ماہ ِربیع الاول کے فضائل ، مسائل اور رسومات و منکرات ! 

0
image:news18

🖋️مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی
صدر مدرس ؛مدرسہ عربیہ ھدایت الا سلام انعام وہار سبھاپور دہلی این سی آر :

_____-_____

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا “اور ﴿اے محمدﷺ ﴾ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت﴿بناکر﴾ بھیجا” ﴿انبیائ ۷۰۱﴾ ۔ “اے پیغمبر﴿ﷺ ﴾ ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ اور اللہ کی طرف بلانے والا اور چراغِ روشن” ﴿احزاب۵۴-۶۴﴾۔”اور آپ کا ذکر بلند کیا” ﴿انشراح ۴﴾۔”اور اخلاق آپ کے بہت عالی ہیں” ﴿قلم۴﴾۔

ماہِ ربیع الاول اپنے اندر ایک عظیم المرتبہ ماضی اور اس کی بیش بہا برکات سمیٹے آپہنچا ہے۔ دل نے چاہا کہ ایسے موقع پر اس مبارک موضوع سے بہتر اور کوئی موضوع نہیں، کہ میں اُس عظیم واقعہ کا تذکرہ کروں جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام انقلابی طور پر تبدیل ہوگیا۔سارا عالم جہالت کے اندھیروں کی جگہ علم کے نور سے منور ہوگیا ۔ باطل معبود زمیں بوس ہوگئے اور توحید کا پرچم بُلند ہوگیا۔ بدعات کی نحوستوں کو سنتوں کی برکات نے مٹا دیا۔ شیطان کے قانون کی جگہ اللہ کا قانون نافذ ہوگیا۔ سابقہ تمام ادیا ن جو تحریفات کے باعث اپنی حقیقت کھو چکے تھے، مسنوخ کردیے گئے اور ہر سُو اسلام کا ڈنکا بج گیا۔ دشمنیاں دوستیوں میں بدل گئیں، عداوتیں محبتوں میں تبدیل ہو گئیں، غیر اخلاقانہ زندگی گزارنے والے خوش اخلاقی کا مجسمہ بن گئے۔پھر یہ جاں نثارانِ اسلام ان تعلیمات کو لے کر اُٹھے اور پورے عالَم پر چھا گئے۔وہ عظیم واقعہ ہادیِ عالم، حضورِاکرم، صاحبِ خلقِ عظیم، نبی کریم ، سرکارِ دو عالم محمد الرسول اللہ ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری کا ہے

آج مسلم نوجوانوں کو رقص و سرور کی محفلیں سجاتے، نشے میں مدہوش، موسیقی کے سر ُتال پر جھومتے گاتے، لڑکیوں پر آوازیں کستے، حضور نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل تو بہت دور کی بات بلکہ ان مبارک سنتوں کا مذاق اُڑاتے، اور لڑکیوں کو اُن کے قدم سے قدم ملاتے دیکھ کر ایک سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ آج وہ مسلمان اس قدر ذلت اور پستی کا شکار کیوں ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے قدم قدم پر فتح و نصرت کے وعدے فرمائے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم وہ رہے ہی نہیں جن کی مدد کو آسمانوں سے فرشتے اُترتے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی اور خوشی کے اظہار کے لئے قرآنِ پاک کی آیات نازل فرماتے تھے۔

میں جانتا ہوں کہ یہ تو خوشی کا موقع ہے اور بہت سے لوگ اس کا جشن منا رہے ہیں لیکن اس اُمتِ مسلمہ کی حالت دیکھ کر آنکھوں میں آنسو ہیں، دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے، میرا ضمیر مجھے جھنجوڑ کر ملامت کررہا ہے، عقل میری حماقتوں پر ہنس رہی ہے، گناہوں کے بوجھ سے میری گردن جھکی جارہی ہے۔اکثر اوقات تو ہم اپنی سیاہ کاریوں کو مجبوریوں ، اور وقت کے تقاضوں کے پردوں میں چھپا کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب کبھی دل کے کسی کونے میں چھپی ہوئی غیرتِ ایمانی کروٹ لیتی ہے اور ایمان کی روشنی کی جھلک آنکھوں سے جہالت کی سیاہی کو دور کرتی ہے تو اپنی زندگی سے شرم آنے لگتی ہے، زمین جگہ نہیں دیتی کہ اُس میں دھنس کر اس شرمندگی سے بچ جائیں۔ پھر بھی شاید ایسا ہو کہ کم ہمتی کے باعث نفس و شیطان اس غیرتِ ایمانی پر غالب آجائیں اور ہماری سر کشی ہمیں پھر ساری حدیں پار کرنے پر مجبور کردے۔ لیکن ایک بات سوچ کر روح کانپ جاتی ہے کہ کل کو حشر کے میدان میں کہاں چھپیں گے اور کیا مُنہ لے کر حضور ﷺ سے شفاعت کی درخواست کریں گے، وہاں تو پلٹنے کا کوئی راستہ بھی نہیں لیکن آج ایک راستہ ہے! وہ ہے توبہ کا راستہ۔ آنکھ سے نکلا ہوا ندامت کا ایک آنسو پچھلے سارے گناہوں کو پل بھر میں دھو دے گا۔

یہ سچ ہے کہ ماہِ ربیع الاول جو عظیم اعزاز اور سعادت حاصل کر چکا ہے اُس پر وہ ہمیشہ فخر کرتا رہے گا ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ آج مسلمانوں کی حالت دیکھ کر افسردہ اور بے چین آنسو بھی بہا رہا ہے۔ اور ہمیں پکار پکار کر ہم سے مطالبہ کر رہا ہے کہ تم میرے تقدس کو کیوں پامال کر رہے ہو اور میری حقیقت کو کیوں فراموش کر چکے ہو۔ ہماری یہ حالتِ زار اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ ہم سے راضی نہیں۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس سے پہلے کہ آخرت کی شرمندگی اُٹھانی پڑے ، اللہ اور اُسکے رسول ﷺ کو راضی کر لو، اور اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے ، اللہ اور رسول ﷺ کی محبت اور اتباع۔ انشا اللہ پھر سے خصوصی رحمتیں نازل ہونے لگیں گی۔ نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو اپنا لو ،پھر سے وہی برکات حاصل ہوجائیں گی۔ آپﷺ کے طور طریقے اپنی زندگیوں میں لے آؤ،پھر سے مسلمان ذلّت کی اس اندھیری رات میں عزت و غلبہ کا چاند بن کر چمکیں گے۔یہیں امیدیں میرے آنسوئوں کو پونچھ دیتی ہیں، میرے دل کے ٹکڑوں کو جوڑ دیتی ہیں۔ دل میں امید کی یہ کرن اور آنکھوں میں خوشی کی چمک اس بات پر فخر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رحمت العالمین ﷺ کا امتی بنایا اور یہی ایک مسلمان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سرمائے کی صحیح معنوں میں قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ﴿آمین﴾

شرط توحید ِکامل کی یہی ہے

عشق ہو آپ(ص) کا قلب و جاںمیں

کوئی سمجھے گا کیا،ہے غیر ممکن

آپ(ص) کا مرتبہ دونوں جہاں میں