ارض فلسطین کا تقدس

0

’’رب کعبہ کی قسم ! تجھ سے ہمیں محبت ہے‘ تو قبلہ اوّل ہے، انبیاؑ کی سرزمین ہے‘ ابوالانبیا کا مسکن ہے‘‘۔
جب میں نے فلسطین کا سفر کیا تھا اس کو اب چھ سال گزر چکے ہیں لیکن میں کیا کروں میرا دل اس سرزمین نے لے لیا ہے۔ نہ جانے کیا جادو ہے اس میں ؟ جو رہتے ہیں وہ اس کی محبت میں گندھے ہوئے ہیں، جو چھوڑ چکے ہیں ان کی کسک ان کو کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے بے چین رکھتی ہے، جو ایک دفعہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اْن کا رواں رواں فلسطین کے لیے بے چین رہتا ہے اور جنھوں نے کبھی نہ دیکھا ہو ان کے بھی اٹھے ہوئے ہاتھوں میں یہاں بسنے والوں کا معتدبہ حصہ ہوتا ہے۔
حدیث کو سمجھنا ہو کہ مسلمان ایک جسد واحد کی مانند ہیں تو ارض فلسطین اس کی کھلی تصویر ہے، لیکن بعض اوقات خصوصاً آج کل کے پروپیگنڈے کے دور میں لگتا ہے کہ شاید ہم جذباتی ہو کر سوچ رہے ہیں۔ بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں کیوں کہ ہم وہاں پر موجود نہیں ہیں اور مسئلہ یہ ہے کہ اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں ہم سمجھنے کی پوری طرح کوشش بھی نہیں کرتے۔چند سادہ سے سوالات ہیں جو ذہنوں کو پریشان کر رہے ہیں میں نے یہاں ان کو اپنی ذاتی معلومات اور یہاں پر موجود ایک فلسطینی دوست جس کا خاندان غزہ میں ہے کی مدد سے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔
غزہ کے شہری کون ہیں؟
یہاں کی آبادی دو ملین ہے جس میں سے تیس فیصد کے قریب مقامی لوگ ہیں باقی تقریباً ستر فیصد فلسطینی مہاجرین ہیں جن کے لیے دنیا میں اور کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ یہ وہ مہاجرین ہیں جو گزشتہ دو بڑی جنگوں میں اور وقت بہ وقت سابق فلسطین اور ویسٹ بینک سے اپنے گھروں سے دھکے دے دے کر نکال دیے گئے ہیں۔ ان کے اپنے آبائی شہر ڈرائیونگ کے فاصلہ پر ہیں۔ نکلتے ہوئے ان کا خیال تھا کہ یہ پناہ لینے غزہ جا رہے ہیں‘ جب حالات بہتر ہو جائیں گے تو یہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے۔ لیکن یہ خواب آج تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو پایا۔
کیا غزہ کے فلسطینیوں کے لیے کوئی راستہ ہے؟ کیا اللہ کی زمین وسیع نہیں کہ وہ وہاں سے نکل جائیں؟
غزہ پر اسرائیل نے1967ء کی جنگ میں مصر سے چھینا تھا اور تقریباً چالیس سال بعد 2005ء میں ازخود مایوس ہو کر خالی کر دیا تھا، جس کے بعد سے وہاں پر حماس کی حکومت ہے، لیکن جاتے جاتے اسرائیل نے اس کے دو اطراف ایک طویل مضبوط اور گہری لوہے کی دیوار زمین پر اور زیر زمین بنا کر اس کو مستقل جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ تیسری طرف سمندر ہے اور چوتھی طرف صرف چھوٹا سا حصہ ہے جو مصر سے ملتا ہے جو ’’رفاہ کراسنگ‘‘ کہلاتا ہے اور سال میں بہ مشکل ایک دفعہ کھلتا ہے کہ لوگ اگر چاہیں تو اپنے پیاروں سے ملنے صرف یہیں سے جا سکتے ہیں اور وہ بھی انتہائی طویل صبر آزما سفر کے بعد۔ امدادی سامان بھی یہیں سے جاتا ہے، لیکن یہ راستہ جنرل سیسی کے آنے کے بعد سے غزہ کے رہنے والوں کے لیے بالکل بند ہے‘ وہ یہاں سے بھی باہر نہیں نکل سکتے۔ مغرب ان کو لینے کے لیے بالکل تیار نہیں اور نہ ہی کوئی مسلم ملک اپنے دروازے ان کے لیے کھول رہا ہے۔ وہ ایک ایسی کھلی چھت کے قید خانہ میں ہیں جہاں سے آزادی کی واحد صورت موت ہے۔ پانی، بجلی اور گیس سب کچھ اسرائیل نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ کھانا پینا بھی اسرائیل آبادی کا حساب کر کے جانے کی اجازت دیتا ہے اور یہ آج کی بات نہیں ہے جب اسرائیل کا قبضہ تھا یعنی 2005 سے پہلے بھی اس نے یہاں کے لوگوں کی آمدورفت کو بالکل محدود کر کے رکھا تھا۔
جو ہم سنتے ہیں کہ فلسطینیوں کو ملین ملین ڈالر کی پیش کش ہوتی ہے زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے کے بدلے اس کی کیا حقیقت ہے؟
یہ دراصل ویسٹ بینک کے شہر یروشلم کے باسیوں کو پیش کش ہوتی ہے۔ یروشلم شہر کو اسرائیل اپنا حصہ بنانا چاہتا ہے اس کے لیے زبردستی بھی ہوتی ہے اور مسلمانوں کو اپنی زمین اور گھر بیچنے کا بھی اختیار ہوتا ہے۔ بہت سے مصیبت کی زندگی سے تنگ آکر نکل چکے ہیں لیکن بہت سے لوگ بیت المقدس کی حفاظت کو اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت سے بھی زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے‘ اور کافی حد تک درست ہے‘ کہ ان کی موجودگی اسرائیل کو اپنے ارادوں میں کامیاب ہونے سے روکے ہوئے ہے۔ مسجد اقصیٰ اسلام میں تیسری مقدس مسجد ہے وہ اس کی حفاظت اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS