مودی کے خلاف مضبوط اپوزیشن کی ضرورت

0
image:www.india.com

نئی دہلی (ایجنسیاں) :مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ اور ٹی ایم سی سربراہ ممتابنرجی نے ممبئی میں این سی پی چیف شردپوار سے ملاقات کی۔ دونوں کے درمیان شردپوار کے گھر سلوراوک اپارٹمنٹ میں تقریباً ایک گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد این سی پی سربراہ شردپوار نے کہاکہ مہاراشٹر اور مغربی بنگال کا پرانا رشتہ رہا ہے۔ پوار نے کہاکہ کل وزیراعلیٰ ممتابنرجی کی آدتیہ ٹھاکرے اور سنجے راوت سے ملاقات ہوئی ہے اور آج یہ ایک سیاسی تبادلہ خیال کیلئے یہاں آئی ہیں۔ انہوں نے بنگال میں ہوئی جیت کو لے کر اپنے تجربے کو ہم سے اشتراک کیا ہے۔ پوار نے مزید کہاکہ جو بھی بی جے پی کے خلاف ہیں، وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوکر بی جے پی کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اس دوران ممتابنرجی نے کہاکہ ہم بھگوان سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ اسپتال میں داخل اودھو ٹھاکرے جلد صحت یاب ہوجائیں۔ انہو ںنے کہاکہ بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط متبادل فورس بنانے جارہے ہیں۔ شرد پوار ایک سینئر رہنما ہیں اور میں ان کے ساتھ ایک سیاسی مسئلے پر تبادلہ خیال کیلئے یہاں آئی ہوں۔ ہم نریندر مودی کے خلاف ایک مضبوط اپوزیشن تیار کررہے ہیں۔ اس سے قبل ممتابنرجی نے ممبئی کے وائی بی چوہان ہال میں سول سوسائٹی کے لوگوں سے ملاقات کی۔ یہاں انہو ںنے کہاکہ اگر تمام علاقائی پارٹیاں ایک ساتھ آجائیں تو بی جے پی کو آسانی سے شکست دیا جاسکتا ہے۔ ممتا بنرجی نے راہل گاندھی کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی کچھ کرتا نہیں ہے اور وہ بیرون ملک میں رہے گا تو کیسے چلے گا۔ ممتاسے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ مرکزی سرکار کے خلاف اپوزیشن کا چہرہ بنیں گی تو انہوں نے کہاکہ وہ ایک چھوٹی ورکر ہیں اور ورکر کی طرح ہی کام کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو خود پر بھروسہ رکھتے ہیں، وہی سب کچھ کرپاتے ہیں۔ ممتابنرجی کی کانگریس سے دوری اور تیسرے مورچے کی آہٹ کے درمیان شرد پوار کے ساتھ ان کی ملاقات کے کئی سیاسی معانی نکالے جارہے ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آئندہ سال پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ گزشتہ روز ممتابنرجی اجیت ٹھاکرے اور سنجے راوت سے بھی ملی تھیں۔ اس ملاقات کے بعد اجیت ٹھاکرے نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ہم ان کا ممبئی میں استقبال کرتے ہیں اور اس دوستی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here