خواتین ریزرویشن بل نفاذ شرائط پوری کرنے کے بعد ہوگا

0

خواجہ عبدالمنتقم

لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن سے متعلق بل، جسے دونوں ایوانوں سے special majority rule کے تحت لوک سبھا میں ما سوائے دو اراکین کے اور راجیہ سبھا میں مکمل اکثریت سے منظوری حاصل ہو چکی ہے، میں آئین کی دفعہ 330 کے بعد 330A اور دفعہ 332 کے بعد دفعہ 332A شامل کرنے کی بات کہی گئی ہے تاکہ اول الذکر کے ذریعے لوک سبھا میں خواتین کو 33 فیصدریزرویشن دیا جاسکے اور آخرالذکر کے ذریعے ریاستی اسمبلیوں میں بھی ان کے لیے 33 فیصد نشستیں محفوظ کی جاسکیں اور وہ بھی اس طرح کہ اس میں سے ایک تہائی نشستیں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے محفوظ ہوں گی۔ اسی طرح دہلی کی اسمبلی میں بھی دفعہ239AA کے مطابق اسی طرز پر خواتین کے لیے ریزرویشن کا التزام ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس بل کی توثیق نصف ریاستوں سے کرانا ضروری ہے یا نہیں۔ اس کے بارے میں ماہرین قانون کی الگ الگ رائے ہے ۔ کچھ کا کہنا ہے، چونکہ اس بل کو مخصوص اکثریت سے متعلق قاعدے کے تحت منظوری مل چکی ہے، اس کی ریاستوں سے توثیق کرانا ضروری نہیں لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے، چونکہ حد بندی اور مردم شماری کے بعد پارلیمنٹ میں ریاستی اسمبلیوں کی نمائندگی میں فرق آجائے گا اور اس سے ریاستوں کے حقوق بھی اثر انداز ہوں گے اس طرح یہ معاملہ آئین کی دفعہ 368(2)(d)کے تحت آجائے گا اور اس صورت میں ، صدر کے پاس منظوری کے لیے بھیجنے سے قبل کم سے کم نصف ریاستوں کی مجالس قانون ساز کی توثیق بھی ان مجالس قانون ساز کی اس غرض سے منظور ہ قراردادوں کے ذریعہ لازمی ہوگی۔ ویسے بھی چونکہ ہمارا آئین بہ اعتبار نوعیت وفاقی بھی ہے اور وحدانی بھی، اس لیے ریاستوں سیتوثیق کرانا ایک بہتر متبادل ہوگا۔ اب یہ حکومت کی صوابدید پر منخصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ لیتی ہے۔
مملکت وحدانی(Unitary State) میں جہاں وحدانی آئین (Unitary Constitution) لاگو ہوتا ہے، تمام اختیارات مرکزی حکومت کو حاصل ہوتے ہیں جبکہ وفاقی حکومت (Federal State) میں جہاں وفاقی آئین (Federal Constitution) لاگو ہوتا ہے، اختیارات کی تقسیم اس طرح کی جاتی ہے کہ کچھ اختیارات مرکز کے پاس ہوتے ہیں اور کچھ اختیارات ریاستوں کے پاس۔ مرکز اور ریاستوں یعنی دونوں کو ہی اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں کام کرنے، فیصلہ کرنے اور کسی قسم کے دیگرفرائض کی انجام دہی کے معاملے میں مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے۔ جہاں تک بھارت کے آئین کا سوال ہے، اس کے بارے میں مختلف لوگوں کی الگ الگ رائے ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ نیم وفاقی (Quasi-Federal) ہے توکچھ لوگوں کی رائے ہے کہ یہ وفاقی ہے لیکن اس کا ڈھانچہ اس قسم کا رکھا گیا ہے کہ ہنگامی حالات میں یہ وحدانی آئین کی شکل اختیار کر لیتا ہے، البتہ وہ لوگ جو آئین وضع کرنے کے کام سے شیر وشکر کی طرح جڑے ہوئے تھے، ان کی رائے یہی تھی کہ بھارت کا آئین وفاقی ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کا کہنا تھا کہ بہت سی مختلف نوعیت کی توضیعات کے باوجود مرکز کو ایسے اختیارات دیے گئے ہیں کہ وہ ریاستوں کے اختیارات پر غالب آسکے لیکن پھر بھی یہی کہا جائے گا کہ بھارت کا آئین اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک وفاقی آئین ہے، اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ اس ضمن میں کم از کم نصف ریاستوں کی منظوری حاصل کی جائے۔ آئین کی ترمیم کس طرح کی جاتی ہے، یہ جاننے کے لیے قارئین کی جانکاری کے لیے دفعہ368 کی مکمل عبارت یہاں نقل کی جارہی ہے تا کہ وہ بھی اس کی روشنی میں اپنی اپنی رائے قائم کر سکیں:
.368 پارلیمنٹ کو آئین کی ترمیم کرنے کا اختیار اور اس کے لیے طریق کار۔ (1) اس آئین میں کسی امر کے باوجود پارلیمنٹ اپنے آئین سازی کے اختیار کے استعمال میںاس آئین کی توضیعات میں اضافہ، تبدیلی یا تنسیخ کے طور پر اس دفعہ میں مندرجہ طریق کار کے مطابق ترمیم کر سکے گی۔
(2) اس آئین کی ترمیم کی تحریک اس غرض سے پارلیمنٹ کے کسی ایوان میں صرف بل پیش کرکے ہوسکے گی اور جب وہ ہر ایک ایوان سے اس ایوان کی جملہ رکنیت کی اکثریت سے اور اس ایوان کے ایسے ارکان کی کم سے کم دو تہائی اکثریت سے منظور ہو جائے جو موجود ہوں اور ووٹ دیں ( اس کو صدر کے پاس پیش کیا جائے گا اور وہ بل کو منظور کریں گے) اور تب آئین اس بل کی توضیعات کے مطابق ترمیم شدہ قرار دے دیا جائے گا۔ بشرطیکہ اگر ایسی ترمیم سے کوئی تبدیلی۔۔۔
(الف) دفعہ 54،دفعہ55، دفعہ73، دفعہ162، یا دفعہ 241 میں، یا
(ب) حصہ5کے باب4، حصہ 6کے باب 5 یاحصہ 11کے باب 1 میں ،یا
(ج) ساتویں فہرست بند کی فہرستوں میںسے کسی فہرست میں، یا
(د) پارلیمنٹ میں ریاستوں کی نمائندگی میں ، یا
(ہ) اس دفعہ کی توضیعات میں
کرنا مقصود ہو تو اس ترمیم کے لیے اس بل کو، جس میں ایسی ترمیم کے لیے توضیع کی گئی ہو، صدر کے پاس منظوری کے لیے پیش کرنے سے قبل کم سے کم نصف ریاستوں کی مجالس قانون ساز کی توثیق بھی ان مجالس قانون ساز کی غرض سے منظور ہ قرار دادوں کے ذریعہ لازمی ہوگی۔
(3) دفعہ 13 کے امر کا اطلاق اس دفعہ کے تحت کی ہوئی کسی ترمیم پر نہ ہوگا۔
(4) اس آئین کی کسی ترمیم پر( جس میں حصہ 3کی توضیعات شامل ہیں) جو خواہ ]آئین (بیالیسویں ترمیم) ایکٹ 1976ء کی دفعہ 55کے نفاذ سے قبل یا بعد[ اس دفعہ کے تحت کی جائے یا اس کا کیا جانا ظاہر ہوتا ہو کسی بناء پر کسی عدالت میں اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
(5) شبہات رفع کرنے کے لیے اس کے ذریعے یہ قرار دیا جاتا ہے کہ اس دفعہ کے تحت اس آئین کی توضیعات میں اضافہ، تبدیلی یا تنسیخ کے طور پر ترمیم کرنے کا پارلیمنٹ کا آئین سازی کا اختیار کسی بھی طرح محدود نہیں ہوگا۔
اب رہی بات اس بل کے قانون کی شکل اختیار کرنے کی تو اس کے لیے جو دو شرائط جوڑ دی گئی ہیں، وہ ہیں مردم شماری کرایا جانا اور انتخابی حلقوں کی حد بندی یعنی ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں اور ہمیں زلف کے سر ہونے تک ایک غیر معینہ مدت تک انتظار کرنا ہوگا ۔ تب تک تو ہماری ندیوں میں کافی پانی بہہ چکا ہوگا۔ n

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS