آبی ذخائر کے کورونا کا گھر بننے کا اندیشہ

0

پنکج چترویدی

یہ خبر اخباروں کی سرخیاں بنیں کہ لکھنؤ کے سیوریج میں کورونا وائرس ملا ہے تو ہنگامہ ہو گیا۔ حالانکہ بڑے شہروں میں فضلہ کو لاپروائی سے ٹھکانے لگانے اور بڑھتے میڈیکل کچرے کی وجہ سے اس وائرس کے اندیشے پر دنیا بھر میں گزشتہ ایک سال سے کام ہو رہا ہے۔ یہی نہیں، حیدرآباد کی حسین ساگر اور دیگر شہری جھیلوں میں وائرس کے جینیٹک میٹریل بھی ملے ہیں۔ چونکہ ٹھیک ویسی ہی اسٹڈی حیدرآباد کے دیہی اور نیم شہری علاقوں کی جھیلوں میں بھی کی گئی اور وہاں اس طرح کا خطرہ نہیں ملا، ظاہر ہے کہ حیدرآباد شہر کے بغیر ٹسٹ کیے گئے فضلہ براہ راست جھیلوں میں جانے کا یہ برا اثر ہے۔ پانی میں وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے کی جا رہی اسٹڈی میں فی الوقت تو یہی کہا گیا ہے کہ پانی میں ابھی تک جو جینیٹک میٹریل ملا ہے، وہ اصل وائرس نہیں ہے۔ ایسی صورت میں پانی کے ذریعہ چہرے یا منہ سے انفیکشن پھیلنے کی گنجائش کم ہے۔
کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی، سینٹر فار سیلولر اینڈ مولی کیولر بائیولوجی اور اکیڈمی آف سائنٹفک اینڈ اِینووِیٹو ریسرچ نے مل کر یہ اسٹڈی کی جس میں 7 مہینے کے دوران بھارت میں کووِڈ کی پہلی اور دوسری لہر کو کور کیا گیا ہے۔ اس کے لیے حیدرآباد کی حسین ساگر اور دیگر جھیلوں کو چنا گیا۔ حسین ساگر کے علاوہ ناچارم کی پودّا چیرو اور نظام تالاب میں بھی وائرس کے میٹریل ملے ہیں۔ اسٹڈی میں پتہ چلا کہ پانی میں یہ جینیٹک میٹریل اسی سال فروری میں بڑھنا شروع ہوئے جب ملک میں وبا کی دوسری لہر کی ابتدا ہوئی۔ ٹھیک اسی وقت گھاٹ کیسر کے پاس ادول آبادکے نیم شہری علاقے اور دیہی علاقے کی پوتوراجو جھیل میں بھی اسٹڈی کی گئی اور ان دونوں جگہوں پر انفیکشن کا کوئی اندیشہ نہیں تھا۔
’میڈ آرلائیو‘ نے 12 مئی کوComprehensive and Temporal Surveillance of SARS-CoV-2 in Urban Water Bodies: Early Signal of Second Wave Onset عنوان سے شائع شدہ رپورٹ میں منوپتی ہیم لتا، اتھم کوری تارک، ادے کرن وغیرہ سائنس دانوں کی ٹیم نے لکھا ہے کہ کورونا وائرس کے منھ سے پھیلنے کے اندیشے پر دنیا بھر میں ہو رہی تحقیق کے دوران جب حیدرآباد کی جھیلوں کی اسٹڈی کی گئی تو پتہ چلا کہ کووِڈ متاثرہ لوگوں کے گھروں اور اسپتالوں کے فضلہ بغیر ٹسٹ کیے ہی جھیلوں میں ڈالنے سے اس بحران کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

اگر پانی میں کووِڈ خطرناک حالت میں مل گیا تو جان لیں، انسانیت کا وجود ہی خطرے میں آجائے گا۔ انسان کو نقصان پہنچانے کی طاقت رکھنے والا کورونا وائرس-229 ای، 23 ڈگری درجۂ حرارت پر 7 دن تک پانی میں متحرک رہتا ہے۔ آج لازم ہوگیا ہے کہ کووِڈ کے اسپتالوں کے فضلہ پر تحقیق اسپتال میں ہی کی جائے۔ یہی نہیں، ڈبلیو ایچ او نے متنبہ کیا ہے کہ پینے کے پانی کا موجودہ ٹسٹ کرنے کا طریقہ کورونا وائرس کا پتہ لگانے کے لیے ناکافی ہے۔

ویسے لکھنؤ سے پہلے گوروکل کانگڑی یونیورسٹی کے مائیکرو بائیولوجی ڈپارٹمنٹ کے صدر شعبہ پروفیسر رمیش چندر دوبے اپنی اسٹڈی کی بنیاد پر دعویٰ کر چکے تھے کہ کمبھ کی وجہ سے گنگا میں کورونا وائرس کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی میں کورونا وائرس طویل وقت تک متحرک رہتا ہے اور جب آدمی اس پانی میں نہاتا ہے تو وہ اس کے جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔ متاثرہ شخص سے یہ انفیکشن تیزی سے دوسرے لوگوں میں پھیلا سکتا ہے۔ پروفیسر دوبے کی اسٹڈی کہتی ہے کہ کورونا انفیکشن کو پھیلانے کی سب سے بڑی وجہ حال ہی میں اختتام پذیر ہری دوار کمبھ میلہ میں گنگا میں نہانے والے کورونا متاثرہ سادھو یا دیگر عقیدت مند رہے ہیں۔ یہ انفیکشن کلیم سیال نمونی انفیکشن کے ساتھ مل کر اور حملہ آور ثابت ہوا۔ پروفیسر دوبے کا کہنا ہے کہ کورونا پانی میں بہت دیر تک زندہ رہتا ہے اور کمبھ میلے میں جو کورونا متاثر سادھو سنت یا عقیدت مند گنگا میں نہائے اور انہوں نے گنگا جل کا ’آچمن‘ یعنی پانی کا گھونٹ لیا، ان کے بغل میں گنگا میں نہا رہے دیگر صحت مند اشخاص کو بھی ان سے کورونا انفیکشن پھیل گیا۔ پروفیسر دوبے کا کہنا ہے کہ گنگا جل میں پائے جانے والے ان تین انفیکشن کو ختم کرنے کا کام بیکٹیریا فاز کرتا ہے لیکن کمبھ میلے میں گنگا میں کورونا انفیکشن کو ختم کرنے کا کام گنگا جل میں موجود بیکٹیریا فاز کیوں نہیں کرپایا، اس پر تحقیق ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے اپریل میں ہی رڑکی یونیورسٹی کے واٹر ریسورس ڈپارٹمنٹ کے سینئر سائنٹسٹ ڈاکٹر سندیپ شکلا او ران کے صدر شعبہ ڈاکٹر سنجے جین نے 12 رکنی ٹیم کے ساتھ جمع اور بہتے ہوئے پانی میں کورونا وائرس کے متحرک ہونے کی مدت پر تحقیق کی تھی۔ اس ٹیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ کورونا وائرس خشک سطح اور دھات کے مقابلہ میں نم جگہ اور پانی میں زیادہ متحرک رہتا ہے۔
سنجے گاندھی میڈیکل کالج، لکھنؤ کے مائیکرو بائیولوجی ڈپارٹمنٹ نے کورونا کی دوسری لہر کے بعد انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رہنمائی میں پانی میں کورونا وائرس کا پتہ لگانے کے لیے سیوریج سیمپل جٹائے ہیں۔ لکھنؤ میں تین جگہوں سے سیمپل لیے گئے۔ لکھنؤ میں ایسی تین جگہوں کو چنا گیا جہاں پورے محلے کا سیوریج ایک جگہ پر گرتا ہے۔ ان علاقوں میں پہلا رکپورکھدرا، دوسرا گھنٹہ گھر اور تیسرا مچھلی مہال کا ہے۔ لیب میںہوئی جانچ میں رکپور کھدرا کے سیوریج کے پانی میں وائرس پایا گیا ہے۔ حالانکہ ایسی جانچ ملک بھر میں ہو رہی ہے اور ممبئی میں بھی ایسا وائرس ملا ہے۔ 19جون کو احمدآباد کی سابرمتی میں بھی اس وائرس کے اجزا پائے گئے ہیں۔
فروری 2021 میں شائع ایک بین الاقوامی تحقیقی مقالہ صاف بتاتا ہے کہ یہ تو کووِڈ کی پہلی لہر میں بھی جھلکنے لگا تھا کہ آبی ذخائرکوروناوائرس کے خطرے سے اچھوتے نہیں ہیں۔ ’سارس-کووڈ-2: کورونا وائرس اِن واٹر اینڈ وِیسٹ واٹر: اے کریٹیکل ریویو اَبائوٹ پریزنس اینڈ کنسرن‘ میں بتایا گیا ہے کہ چین جہاں سے یہ مہلک وبا شروع ہوئی، ووہان کے پاس کے اسپتال -309 پی ایل اے اور شایو دینگ شان اسپتال کے سیور میں پچھلے سال ہی کووِڈ کے جینیٹک میٹریل مل چکے تھے اور تب سے ساری دنیا میں اس پر کام ہو رہا تھا۔ چین کا دعویٰ تھا کہ 20 ڈگری درجۂ حرارت پر یہ سیور میں دو دن اور 4 ڈگری پر 14 دن تک متحرک رہتا ہے۔ نیدر لینڈ میں بھی ایمسٹرڈم ، ڈین، ہیگ، یوتریخت سمیت 6 شہروں میں ایسی تحقیق ہوئی تھی اور وہاں ہوائی اڈے کے قریب کے سیوریج میں کورونا کے اجزا ملے تھے۔ اٹلی کی لامبرو ندی میں بھی یہ خطرہ دیکھا گیا تھا۔ یہ تحقیق کہتی ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے ایکواڈور کے کیوٹو شہر کی ندی میں اس کے اجزا ملے تھے۔ چونکہ اس شہر کے سیوریج کا نظام بے حد خستہ ہے، سارا گندہ پانی سیدھا ندی میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کے بعد پوری دنیا میں پانی کے ذرائع میں کورونا کی زندگی اور پانی کے ذریعہ سیدھے پیٹ کے راستے کووِڈ کے اندیشے پر تحقیق ہورہی ہے۔
یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ملک خاص کر بڑے شہروں کے اسپتالوں اور گھر پر ہی کوارنٹین میں رہ رہے لوگوں کے نہانے ، رفع حاجت وغیرہ میں استعمال ہونے والا پانی اسی نالی سے بہا جہاں سے عام پانی جاتا ہے۔ یہ زہریلا پانی کسی طرح مقامی آبی ذخائر میں مل رہا ہے، اس کے لیے دہلی کے ان اعداد و شمار پر غور کرناضروری ہے۔ دہلی میں اوسطاً ہر دن 3273 ملین لیٹر (ایم ایل ڈی) سیویج نکاسی ہوتی ہے جبکہ یہاں کل 2715 ایم ایل ڈی صلاحیت کے ریفائننگ پلانٹ لگائے گئے ہیں اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت صرف 2432 ایم ایل ڈی ہے۔ ظاہر ہے کہ تقریباً 800 ایم ایل ڈی بغیر ٹسٹ کیا ہوا پانی ندی، تالابوں میں مل رہا ہے او ران میں متاثر لوگوں کا فضلہ بھی ہے۔ پھر کووِڈ کی وجہ سے اسپتالوں سے نکلنے والے انفیکٹڈ کوڑے کی مقدار بہت بڑھ گئی ہے۔ کئی اسپتالوں میں ان کے نپٹارے کا انتظام نہیں ہے، کئی جگہ ایسا کچرا گھر کے عام کچروں کے ساتھ ڈھویا جاتا ہے اور یہ تلخ حقیقت ہے کہ زیادہ تر بڑے شہروں میں کوڑے کے ڈبے بھر گئے ہیں اور صفائی والے چوری چھپے یا تو کوڑے جلاتے ہیں یا پھر ویران پڑے آبی ذخائر میں دھکیل دیتے ہیں۔ تحقیق کے دوران متاثرہ بالغوں اور بغیر علامت کے کووِڈ سے متاثرہ بچوں کے فضلہ کی جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ کورونا وائرس انسان کی گیسٹرو اِنٹائٹس ٹریکٹ یعنی معدے کی نلی میں جگہ بنا چکا ہے۔ اس طرح کے فضلہ کا پانی میں گرنا یقینا خطرناک ہے۔ یہ بھی جانکاری ملی ہے کہ کم علامت والے یا زیادہ متاثرہ لوگوں کے ذریعہ لاپروائی سے پھینکے گئے ماسک اور ان کے اڑ کر پانی میں گرنے سے بھی آبی سطح پر وائرس کے رہنے کا اندیشہ رہتا ہے۔
اگر پانی میں کووِڈ خطرناک حالت میں مل گیا تو جان لیں، انسانیت کا وجود ہی خطرے میں آجائے گا۔ انسان کو نقصان پہنچانے کی طاقت رکھنے والا کورونا وائرس -229 ای، 23 ڈگری درجۂ حرارت پر 7 دن تک پانی میں متحرک رہتا ہے۔ آج لازم ہوگیا ہے کہ کووِڈ کے اسپتالوں کے فضلہ پر تحقیق اسپتال میں ہی کی جائے۔ یہی نہیں، ڈبلیو ایچ او نے متنبہ کیا ہے کہ پینے کے پانی کا موجودہ ٹسٹ کرنے کا طریقہ کورونا وائرس کا پتہ لگانے کے لیے ناکافی ہے۔ rvr