گیان واپی مسئلہ کا حل سرکار کے پاس ہے!

0

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
ابھی بابری مسجد کے خلاف فیصلہ کی روشنائی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ گیان واپی مسجد کے خلاف وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ نے اس تنازعہ کو ایندھن فراہم کرنے کا کام کردیا ہے۔ جس کا انجام بھی خدانخواستہ وہی ہوگا جو بابری مسجد کا ہوا۔ میڈیا میں اس فیصلے کو مندر پکچھ کی جیت اور مسلم پکچھ کی ہار کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ایک حلقہ میں بہت خوشی منائی جارہی ہے۔
میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس قضیہ میں کوئی مسلم پکچھ نہیں ہے۔ مسجد انتظامیہ کمیٹی ہے جو مسجد کا انتظام و انصرام دیکھتی ہے۔ ظاہر ہے مسجد اور اس کی جائداد کی حفاظت کی ذمہ داری اس پر ہے۔ اور وہ اپنا کام ایمانداری سے کررہی ہے۔ چونکہ یہ مسئلہ کھڑا کردیا گیا ہے لہٰذا مجبوراً کورٹ میں وہ اپنا موقف رکھ رہی ہے اور اس کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ ملک کے مسلمان یقینا اس صورتحال سے پریشان اور متردد ہیں اور سانس روک کر بدلتے ہوئے حالات کو دیکھ رہے ہیں، مگر وہ اس قضیہ میں پارٹی نہیں ہیں۔ اس لیے اس کو مسلم پکچھ قرار دینا محض ایک شرارت ہے اور کچھ نہیں ہے اور ایک مقامی مسئلہ کو ملکی مسئلہ بناکر اپنی سیاسی روٹی سینکنے کی سازش اور کوشش ہے۔ میڈیا جس طرح اس مسئلہ کو پروجکٹ کررہا ہے اس سے اس کی متعصبانہ ذہنیت کا پتہ چلتا ہے اور اس کے ذریعہ ایک خاص سیاسی ایجنڈے کو بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔
بعض سمجھدار قسم کے لوگوں کا مشورہ ہے کہ اس مسئلہ کو کورٹ کے ذریعہ حل کرنے کے بجائے دونوں طرف کے ذمہ داروں کو مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعہ حل کرنا چاہیے تاکہ دونوںقوموں کے درمیان خیرسگالی بنی رہے۔ اس معصوم سی تجویز کا انڈرکرنٹ یہ ہے کہ مسلمان راضی خوشی ہندوؤں کے مطالبے کو تسلیم کرلیں اور اس کے عوض اگر کچھ چاہیں تو ان کو دے دیا جائے جیسا بابری مسجد کیس میں ہوا۔
ٹھیک ہے بلّی کی تباہ کاری سے بچنے کا راستہ یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھ دی جائے، مگر ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ گھنٹی باندھے گا کون؟ کیا مسلمانوں کی کسی تنظیم کو، وقف بورڈ کو، مسلم پرسنل لا بورڈ کو یا خود مسجد انتظامیہ کمیٹی کو اس کا اختیار ہے؟ اس کا جواب ہے نہیں۔ ان اداروں کا یہ رول تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی حفاظت کریں اور اس کا انتظام و انصرام بہتر کریں لیکن ان کو کسی مسجد کو بیچ دینے، ہبہ کردینے یا تحفتاً دے دینے یا ایکسچینج کرنے کا اختیار نہیں ہے کیونکہ وہ مسجد کے مالک نہیں بلکہ نگراں ہیں اور نگراں کو حقیت منتقل کرنے کا حق نہیں ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو یہ غصب ہوگا اور غلط ہوگا۔
مسجد کی ملکیت اللہ کی ہوتی ہے اور اس کے بعد حکومت اس کی ذمہ دار ہے۔ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون بناکر کوئی جائداد لے بھی سکتی اور کوئی جائداد دے بھی سکتی ہے۔ اس لیے گیند مسلمانوں کے پالے میں نہیں ہے، بلکہ ریاستی اور مرکزی سرکار کے پالے میں ہے۔ میری رائے میں اگرحکومت اس معاملہ کو آؤٹ آف کورٹ حل کرلے تو بہت اچھا ہوگا۔ مجھے نہیں معلوم گیان واپی مسجد پر ۱۹۹۱ء کا قانون لاگو ہوگا یا نہیں ہوگا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور اس طرح کے معاملہ میں پیش پیش رہنے والے سبرا منیم سوامی نے کہا ہے کہ جس وقت یہ قانون پاس ہورہا تھا اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی اور انھوںنے پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کیا تھا۔ لہٰذا وہ اس قانون کو نہیں مانتے ہیں۔ ظاہر ہوگیا کہ موجودہ حکومت اس قانون کی حرمت کی قائل نہیں ہے۔ اس وقت بی جے پی کو ایوان میں واضح اکثریت حاصل ہے اور وہ اپنی پسند کا کوئی قانون آسانی سے پاس کراسکتی ہے۔ اس سے پہلے کہ ملک کے حالات بگڑیں اسے چاہیے کہ وہ اس قانون کو بدل دے اور ملک کی حکمراں ہونے کے ناطے جس جائداد یا عبادت گاہ کو اپنے قبضے میں لینا چاہتی ہے لے لے یا جس کی ہیئت بدلنا چاہتی ہے بدل دے۔ جو کام حکومت کے ایک فیصلے سے آسانی سے ہوسکتا ہے اس کے لیے عدالتی کارروائی کا لمبا راستہ اختیار کرنے کا ایک ہی مطلب ہے، ماحول کو گرمانا اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا۔ اس قضیہ میں چونکہ ریاست بھی ایک پارٹی ہوگی جس پر اس کے دفاع کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ مسلمانوں کو نہیں حکومت کو کرنا ہے بلکہ اسے کرنا چاہیے۔
میں مسلمانانِ ہند سے کہنا چاہوں گا کہ موجودہ حالات میں مشتعل نہ ہوں۔ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، سڑکوں پر نہ آئیں، بلکہ کمال صبر وضبط کا مظاہر کریں اور دیکھیں کہ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے! قرآن کا ارشاد ہے ہم لوگوں کے درمیان حالات کو ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ اس لیے اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کیجیے ۔ اور اپنے ابنائے وطن کی خیرخواہی میں اپنا سب کچھ نچھاور کردیں۔ آپ اس نبیؐ کی امت ہیں جس نے گالیاں دینے والوں اور پتھر برسانے والوں کو بددعا دینے کے بجائے ان کے حق میں دعائیں دی ہیں۔ صبر اور عزیمت بندئہ مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ خدا پر بھروسہ رکھیں ۔
abuzarkamaluddin.com