’دی وائس آف گلوبل ساؤتھ‘اجلاس

0

بڑے ملک کو بڑا بن کر رہنا چاہیے، خود پر انحصار کرنا چاہیے، اپنے دائرۂ اثرمیں اضافہ کرتے رہنا چاہیے، یہ احساس اپنی خارجہ پالیسی سے دلاتے رہنا چاہیے کہ وہ ایک بڑا اور آزاد ملک ہے اور اس کی پالیسی بھی آزاد ہے، خوش قسمتی سے وطن عزیز ہندوستان ایک ایسا ہی بڑا ملک ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے ایک سال بعد ہی ہمارا ملک آزاد ہوا تھا اور وہ بٹ کر آزاد ہوا تھا، اس کے باوجود ہندوستان نے اپنی خارجہ پالیسی سے یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ ایک خودمختار ملک ہے، اس کی خارجہ پالیسی دباؤ کو قبول نہیں کر سکتی جبکہ اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک امریکہ اور سوویت یونین کے دو گروپوں میں بٹے ہوئے تھے اور دیگر ملکوں پر بھی یہ دباؤ تھا کہ وہ ان دو میں سے کسی ایک گروپ سے وابستہ ہوں۔ ان دونوں گروپوں سے ناوابستہ رہنے والے ملکوں کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ اس وقت ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے مارشل ٹیٹو، جمال عبدالناصر اور سکارنو جیسے دوستوں کے ساتھ ناوابستہ تحریک کی ابتدا کی تھی۔ آج وہی حالات تو نہیں، البتہ چین کے خلاف امریکہ کے ٹریڈ وار کی ابتدا کے بعد اور چین کی توسیع پسند پالیسی کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ عالمی اسٹیج پر ہندوستان ایک بڑا رول ادا کرے اور وہ ایسا کر رہا ہے۔ ’گلوبل ساؤتھ‘ کے سربراہ اجلاس کی میزبانی ہندوستان کر رہا ہے۔ جی-20 کا اگلا سربراہ اجلاس بھی ہندوستان میں ہی منعقد ہونا ہے۔ ظاہر ہے، ان اجلاسوں کا انعقاد ہندوستان کی بڑھتی طاقت اور اس کے بڑھتے دائرہ اثر کا ثبوت ہے۔ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ ہمارے ملک سے عالمی برادری کی امید بڑھتی جا رہی ہے۔
’گلوبل ساؤتھ‘ کے اجلاس کا نام ’ دی وائس آف گلوبل ساؤتھ‘اجلاس رکھا گیا ہے۔ اس کا موضوع ہے، ’اتحاد کی آواز، اتحاد کا مقصد‘۔ 6 جنوری، 2023 کو ہندوستان کے خارجہ سکریٹری وِنے موہن کواترا نے کہا کہ ’ اس اجلاس کا مقصد گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو اکٹھا کرنا اور ان کے نقطۂ نظر اور مسئلوں کو ایک پلیٹ فارم پر شیئر کرنا ہے۔ اس ’’دی وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ‘‘ کے لیے 120 سے زیادہ ممالک کو مدعو کیا جا رہا ہے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ پیش رفت وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس، سب کا وِشواس، سب کا پریاس‘‘ کے وژن سے متاثر ہے۔ یہ ہندوستان کے ’’وَسودھیو کٹم بکم‘‘ کے فلسفے پر بھی مبنی ہے۔‘اس ’دی وائس آف گلوبل ساؤتھ‘اجلاس میں 10 سیشن ہوں گے۔ ان میں 2 سیشن سربراہ اور 8 سیشن وزارتی سطح پر ہوں گے۔ ہر سیشن میں 10 سے 20 ممالک شریک ہوں گے۔ خارجہ سکریٹری وِنے موہن کواترا کے حوالے سے آنے والی خبر کے مطابق، اقتصادی چیلنجز، ترقی کے لیے مالیاتی اقدامات، مالی امداد، مالیاتی شمولیت، ٹیکنالوجی کے استعمال، ڈیجیٹل اقدامات، بیرونی قرضوں کے سرپلس سے بچنے پر گفت و شنید ہوگی۔ اس کے علاوہ متوازن ترقی اور ماحول دوست طرز حیات پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اجلاس میں سستی قیمتوں پر توانائی کی فراہمی اور توانائی کی بچت والی ٹیکنالوجی کی دستیابی بھی موضوع گفتگو ہوگی۔ اس اجلاس کا انعقاد اس وقت کیا جا رہا ہے کہ جب یوکرین جنگ کے سلسلے میں ہندوستان نے کسی کا طرف دار بننے کے بجائے عالمی امن کے قیام پر توجہ دینے کو ترجیح دی ہے۔ کواڈ کے سلسلے میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے تبصرے کی اس نے پروا نہیں کی تھی اور یوکرین جنگ میں روس کے خلاف کھڑا ہونے کی امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کی خواہش بھی اس نے پوری نہیں کی۔ اس کے دونوں ملکوں سے تعلقات ہیں اور امریکہ سے تعلقات بھی خراب نہیں ہیں۔ روس کی یوکرین جنگ پر ہندوستان کے موقف اور اب ’دی وائس آف گلوبل ساؤتھ‘ اجلاس کی وجہ سے اگر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان ناوابستہ تحریک کی طرف لوٹ رہا ہے تو ایسا سمجھنا ٹھیک نہیں ہوگا، لوٹنے کی بات تو تب کی جاتی جب وہ ناوابستہ تحریک سے الگ ہوا ہوتا، البتہ ناوابستہ تحریک کے 2016کے وینزیویلا اجلاس میں اس وقت کے ہندوستان کے نائب صدر حامد انصاری اور 2019کے باکو اجلاس میں نائب صدروینکیا نائیڈو کے ہندوستان کی طرف سے شرکت کرنے اور وزیراعظم کے شریک نہ ہونے سے ایسا لگا تھا کہ ناوابستہ تحریک سے ہندوستان کی دلچسپی پہلی جیسی نہیں رہی مگر اس کی خارجہ پالیسی نے اس تاثرکو غلط ثابت کیا ہے۔ اسی لیے ایک دن بعد ہونے والے ’ دی وائس آف گلوبل ساؤتھ‘ اجلاس کی بڑی اہمیت ہے۔
[email protected]