خواندگی بڑھانے میں مدارس کا رول ناقابل فراموش!

0

وطن عزیزہندوستان میں حصول علم کے معاملے میں مسلمان کافی پیچھے ہیں لیکن ناخواندہ مسلمان اور بھی زیادہ ہوتے اگریہ مدرسے نہیں ہوتے، کیونکہ مدرسوں نے بچوں کو صرف زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا ہی کام نہیں کیا ہے، ان کی رہائش، کھانے پینے، کپڑے وغیرہ فراہم کرانے کا بھی کام کیا ہے۔ مدرسوںکے ان کارہائے نمایاں انجام دینے کی وجہ سے وہ بچے بھی پڑھ سکے جن کے حالات اس لائق نہیں تھے کہ پڑھ پاتے۔ اہم بات یہ ہے کہ مدرسوں میں مسلم بچوں کے ساتھ دیگر مذاہب کے بچوں کو بھی تعلیم دی جاتی رہی ہے مگر اس کے باوجود مدرسے نشانے پررہتے ہیں۔ کبھی ان کے نظام تعلیم پرسوال اٹھایا جاتا ہے تو کبھی ان کے بارے میں کوئی مذموم بات کہی جاتی ہے جبکہ مدرسوں پرسوال اٹھانے والوں کو توجہ اس بات پر دینی چاہیے تھی کہ ملک میں جتنے بچے ہیں، کیا اس حساب سے اسکول اور کالج ہیں؟ اورجو اسکول اور کالج ہیں، کیا ان میں اتنے ہی اساتذہ ہیں جتنے اساتذہ ان میں ہونے چاہئیں تھے؟ اگرحکومتوں کی طرف سے اچھے اور معیاری اسکول قائم کیے جاتے، ان میں داخلہ آسان ہوتا، والدین کو یہ اطمینان دلایا جاتا کہ وہ اپنے بچو ںکو پڑھائیں، ان کی پرورش اسی طرح کی جائے گی جیسے مدرسوںمیں تعلیم و تربیت کے ساتھ کی جاتی ہے تو مدرسوں کے بہت سے بچے اسکولوں میں نظر آتے مگر حقیقت یہ ہے کہ مختلف ریاستوں میں جتنے اسکول ہونے چاہئیں، نہیں ہیں۔ معیاری تعلیم دلانے کے لیے کئی لوگ بچوں کا داخلہ پرائیوٹ اسکولوں میں کرانا چاہتے ہیں تو داخلہ بہت مشکل سے ہوتا ہے اور داخلہ ہو جانے پر سال بہ سال بڑھتی ہوئی فیس کا بوجھ انہیں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مدرسوں کا سروے کرانے سے پہلے ہندوستان بھر میں کورونا کے سنگین دور کے بعد فیسوں میں حیران کن اضافے پر توجہ دی جانی چاہیے تھی تاکہ یہ اندازہ لگانا آسان ہوتا کہ پرائیویٹ اسکولوں نے جتنا اضافہ فیسوں میں کیا ہے، کیا اتنا ہی اضافہ اپنے یہاں پڑھانے والے ٹیچروں کی تنخواہوں میں بھی کیا ہے؟ کیا فیس بڑھاتے وقت پرائیویٹ اسکولوں نے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ کورونا کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو نوکری گنوانی پڑی ہے، بہت سے لوگوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے؟
وہ مسلمان جنہیں مدارس کے نظام میں بہت سی خامیاں نظر آتی ہیں، انہیں تعلیم کی ترسیل میں مدارس اسلامیہ کے رول کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، یہ بات انہیں سمجھنی چاہیے کہ مدارس نے اگر تعلیم کی ترسیل نہ کی ہوتی، بچوں کو بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا ہوتا تو حالات اور خراب ہوتے، پھر اغیار کو یہ کہنے کا موقع ملتا کہ مسلمان نرے جاہل ہوتے ہیں، اپنی مذہبی کتاب بھی نہیں پڑھ پاتے، کیونکہ ’رائٹ آف چلڈرن ٹو فری اینڈ کمپلسری ایکٹ‘ 2010 سے نافذ ہوا؟ 2011 کی مردم شماری کے مطابق، اس ملک میں 73 فیصد شرح خواندگی تھی اور یہ صورتحال تب تھی جب مدارس بہت پہلے سے بچوں کو فری ایجوکیشن دے رہے ہیں۔ یہ مدارس اگر نہیں ہوتے تو پھر حالات زیادہ خراب ہوتے۔ گزشتہ برس ہی یونیسکو کی رپورٹ آئی تھی کہ ہندوستان میں 10 لاکھ سے زیادہ اسکول ٹیچروں کی کمی ہے۔ اس رپورٹ پر کتنی توجہ دی گئی، یہ ایک الگ سوال ہے اور مدرسوں پر زیادہ توجہ کیوں دی جا رہی ہے، یہ بھی ایک الگ سوال ہے مگر ان دونوں سوالوں پر غور کرنا چاہیے اور یہ بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ آخر مڈڈے میل کیوں شروع کیا گیا؟ کیا اس لیے کہ ان بچوں کو بھی تعلیم کی طرف راغب کیا جائے جن کے لیے بھوک بھی ایک مسئلہ ہے۔ ’مڈ ڈے میل‘ 1985 میں شروع کیا گیا تھا جبکہ اس سے بہت پہلے سے مدارس اسلامیہ غریب بچوں کے لیے رہائش کے ساتھ کھانے، ناشتے اور کپڑے لتے کا بھی انتظام کر رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانیوں کو خواندہ بنانے میں مدارس کا رول ناقابل فراموش ہے۔n