ کے آئی ٹی سیل کے سربراہ ارون یادو کو شاہ رخ کی عقیدت نظر نہیں آئی، انہوں نے لتا دیدی کو پھونکتے ہوئے شاہ رخ کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’کیا اس نے تھوکا ہے؟‘ اس بات پر لوگوںکو حیرت یہ ہوئی کہ کوئی شخص ’تھوک‘ اور ’پھونک‘کے فرق کو کیسے نہیں سمجھ سکتا، وہ ’پھونک‘ کو ’تھوک‘ بتاکر نفرت کی تشہیر کی وجہ کیسے بن سکتا ہے۔ اسی ہندوستان میں ہندو اور مسلمان بوتل یا گلاس میں پانی، کٹورے میں تیل لے کر مسجدوں کے باہر کھڑے ہوکر یہ انتظار کرتے ہیں کہ نماز ہو جائے تو امام صاحب پھونک دیں، وہ عام نمازیوں سے بھی پھونکواتے ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ اس عقیدت کی ’پھونک‘ سے ارون یادو نابلد ہیں، وہ ’تھوک‘ اور ’پھونک‘کا فرق نہیں جانتے، ان لوگوں کو ’تھوک ‘ اور ’پھونک‘ کا فرق بتانا چاہیے جو مرض سے نجات کے لیے نمازیوں سے پھونکواتے رہے ہیں اور اس ’پھونک‘ میں انہیں کبھی نفرت نظر نہیں آئی اور نہ ہی نمازیوں نے کبھی پھونکنے کے معاملے میں کسی سے کسی طرح کی تفریق کی۔ شاہ رخ خان گنگا جمنی تہذیب میں پلے بڑھے ہیں، انہیں ٹی وی سیریل ’دل دریا‘ میں پہلا بریک دینے والے لیکھ ٹنڈن مسلمان نہیں تھے، پہلی فلم ’دل آشنا ہے‘ میں انہیں بریک دینے والی ہیما مالنی مسلمان نہیں ہیں، ان کے کریئر کو سمت دینے والے یش چوپڑا مسلمان نہیں تھے، انہیں سپراسٹار بنانے والے سبھی لوگ مسلمان نہیں تھے، اس لیے شاہ رخ کچھ اور نہیں، اداکار ہیں۔ فلم انڈسٹری سے انہیں جو محبت ملی ہے، اس کا اظہار وہ کرتے رہتے ہیںاور ظاہر سی بات ہے، اظہار اسی انداز میں کر سکتے ہیں جو انہیں آتا ہے، اسی لیے انہوں نے کچھ پڑھ کر لتا دیدی کو ’پھونکا‘ مگر عقیدت کا یہ اظہار تنازع بن گیا، خوش آئند بات یہ ہے کہ جواب لوگوں نے کھل کر دیا ہے۔ شیو سینا کی رکن پارلیمان پرینکا چترویدی کا کہنا ہے کہ ’کچھ لوگ نہ دعا کے قابل ہیں، نہ دَیا کے ان کو صرف دوا کی ضرورت ہے، من کے زہر کو ختم کرنے کے لیے۔‘
[email protected]