ملک کی تعمیر وترقی کیلئے ریاستوں کوپرعزم ہونا پڑے گا

0

پروفیسر عتیق احمدفاروقی

معتبر ذرائع سے پتہ چلاہے کہ ویدانت اورفاکسکان کو گجرات میں سیمی کنڈیکٹر اورڈسپلے پروڈکشن پلانٹ لگانے کیلئے 1.54لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنی پڑے گی۔ کسی بھی ہندوستانی ریاست میں یہ اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ یہ دعویٰ کیاگیاہے کہ ایک ہزار ایکڑزمین پر لگنے والا یہ پلانٹ پہلے مہاراشٹر میں لگائے جانے کامنصوبہ تھا۔ اس پروجیکٹ کو حاصل کرنے کیلئے دونوں ریاستیں برائے نام قیمت پر زمین ، سستی بجلی ،رعایتی ٹیکس وغیرہ سہولتیں دستیاب کرانے کیلئے تیار تھیں۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ اس میگاپروجیکٹ میں سرمایہ کاری سے نہ صرف ریاست کی ترقی ہوگی بلکہ ایک لاکھ افراد کو روزگار بھی ملے گا۔ یہ پروجیکٹ کس ریاست میں ہوناچاہیے، اس کیلئے دونوں ریاستوں کی اپنی اپنی دلیلیں ہوسکتی ہیں لیکن اِس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ دونوں ریاستوں میں تعمیر وترقی ، روزگار اورسرمایہ کاری وغیرہ کیلئے مقابلہ ہوا۔ بدلتے وقت کے ساتھ دونوں ریاستیں تعمیر وترقی کو سمجھ رہی ہیں۔ تعمیر و ترقی کیلئے اگرسبھی ریاستوں کے درمیان کڑا مقابلہ ہونے لگے تو ہندوستان کو دنیا کی ترقی یافتہ معیشت بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک میں زیادہ تر سرمایہ کاری کو مدعو کرنے کیلئے ہندوستانی حکومت نے بھی حوصلہ افزائی کیلئے دس ارب ڈالر کی رقم دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ ایک کھلی دعوت ہے کہ جس ریاست کی جتنی تیاری ہوگی، اُس کو بیرونی سرمایہ کاری کا فائدہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ اس سے نہ صرف ریاست اورملک کی ترقی ہوگی بلکہ اُس ریاست کے شہریوں کی اقتصادی اورسماجی بہبودی بھی ہوگی۔ سماجی -اقتصادی ترقی سے معاشرہ میں متعدد سماجی برائیا ں خود ہی ختم ہونے لگتی ہیں۔
نیتی آیوگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کی جی ڈی پی میں صرف پانچ ریاستوں۔ گجرات، مہاراشٹر، اترپردیش، تمل ناڈو اورکرناٹک کا حصہ تقریباً 47فیصد ہے ۔ یہ ریاستیں آئی ٹی سیکٹر، آٹوموبائل ، سیاحی ، خدمات، فارماسیوٹکل وغیرہ شعبوں میں اپنی شناخت قائم کرنے کیلئے بنیادی ڈھانچے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ آر-بی-آئی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گجرات اورمہاراشٹرا صنعتی پیمانے پر اشیاء تیار کرنے کے مراکز بن گئے ہیں۔یہ دونوں ریاستیں مزدوروں سے متعلق قوانین میں اصلاح کے ساتھ پیشہ وارانہ صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے ’ سنگل ونڈو نظام‘کے تحت مسئلوں کافوری تصفیہ کرتے ہیں۔ 2012سے2019تک گجرات میں 5.85لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ مہاراشٹرا میں 4.07لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری ہوئی۔ گووا،دہلی ،سکم،ہریانہ وغیرہ ریاستیں بھی اس سمت میں اچھا کام کررہی ہیں۔ وہیں سب سے زیادہ آبادی کے سبب فی کس آمدنی کی شرح میں پچھڑنے کے باوجود اترپردیش اپنی لگاتار کوششوں سے زراعت اورخدمات کے شعبوںمیں اپنے رول کو بڑھانے کیلئے پرعزم دکھائی دے رہاہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ اترپردیش حکومت نے بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بہت تیزی سے کام کیاہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بندیل کھنڈ جیسے پسماندہ علاقہ میں بھی جس تیزی سے انفرااسٹرکچر تعمیر ہورہاہے وہ قابل تعریف ہے۔
دوسری جانب تعمیروترقی کی کوئی طے شدہ حکمت عملی نہ ہونے کے سبب جھارکھنڈ،بہار،منی پور اوراڑیسہ وغیرہ ریاستیں فی کس آمدنی کی شرح کی دوڑمیں بہت پچھڑ گئے ہیں۔ اس کیلئے صرف ان ریاستوں کی حکومتوں کو ہی ذمہ دارنہیں ٹھہرایاجاسکتابلکہ مرکزی حکومت بھی ذمہ دارہے جس کے مالی ،سیاسی اورقانونی تعاون کے بنا فی کس آمدنی کی مناسب شرح حاصل کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرورہے۔ موجودہ حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ سب سے امیراورسب سے غریب ریاستوں کی فی کس آمدنی کی بنیاد پر اگرموازنہ کیاجائے تو اکیسویں صدی کی شروعات سے لیکر 19-2018تک تقابلی مطالعہ میں یہ فرق 145فیصد سے بڑھ کر 322فیصد ہوگیاہے ۔آج جو ریاستیں صنعتی ترقی میں پچھڑرہی ہیں اُس کا ایک خاص سبب اُن ریاستوں کے لیڈران میں بصیرت اوردوراندیشی کا فقدان بھی ہے۔ تعمیر وترقی کی پہلی شر ط ہی ہے کہ معیشت میں صنعتوں کو ترجیح دی جائے جس سے اُن ریاستوں میں وسائل کے مناسب استعمال کے ذریعے روزگار میں اضافہ کیاجاسکے۔ ریاستوں کی ناوابستگی کے سبب ہی بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بہت کم خرچ کیاجاتاہے جس سے تعمیر وترقی کی رفتار بیحد سست ہوجاتی ہے۔ مرکز کی حکمراں جماعت کے نظریہ کے مطابق بنگال اس کی بہترین مثال ہے۔ ان کا مانناہے کہ بنگال جو کبھی صنعتوں کامرکز ہواکرتاتھا،آج سرمایہ کار یہاں سرمایہ لگانے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں۔ 1960سے اب تک تقریباً 56ہزار صنعتیں بند ہوچکی ہیں یا پھر ریاست سے باہر جاچکی ہیں۔ یہی حالت آج مبینہ طور پر پنجاب کی بھی ہوگئی ہے۔ میں مانتاہوں کہ اس نظریہ میں سیاست کی بھی شمولیت ہے لیکن اس میں کافی حدتک سچائی بھی ہے ۔
ایک دہائی قبل ہندوستانی معیشت دنیامیں گیارہویں مقام پر تھی ۔ آئی-ایم-ایف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہندوستان دنیا کی پانچویں عظیم معیشت بن چکاہے ۔کہاجارہاہے کہ 2028تک جاپان کوپیچھے چھوڑ کر ہندوستان تیسری عظیم معیشت بن جائے گا۔تب تک چین بھی امریکہ کو پچھاڑتے ہوئے پہلے مقام پر پہنچ جائے گا۔ایسے میں ملک کی ہمہ جہت ترقی کیلئے سبھی ریاستوں کو ملکر اس کیلئے پیش قدمی کرنی ہوگی۔ ملک کی سبھی ریاستوں کو اپنی تعمیر وترقی کا ایک الگ ماڈل تیار کرناہوگا۔ اس کیلئے پسماندہ ریاستوں کو اپنی ترقی کیلئے نئے منبع کی تلاش کرنی چاہیے۔ زیادہ سرمایہ کاری کیلئے ریاستوں کو بنیادی ڈھانچہ پر سب سے زیادہ کام کرناچاہیے جس سے ہرریاست کو مینوفیکچرنگ مرکز بنایاجاسکے۔ مختلف ریاستوں کے درمیان صحت مندمسابقت کو بڑھاوادینے کیلئے ہندوستانی حکومت کو بھی بناکسی تفریق کے اقتصادی طور پر ہمت افزائی کرنی چاہیے جس کے نتیجے میں مختلف ریاستوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی بڑھے گی ۔خودکفیل ہندوستان اورپانچ لاکھ کروڑ ڈالر کی معیشت بنانے کا خواب تبھی پورا ہوگا جب سبھی ریاستوں کے ترقیاتی اقدامات میں مکمل شراکت داری ہوگی۔
[email protected]