اویغور مسلمانوں پر عالم اسلام کی خاموشی تشویش ناک!

0

ایم اے کنولؔ جعفری

اقوام متحدہ نے سنکیانگ میں اویغوروں سے بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات کے بعد منظر عام پر آئی رپورٹ کی بنیاد پر چین پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر دفترسے جاری رپورٹ میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی اور جنسی و صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات شامل ہیں۔ کئی افراد کو طبی علاج کے نام پر جبری طور پر خاندانی منصوبہ بندی اور پیدائش پر قابو کی پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل کئی ممالک سنکیانگ میں چین کے اقدامات کو نسل کشی قرار دے چکے ہیں۔ رپورٹ میں حراستی مراکز میں برسوں سے قیدوبند کی صعوبتیں جھیل رہے اویغور مسلمانوں و دیگر نسلی اقلیتوںکی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے مثبت اقدام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایک پورٹ کے مطابق اویغور کمیونٹی اور دیگر مسلمان برادریوں کے اراکین کے ساتھ ناروا سلوک اور امتیازی حیثیت بین الاقوامی جرائم، خاص طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کو جنم دے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب دنیا کو سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت حال پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ مشیل باشیلے کا کہنا ہے کہ سنکیانگ کے اویغور خود مختار خطے میں صورت حال کی مکمل تشخیص کی ضرورت ہے۔ رپورٹ تیار ہونے میں ایک برس لگا۔ چین نے اسے جاری کرنے کی شدید مخالفت کی اور اسے مغربی ممالک کی جانب سے اس کے خلاف منظم تماشہ بتایا۔
سنکیانگ کے رہائشی اویغور مسلمانوں کے ساتھ کمیونسٹ حکومت کی بدسلوکی، مظالم، استحصال اور مذہبی آزادی تلف کر کے انہیںحراستی مراکز میں قید رکھنے کے معاملے عالمی برادری سے پوشیدہ نہیںہیں۔ گزشتہ برسوں میں امریکہ کے بعد جرمنی نے بھی چین کے مذہبی استحصال اور نسلی منافرت کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔ تب حراستی مراکز کی سخت نگرانی میں جبر و تشدد کی تکالیف برداشت کرنے پر مجبور اویغور مسلمانوں کی فہرست ڈی ڈبلیو سمیت ذرائع ابلاغ کے اداروں کو دستیاب ہوئی تھی ۔ 403 صفحات پر مشتمل اس خفیہ دستاویز کے منظرعام پر آنے سے معلوم ہوا تھا کہ اویغور مسلمانوںکو حراستی مراکز میں سخت نگرانی میں رکھا جا رہا ہے۔ دستاویز میں قریب دو ہزار قیدیوں، ان کے دوست و احباب اور رشتہ داروں کی مکمل تفصیلات موجود تھیں۔ جرمن حکومت کے کمشنر برائے عالمی مذہبی آزادی مارکوس گرؤبل نے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر قیدو بند کی مشقتوں سے دوچار اویغوروں کی صورت حال کو غیر انسانی اور ناقابل قبول قرار دیاتھا۔ قیدی مسلمانوں کے شب و روز کے معمولات مسلسل چینی حکومت کی نگرانی میں گزرتے ہیں۔ مارکوس گرؤبل نے اقوام متحدہ سے اویغور مسلمانوں کو درپیش صورت حال کی آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کیا تھا۔ حالانکہ اس سے قبل بھی سنکیانگ کے اویغور مسلمانوں کی زبوں حالی کے واقعات سامنے آتے رہے تھے مگر اس ضمن میں عالم اسلام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ اویغوروں کے علاقے کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ چین میں 39 ہزار مساجد ہیں، جن میں 25 ہزار مسجدیں سنکیانگ میں ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ 2008 کے اولمپک کھیلوں کے دوران علیحدگی پسند اویغوروں کے ذریعے کیے گئے مظاہروں سے چینی حکمراں کافی ناراض ہوئے۔ انہوں نے اویغور مسلمانوں کو چین کے لیے زبردست خطرہ مانتے ہوئے مظالم میں اضافہ کر دیا۔ ان پر افغانستان میں دہشت گردی کی ٹریننگ لینے اورالقاعدہ سے تعلق رکھنے کا الزام لگایاگیا۔ آج حالات انتہائی خراب اور ناگفتہ بہ ہو گئے ہیں۔ اویغوروں کو اپنا مذہب اور اپنی شناخت ترک کرکے کمیونزم اپنانے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔
تین برس قبل سنکیانگ کے اویغور مسلمانوں کو حراستی مراکز میں رکھنے کے خلاف امریکی ایوان نمائندگان نے ’اویغور ایکٹ‘ برائے 2019 کو کثرت رائے سے منظور کیا تھا۔ بل کی حمایت میں 407 اراکین اور مخالفت میںصرف ایک ووٹ پڑا تھا۔ اس کے تحت چین کے اعلیٰ عہدے داروں پر پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان تھا۔ چینی حکام اپنے یہاں قائم ڈٹینشن سینٹروں کو تربیتی مراکز بتا رہے ہیں،جہاں نوجوانوں کو پیشہ ور تعلیم کے علاوہ چینی زبان و ثقافت سے روشناس کرایا جاتا ہے جبکہ 25 نومبر 2019 کو دنیا بھرکے 17 ذرائع ابلاغ کے بڑے اداروں نے صحافیوں کی ایک تنظیم انٹر نیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلسٹس(آئی سی آئی جے) کے ذریعے جمع کیے گئے دستاویزات کو شائع کیا تھا۔ ان کے ’لیک دستاویز‘ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ مبینہ قیدیوں کے فرار ہونے کے راستوں پرسی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔ حراستی مراکز پر سخت پہرا ہونے کے علاوہ مقید افراد پر ہر وقت نگرانی کے احکامات ہیں۔ ماہرین کے مطابق سنکیانگ میں قائم چین کے حراستی مراکز بیجنگ کے ان دعووں کی تردید کرتے ہیں ،جن میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ کیمپوں میں رہنے والوں کو پیشہ ورانہ تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ افشاں ہونے والے دستاویزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان خفیہ حراستی مراکز میں قید لوگوں کی زندگیوں کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ مقامی حکام کو قیدیوں پر رفع ا حتیاج کے مواقع سمیت ہر وقت نظررکھنے کی سخت ہدایات ہیں تاکہ وہ کسی بھی صورت میں فرار نہ ہو سکیں۔ اتنا ہی نہیں، حراستی مراکز میں کام کرنے والے افراد کو ان قیدیوں سے بات چیت کرنے اور ذاتی طور پر تعلقات بڑھانے کی بھی ممانعت ہے۔ سنکیانگ کے سیکورٹی چیف کی جانب سے 2017 میں دی گئی ہدایات کے مطابق ان حساس مراکز کو پوری طرح خفیہ رکھا گیاہے۔ ان میں کسی کو موبائل فون اور کیمرے وغیرہ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ مراکز کے قیدیوں کو ’ طلبہ‘ کہا جاتا ہے۔ ان طلبہ کے لیے گریجویٹ کرنا لازمی کیا گیا ہے۔ ’طلبہ‘ پر اتنی پابندیاں ہیں کہ ان کے شب و روز کی مصروفیات کا شیڈیول تک طے ہے۔ سر کے بال کاٹنے اور شیونگ کرنے کے اوقات بھی مقرر ہیں۔ چونکہ ’طلبہ‘ کو تعلیم کے دوران باہری دنیا سے رابطہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے وہ ہر طرح کی مواصلاتی سہولت سے محروم ہیں۔ ’برین واش‘ کیے جا رہے طالب علموں میں کسی کے بیمار ہونے یا مجبوری کے تحت باہر جانے کی صورت میں ان پر نگرانی اور کنٹرول کے لیے عملے کے شخص کی تعیناتی کی جاتی ہے ،جو برابر اس کے ساتھ رہتا ہے۔
سنکیانگ میں اویغوروں کا مذہب اسلام سے تعلق ہونے یا دین کی تبلیغ کرنے، پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے، دوسرے ممالک میں رہائش پذیر رشتہ داروں سے بات کرنے، سوشل میڈیا پر سرچ کے دوران انجانے میں غیر ملکی ویب سائٹ کھل جانے، کسی مشکوک سرگرمی میں ملوث پائے جانے یا پھر بھروسے کے قابل نہیں رہنے کے شک میں ان پر جبروتشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ ان سے ان کی مذہبی آزادی اور رہائش گاہوں کو چھینتے ہوئے انہیں تربیتی کیمپوں کے نام پر قید خانوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ 50 برس سے کم عمر کے مردوں کو داڑھی رکھنے اور ٹوپی پہننے کی اجازت نہیں ہے جبکہ خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی ہے۔ سولہ برس سے کم عمر کے نابالغ بچوں کے لیے دینی تعلیم حاصل کرنے پر قدغن ہے۔ مقام عامہ پر نمازادا کرنے کی انہیں اجازت نہیں ہے۔ شی حکومت نے 2014 سے رمضان کے فرض روزے رکھنے کو ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ تقریباً 500 مساجد سے اذان دینے میں استعمال ہونے والے لاؤڈ اسپیکروں کو اتروا دیا گیا ہے۔ اسی پر بس نہیں، 2017 میں مسجدوں میں استعمال ہونے والی چٹائی، الماریوں میں رکھے قرآن مجید اور دیگر مذہبی شناخت کی چیزوں کو ہٹا دیا گیا۔ وہاں تقریر کرنے یا پھر اپنے دین کی تبلیغ کرنے پر مکمل طور پر پابندی ہے۔ اویغور مسلمانوں کو حلال غذا کھانے سے روکا اور حرام اشیا کے استعمال کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ غرض یہ کہ مسلمانوں کو مذہب اسلام سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کی بربادی اور انسانیت کو شرم سار کرنے والے واقعات منظر عام پر آنے کے باوجود چند ممالک کو چھوڑ کر دنیا کے کسی دیگر ملک کا چین کے خلاف لب کشائی نہ کرنا جتنا افسوس ناک ہے، اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اس ایشو پر 15 اسلامی ممالک آنکھیں بند کرکے چین کے موقف کی حمایت کر ر ہے ہیں۔ ادھر چینی صدر نے سعودی فرمانرواشاہ سلمان بن عبدالعزیز کو خط لکھ کر سعودی عرب کی جانب سے ایکسپو 2030 کی میزبانی کی حمایت کی ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے چینی صدر شی جن پنگ چین کو سپرپاور بنانے کے لیے جی جان سے کوشاں ہیں لیکن انہیں نہ تو اپنے ملک کی خراب ہوتی شبیہ کی فکر ہے اور نہ ہی اویغور مسلمانوں پر جبروتشدد کی باہر آتی داستان اور اس سے متعلق ویڈیوز کے ذریعے دنیا بھر میں ہو رہی بدنامی کی پروا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں کریک ڈاؤن دہشت گردی کی روک تھام اور اسلام پسند انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن وہ اس آڑ میں ان مسلمانوں کو دہشت گرد بتا کر دنیا بھر میں بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا جنہیں 9/11 سے پہلے جنگجو اور علیحدگی پسند کہاکرتا تھا۔
چینی حکومت بدھ مت، تاؤ مت، کیتھولک مسیحیت، پروٹیسٹ مسیحیت اور اسلام پانچ مذاہب کو تسلیم کرتی ہے لیکن کسی مذہب میں یقین نہیں رکھنے والے مبینہ مسلم کش شی جن پنگ کو بھی کورونا کے دنوں میں مسجد میں جاکر امام سے دعا کرنے کی اپیل کرتے دیکھا گیا۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی خاص مذہب کے خلاف مہم چلاکر اس کے ماننے والوں پر جبرو تشدد کے پہاڑ توڑنا، عبادت گاہوں کو نیست و نابود کرنا اور حیلہ بہانہ کر انہیں ڈٹینشن کیمپوں میں ڈال کر ان کی زندگی اجیرن بنا نا آسان ہے مگر ایسا وہی ملک کر سکتا ہے،جسے اپنی طاقت پر غرور ہو یا جسے دوسرے ممالک کے ذریعے کیے جانے والے لعن طعن کی رتی بھر فکر نہ ہو۔ ایسا بے حس ملک ترقی کے کتنے ہی زینے طے کر لے، وہ نہ تو عوام کا دل جیت سکتا ہے اور نہ ہی امن پسند ممالک کی پہلی پسند ہو سکتا ہے۔ ملک میںترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے مثبت سوچ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جہاں چین کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اپنی منفی شبیہ میں تبدیلی لاتے ہوئے مذہبی استحصال کو بند کرکے اپنی مثبت شناخت بنائے وہیں مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنی خاموشی توڑنی ہو گی۔ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چین کے ساتھ مذاکرات کرکے اویغور مسلمانوں کو انصاف دلانے کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔n
( مضمون نگار سینئر صحافی، سبکدوش ٹیچر،شاعر،ادیب اور افسانہ نگارہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS