مشکل ہے کانگریس کی راہ

0

ملککی سب سے قدیم سیاسی جماعت کانگریس اس وقت مشکل دور سے گزر رہی ہے ۔ کہاں ریاست سے لے کر مرکز تک سب سے زیادہ حکومت کرنے والی پارٹی اس وقت صرف 2 ریاستوں راجستھان اورچھتیس گڑھ میں اپنے بل بوتے پر اقتدارمیں اور مہاراشٹر میں مخلوط حکومت میں شامل ہے ۔ فی الحال سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی حالت ویسی ہی ہے جیسے 24 سال پہلے 1998میں تھی۔جب انہوں نے پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی، اس وقت بھی کانگریس 3ہی ریاستوںمدھیہ پردیش ، اوڈیشہ اور میزورم میں اقتدارمیں تھی۔ ریاستوں میں پارٹی کی حالت خراب ہورہی ہے اورپارلیمنٹ میں اپوزیشن کا درجہ حاصل کرنا مشکل ہورہا ہے۔ بات صرف انتخابات میں ہارجیت اوراقتدارسے دوری کی نہیں ہے ، تنظیم میں اختلافات پیداہورہے ہیں ،قیادت پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں ، گروپ بندی ہورہی ہے ۔ پارٹی میں چنتن منتھن ،جی 23-کی میٹنگوں کا دور اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی ساتھ ساتھ چل رہی ہے ۔ بیان بازی پر قیادت کا کنٹرول نہیں، وہ تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ایسے میں کیسے کوئی کہہ سکتاہے کہ سارے مسائل حل ہوجائیں گے اورپارٹی جلدبحران سے نکل جائے گی ۔ جیساکہ عموماً ایسے حالات میں سینئر لیڈران تسلی دیتے رہتے ہیں ۔
دراصل سارے مسائل کی جڑپارٹی کی مسلسل ہار ہے ، جس کی وجہ سے لیڈران کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے ۔کئی لیڈران پارٹی چھوڑچکے ہیں اور جو بچے ہیں ، ان کو پارٹی میں برقرار رکھنا کسی چیلنج سے کم نہیں ۔کئی ریاستوں میں پارٹی جیتی،کبھی اقتدار کی دہلیز پر پہنچ کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی جیسے گوامیں سابقہ اسمبلی انتخابات میں سب نے دیکھا اورکبھی اقتدارمیں آکر باہر ہوگئی جیسے مدھیہ پردیش اورکرناٹک میں ہوا۔یعنی پارٹی کے ٹکٹ پر جیتنے والے لیڈران کی بھی گارنٹی نہیں رہتی ۔مرکزکی مودی سرکارمیں کانگریس کے لئے اقتدارحاصل کرنا کسی خواب سے کم نہیں ہے۔ 2004 میں جب پارٹی مرکزمیں اقتدارمیں آئی تھی تویکے بعد دیگرے ریاستوں میں کامیاب ہوتی چلی گئی۔ 2014میں 9ریاستوں میں حکومت میں تھی،لیکن گزشتہ 7برسوں میں صرف 5ریاستوں میں جیت حاصل ہوئی، ان میں 2016میں پڈوچیری، 2017 میں پنجاب اور2018میںراجستھان ، چھتیس گڑھ اورمدھیہ پردیش ہیں ۔ ان میں سے 3ریاستیں پڈوچیری ، مدھیہ پردیش اورپنجاب پارٹی کے ہاتھوں سے نکل چکی ہیں۔ مسلسل اس قدر ہار رہی ہے کہ شمار کرنا مشکل ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق مودی سرکار میں 40بارکانگریس کو ہارکا سامنا کرنا پڑا ۔ تمام بڑی ریاستوں میں پارٹی کیلئے وجود کا مسئلہ پیداہوگیاہے۔ایسے میں پارٹی پھر سے اپنی مقبولیت اورکھوئی ہوئی طاقت کیسے بحال کرسکتی ہے ؟سارے حربے پارٹی نے آزمالئے، پہلے سونیا گاندھی پھر راہل گاندھی کی قیادت میں الیکشن کاسامنا کیا اورحال ہی میں اترپردیش میں پرینکا گاندھی کی قیادت میں الیکشن لڑا جسے آخری امید کہہ سکتے ہیں، لیکن حالات میں بہتری نہیں آئی ۔ اب کس کرشمہ کی امیدپارٹی کرسکتی ہے ۔
کانگریس میں قیادت کا مسئلہ ہے ، عرصے سے تنظیمی انتخابات نہیں ہوئے ، عبوری صدر سے کام چلایاجارہا ہے، دوسرے حالیہ 5ریاستوں میںشکست سے اختلافات اور گہرے ہورہے ہیں ۔پارٹی قیادت حتی کہ گاندھی کنبہ کو نشانہ بنایاجارہا ہے ۔ بڑی بات یہ ہے کہ جس ناراض گروپ جی 23- کی تشکیل اگست 2020میں ہوئی تھی ۔وہ پارٹی میں رہ کر اسے مضبوط کرنے کی بات تو کرتاہے لیکن کوئی عمل یانظریہ پیش نہیں کرتا۔پارٹی قیادت ان لیڈران کو نہیں نکال رہی ہے ۔شاید اس کی بھی کوئی مجبوری ہوگی۔بہرحال گروپ کی میٹنگ پہ میٹنگ ہورہی ہے اوربیانات جاری ہورہے ہیں۔ حیرت ہے کہ ایک طرف کپل سبل نے کہا کہ گاندھی کنبہ کو پیچھے ہٹ جانا چاہئے جبکہ گروپ کے اہم لیڈر غلام نبی آزاد نے سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد کچھ اوربیان دیا، وہ یہ کہ ہم نے کبھی بھی سونیاگاندھی کی قیادت پر سوال نہیں اٹھایا، دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ دنوں مسٹر آزاد کی ڈنر پارٹی میں 8ناراض لیڈران ندارد تھے ،ایسالگتاہے کہ پارٹی کی طرح اس گروپ میں بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔بنیادی سوال یہی ہے کہ ہرلیڈرپارٹی کی بہتری اورمضبوطی چاہتاہے تو اختلافات اوردوری کیوں ؟ بڑے لیڈران کی سرگرمیوں سے چھوٹے لیڈران یا کارکنان میں مایوسی والا پیغام جارہاہے اوریہی مایوسی انتخابات میں پارٹی کونقصان پہنچارہی ہے ۔جب تک قیادت اورسینئر لیڈران آپس ہی میں الجھے رہیں گے ۔توزمین پر پارٹی کیلئے کام کون کرے گا ؟ پارٹی کے لیڈران کو ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر پارٹی کیلئے کام کرناہوگا ، تب ہی بہتری کی امید کی جاسکتی ہے ۔
[email protected]