مرکزی اقلیتی وزارت کی اسکیم’’نیا سویرا‘‘ کی کرنوں سے مسلم طلبہ کی زندگی روشن

0

(ڈاکٹر شجاعت علی قادری)

’نیا سویرا‘ اسکیم سے اقلیتی طبقہ خصوصاً مسلمانوں کی تعلیمی سطح میں کافی بہتری آرہی ہے اور وہ ملازمت اور داخلے کے لیے ہونے والے مسابقتی امتحانات (انٹرنس) میں نکھر کر سامنے آ رہے ہیں ۔ اس اسکیم کا مقصد اقلیتی برادری کے طلبہ کو بااختیار بنانا اور انھیں مسابقتی امتحانات کے لیے تیار کرنا ہے تاکہ سرکاری اور نجی ملازمتوں میں ان کی شراکت داری میں بہتری ہو۔ یہ اسکیم منتخب کوچنگ اداروں میں نوٹیفائیڈ اقلیتی طلبہ کو مفت کوچنگ کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہے۔

اس اسکیم کے تحت حکومت اقلیتوں کو بااختیار بنانا چاہتی ہے، جو معاشرے کے نسبتاً پسماندہ طبقے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے کام کرنے والے اداروں کی مدد کرکے، انھیں صنعتوں، خدمات (سروسز) اور کاروباری شعبوں میں روزگار کے قابل بنانے کے لیے ان کی استعداد ، صلاحیت،ہنر اور مہارت کو فروغ دینے کی سمت میں تعاون کرتی ہے۔

حکومت ہند چاہتی ہے کہ مسلسل بنیاد پر طلبہ میں بازار کے تقاضوں (سرگرمیوں) کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے ضروری لچک پیدا ہو تاکہ گھریلو اور عالمی سطح پر روزگار کے مواقع اور بدلتی اور ابھرتی بازار کی ضرورتوں اور روزگار کے مواقع کی مانگ کے حساب سے نوجوان خود کو تیار کر سکیں۔

منتخب کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے پاس تین سال کا تجربہ اور کم از کم 100 طلبہ کا داخلہ (اِنرولمنٹ) ہونا چاہیے۔ یہ ریکارڈ ، اسکیم میں درخواست کے وقت ہونا چاہیے۔ پچھلے تین مالی سالوں میں 1,96,81,133 اسکالرشپس (پری میٹرک، پوسٹ میٹرک، میرٹ کم مینس پر مبنی اسکالرشپ اسکیم اور بیگم حضرت محل نیشنل اسکالرشپ اسکیم) کو منظوری دی گئی اور نیا سویرا اسکیم کے تحت 30,117 امیدوار مستفید ہوئے۔

گذشتہ تین سالوں اور رواں سال کے دوران اسکالرشپ اسکیم، مفت کوچنگ اور اس سے منسلک اسکیم کے تحت مستفید ہونے والے اقلیتی طبقے کے طلبہ کی ریاست وار تفصیلات پر نظر ڈالیں تو کافی دلچسپ اعداد و شمار ابھر کر سامنے آتے ہیں۔

مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش کے 9040 طلبہ مستفید ہوئے ہیں۔ کرناٹک کے 2899، مہاراشٹر کے 2880، مغربی بنگال کے 2380، مدھیہ پردیش کے2260، آندھرا پردیش کے 1700، گجرات کے 1550، کیرالاکے 1230، راجستھان کے 1150، پنجاب کے 1000، ہریانہ کے 950، چھتیس گڑھ اور تمل ناڈو کے 400، دہلی کے 378، جھارکھنڈ کے 360، منی پور کے 350، چنڈی گڑھ کے 340، میگھالیہ کے 300، بہار ، جموں و کشمیر کے 200 اور آسام کے 150 طلبہ مستفید ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ رقم بھی اترپردیش کے طلبہ کو ملی جو 26 لاکھ روپیے سے زیادہ ہے جبکہ اس کے بعد مہاراشٹر میں 23 لاکھ روپیے سے زیادہ کا وظیفہ تقسیم کیا گیا۔

’نیا سویرا‘ اسکیم سے وابستہ ہونے کے لیے اداروں کے پاس اپنے پے رول یا جزوقتی (پارٹ ٹائم) بنیادوں پر اہل فیکلٹی ممبر ہونے چاہیئیں، ساتھ ہی درخواست شدہ کورسز میں کوچنگ کلاسز چلانے کے لیے اداروں کے پاس کیمپس، لائبریری، مطلوبہ آلات وغیرہ جیسے ضروری ڈھانچے (انفراسٹرکچر) ہونے چاہئیں۔

طلبہ کے مفاد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پر عزم ہے، اسی لیے ’نیا سویرا‘ اسکیم میں انہی کوچنگ اداروں کو درخواست کے قابل مانا جاتا ہے جو کم از کم 15 فیصد کامیابی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ان کی گذشتہ کارکردگی کے ساتھ ساتھ شرحِ کامیابی کو دھیان میں رکھا جاتا ہے۔

وزارت نے مالی سال 2017-18 کے دوران ریاست تمل ناڈو سمیت ملک بھر میں 130 پی آئی اے کو فہرست بند کیا تھا۔ اہل طالب علم اس اسکیم کے تحت پینل میں شامل کسی بھی پی آئی اے سے اسکیم کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی علاقے میں واقع ہو۔ رواں مالی سال 2021-22 کے دوران نیا سویرا اسکیم کے تحت 5140 اقلیتی طلبہ کو مفت کوچنگ فراہم کرنے کے لیے 37 پی آئی اے کو الاٹمنٹ دیا گیا ہے۔

لوک سبھا میں ایک اَن اِسٹارڈ (غیر ستارہ والے) سوال کے جواب میں، اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے 03 فروری 2022 کو ایوان کو بتایا تھا کہ ’نیا سویرا‘ اسکیم تمام درج شدہ اقلیتی طلبہ کے لیے ہے۔ اس کے تحت گروپ ’اے‘، ’بی‘ اور ’سی‘ سروس اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے ہے۔ حکومت کا مقصد پبلک سروس کمیشن، ریلوے، بینک، انشورنس اور ریکروٹمنٹ(بھرتی) بورڈ کے امتحانات کے ذریعے ملازمت کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کو اس اسکیم کا فائدہ دینا ہے۔

داخلے کی تیاری کرنے والے طلبہ بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ میڈیکل، انجینئرنگ سمیت کئی پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ بھی ’نیا سویرا‘ اسکیم سے مستفید ہو رہے ہیں۔مرکزی وزیر نے بتایا تھا کہ طلبہ کسی بھی پینل پی آئی اے کے ذریعے کوچنگ انسٹی ٹیوٹسے کوچنگ لے کر اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کوئی بھی این جی او‘ اس میں درخواست کر سکتی ہے۔

واضح ہو کہ درخواست دینے والے اداروں کے لیے کم از کم اہلیت، مذکورہ بالا سطور میں مندرج ہے۔

’نیا سویرا‘ ایک نئی کرن کا پیغام ہے۔اس اسکیم سے بالخصوص مسلم نوجوان، امید کی نئی کرن کے ساتھ اسکیم کی کامیابی کی کہانی آپ کہہ رہے ہیں۔

(مضمون نگار ، آزاد صحافی اور مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا (ایم ایس او) کے چیئرمین ہیں۔)

ترجمہ : @MobeenJamei