فساد کرنے والے کسانوں کے بھیس میں تھے

0

نئی دہلی :یوم جمہوریہ کی صبح راجدھانی سماج دشمن عناصر کے ہاتھوں میں چلی گئی، جس کی وجہ سے سنگھو بارڈر ، غازی پور بارڈر اور نانگلوئی علاقہ میں پولیس کے بیریکیڈ توڑ دیے گئے، جبکہ آئی ٹی او ، لال قلعہ اور لوٹین زون میں پورے دن افراتفری مچی رہی۔ نانگلوئی میںمبینہ مظاہرین ہتھیاروں کو لہراتے ہوئے رہائشی علاقے میں داخل ہوگئے ،آئی ٹی او پر ٹریکٹر پر اسٹنٹ دکھا کر پولیس اہلکاروں کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ اکشردھام اور آئی ٹی او کے پاس پولیس اہلکاروں کو زدوکوب کیا گیا، جبکہ مکربا چوک پر ایک خاتون پولیس اہلکار کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ آئی ٹی او پر ٹریکٹر کے ذریعہ ایک بس کو الٹ دینے کی بھی کوشش کی گئی ، اسے روکنے پر پولیس فورس پر پتھراؤ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مبینہ مظاہرین بھیس بدل کر صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کی رہائش گاہوں کا رخ کررہے تھے لیکن انہیں روک دیا گیا۔دہلی پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسانوں کے بھیس میں کچھ سماج دشمن عناصر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حکم پر خالستانی اور اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ تشدد کی سازش رچی تھی۔
دریں اثنا کسانوں کے پر تشدد مظاہرے کے بعد عام آدمی پارٹی نے کہا کہ وہ آج کے مظاہرے کے دوران ہوئے تشدد کی پارٹی مذمت کرتی ہے۔ مرکزی سرکار نے حالات کو بگڑ نے دیا ،یہ دکھ کی بات ہے۔اب تک دو ماہ تک یہ تحریک پر امن طریقہ سے چلی۔ تحریک لیڈروں نے کہا کہ جو لوگ تشدد میں ملوث ہوئے، وہ کسان تحریک کا حصہ نہیں ہیں ،وہ باہری عناصر ہیں۔لیکن وہ جو بھی ہیں۔انہوں نے تحریک کو کمزور کیا ہے۔اب تک تحریک پر امن اور ڈسپلن میں چلی ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS