سوڈان میں بغاوت کی چنگاری

0

افریقہ کے اہم مسلم ملک سوڈان میں فوجی بغاوت کے بعد اکتوبر سے جاری مظاہروں نے اپریل میں اور بھیانک روپ لے لیا ہے۔ جمہوری نظام کو دوبارہ قائم کرنے اور حکومت کو غیر فوجی اور سیاسی لیڈروں کو منتقل کرنے کے مطالبہ پر 7اپریل کو مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔2019میں سوڈان میں عوامی مظاہروں کے دبائو میں عمر البشیر کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا ۔ اپریل 2019میں کی گئی فوجی کارروائی میں تازہ مرحلے میں اب تک 90افراد مارے جاچکے ہیں۔ ان میں غالب اکثریت سیاست دانوں اور پیشہ وررضاکاروں کی ہے۔ سوڈان میں جمہوریت نواز تحریکوں کی تاریخ رہی ہے اور عوام کی بھی ڈکٹیٹر کو زیادہ دن برداشت نہیں کرتے16اپریل 2019کو فوج نے عمر البشیر کو اقتدار سے بے دخل کرکے خود اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا اور اب اقتدار کسی غیر فوجی یا پیشہ ور جمہوریت پسندوں کو منتقل کرنے میں آنا کانی کررہی ہے۔ اب فوج کو اقتدار پر قبضہ کرنے کے تین سال ہونے کے موقع پر ان احتجاجوں میں شدت آئی ہے جس سے فوج کے ایوان اقتدار میں زلزلہ سا محسوس کیا جارہا ہے۔ اپریل کا مہینہ ان معنوں میں اہم ہے کہ 37سال قبل 1985میں عوامی احتجاجوں میں صدر جعفر نیمری کو بھی بے دخل کردیاگیا تھا وہ بھی بغیر کسی جانی ومالی نقصان کے۔ اس بغاوت میں فوج نے اقتدار ایک منتخب سرکار کو منتقل کردیا تھا۔ سوڈان میں پیشہ ور ماہرین کی ایک تنظیم اور مزاحمتی کمیٹی جمہوری تحریک چلا رہی ہے۔
عوامی مظاہرین کی ناراضگی اس سے بھی شدید ہوگئی ہے کہ فوج کے اقتدار میں مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اور افراد زر کی شرح سالانہ 250سے بڑھ رہی ہے اور عام شہری کو غیر معمولی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اپریل 2019میں عمر البشیر کو بے دخل کرنے کے لیے شروع کی گئی تحریک میں بہت لوگ مارے گئے تھے۔ توقع کی جارہی ہے کہ فوج منصفانہ انتخابات کرائے گی مگر تین سال کے عرصہ میں فوج نے اقتدار منتقل کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔
سیاسی قیدیوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے اور ابھی 6اپریل کے مظاہروں سے فوج کے ہاتھ پائوں پھول گئے ہیں جمہوری تحریک چلانے والی سوڈان پروفیشنل ایسو سی ایشن Sudanese Professional Associationکے تیور ٹھیک نہیں ہے اور جمہوریت پسندوںکو بندوق اور جیل سے ڈرا کر خاموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔