پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ آج سے،جموں وکشمیر کیلئے پیش ہوگا بجٹ

0

بڑھتی بے روزگاری، ای پی ایف پر شرح سود میں کٹوتی اوریوکرین سے ہندوستانیوں کی نکاسی سمیت کئی ایشوز پرسرکار کو گھیرنے کا امکان
نئی دہلی (پی ٹی آئی) : پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ پیر سے شروع ہوگا، جس میں اپوزیشن سرکار کو بڑھتی بے روزگاری، ای پی ایف پر شرح سود میں کٹوتی اور جنگ زدہ یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کی نکاسی سمیت کئی معاملوں پر گھیرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ بجٹ تجاویز کیلئے پارلیمنٹ کی منظوری لینا اور مرکز کے زیرانتظام ریاست جموں وکشمیر کیلئے بجٹ پیش کرنا سرکار کے ایجنڈے میں سب سے اوپر ہوں گے۔ وزیرخزانہ نرملا سیتارمن جموں وکشمیر کیلئے پیر کو بجٹ پیش کریں گی اور ایوان میں اس پر دوپہر کے کھانے کے بعد کی کارروائی کے دوران بحث کی جاسکتی ہے۔ سرکار نے آئین(درج فہرست قبائل) احکام (ترمیمی) بل کو بھی لوک سبھا میں غور کئے جانے اور پاس کئے جانے کیلئے فہرست میں شامل کیا ہے۔ بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں 29جنوری سے 11 فروری تک 2الگ الگ شفٹوں میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی چلائی گئی تھی۔ بہرحال اس بار کووڈ19- سے متعلق حالات میں کافی بہتری آنے کے سبب لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی 11بجے دن سے ساتھ ساتھ چلے گی۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کا دوسرا مرحلہ ایسے وقت میں شروع ہوگا، جب کچھ ہی دن قبل اترپردیش، اتراکھنڈ، گوااورمنی پورکے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے اور پنجاب میں عام آدمی پارٹی نے جیت حاصل کی۔ اس سے قبل بجٹ سیشن کا پہلا مرحلہ پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مشترکہ اجلاس میں صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے خطاب سے 29 جنوری کو شروع ہواتھا، جس کے بعد اقتصادی سروے پیش کیا گیاتھا۔ نرملا سیتارمن نے یکم فروری کو مرکزی بجٹ پیش کیا تھا، جس کے بعد صدرجمہوریہ کے خطاب اور مرکزی بجٹ کی تحریک شکریہ پر بحث ہوئی تھی۔ دریں اثنا کانگریس صدر سونیاگاندھی نے اپنی رہائش گاہ پر کانگریس کی پارلیمانی حکمت عملی کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کی اور بجٹ اجلاس کے دوران یکساں نظریہ والی سیاسی پارٹیوں کے تال میل کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے کہا کہ ہم نے پیر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں اٹھائے جانے والے ایشوز پر غور کیا۔ ہم اجلاس کے دوران مفاد عامہ سے منسلک اہم ایشوز کو اٹھانے کیلئے یکساں نظریہ والی پارٹیوں کے ساتھ تال میل کے ساتھ کام کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ یوکرین سے ہندوستانی طلبا کی محفوظ نکاسی، مہنگائی، بے روزگاری، مزدوروں کا موضوع، کسانوں کو کم از کم قیمت کا موضوع وغیرہ ان ایشوز میں شامل ہیں، جنہیں اس اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔ ای پی ایف او نے ای پی ایف پر شرح سود کو 8.5 فیصد سے گھٹا کر 8.1 فیصد کرنے کا ہفتہ کو فیصلہ کیا۔ جنگ زدہ یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کی نکاسی پر اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ سرکار سے بیان کا مطالبہ کئے جانے کا امکان ہے۔