آبادی کے تناسب پر مذہب کی عینک

0

محمد حنیف خان

دنیا کا ایک بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے، بیسویں صدی کے وسط سے اس میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ 1950 سے 2020 کے درمیان دنیا کی آبادی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ 1965 سے 1979 کے درمیان سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔اس درمیان اوسطاً 2.1کی شرح سے آبادی میں اضافہ ہوا، 2000 سے 2020 کے مابین 1.2 فیصد سالانہ اضافہ ہوا جس میں افریقہ کے 33 ممالک اور ایشیا کے 12 ممالک کا سب سے زیادہ حصہ تھا۔ اقوام متحدہ کی ذیلی یونٹ یونائٹیڈ نیشنس پاپولیشن فنڈ(یواین پی ایف) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق نومبر 2022 کے وسط تک دنیا کی آبادی آٹھ ارب تک پہنچ جائے گی۔ اس اندازے کے مطابق 2030 تک آبادی 8.5 بلین اور 2050 تک 9.7 بلین ہو جائے گی۔ 2080 تک تقریباً 10.4 بلین کی چوٹی تک پہنچنے کا امکان ہے۔دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی میں ہندوستان کی آبادی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتاہے، اس وقت آبادی کے اعتبار سے یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔لیکن اسی رپورٹ کے مطابق 2023 میں یہ پہلے مقام پر پہنچ جائے گا۔اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر آبادی کے گھٹنے یا بڑھنے کے نقصانات اور فوائد کیا ہیں؟ جس کی وجہ سے اس رپورٹ کے آنے کے بعد بحث شروع ہوگئی ہے۔متعدد ممالک میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے قوانین بنائے گئے اور نافذ کیے گئے مگر اس سے ان کو کیا ملا یہ ایک بڑا سوال ہے۔
آبادی کا مسئلہ نہ کسی ایک قوم سے وابستہ ہے، نہ ذات و مذہب سے، اس کے باوجود ہندوستان پہنچ کر ہر مسئلہ مذہب کا رخ اختیار کرلیتاہے۔عالمی یوم آبادی کے موقع پر پورے ملک سمیت اترپردیش میں بیداری کے پروگرام ہوئے جو ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے، ایک پروگرام میں یہاں کے و زیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے آبادی میں اضافہ کو ایک خاص طبقے سے جوڑ دیا، چونکہ وہ وزیراعلیٰ ہیں اس لیے ان کی اشاروں اور کنایوں میں کہی گئی بات کے بھی بہت سے معانی ہوتے ہیں، ان کی سیاست کی بنیاد ابتدا سے ہی ہندو مسلم تعصب اور فرقہ واریت پر رہی ہے، ان کے چاہنے والے انہیں صرف اس لیے چاہتے ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے ہیں، قول و فعل ہر سطح پر انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اکثریت کے طرفدار ہیں۔ انہوں نے آبادی کے ضمن میں اس پروگرام میں کہا کہ آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کامیاب رہیں لیکن اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ کہیں بھی آبادیاتی عدم توازن کی صورتحال نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی ایک طبقے کی آبادی میں اضافے کی شرح زیادہ ہو اور جو مقامی لوگ ہیں، آبادی کے استحکام کی کوششیں ان کی آبادی کو کنٹرول کرکے آبادی میں عدم توازن پیدا کر دیں۔ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں اور مخالفوں کا ایک جم غفیر آگیا اور بے سرو پیر کی باتیں شروع ہوگئیں۔سوشل میڈیا پر حکومت کے متشدد حامیوں نے ایک خاص طبقے کو نشانہ بنانا اور دھمکی دینا شروع کردیا کہ اب دیکھنا کیا ہوتا ہے۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ خود وزیراعلیٰ کا جو اشارہ تھا وہ بے بنیاد ہے، نہ تو کسی طرح کے ہوم ورک پر مبنی ہے اور نہ ہی اس کے پس پشت حقائق ہیں۔یہ خوف اور خوش کرنے کی سیاست ہے اور اسی سیاست کا ایک حصہ ہے۔ایک طرف اکثریتی طبقے کو وہ خوش کرنا چاہتے ہیں اور یہ دکھانا چاہتے ہیں ہر قدم پر ہمیں اکثریتوں کی بھلائی کا خیال ہے تو دوسری طرف یہ جتانا چاہتے ہیں کہ کسی بھی موقع پر ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔ انہوں نے اپنے اس تبصرے سے یہ اشارہ کیا ہے کہ مسلمان یہاں کی آبادی میں اضافہ کا ایک بڑا سبب ہیں، گھما پھرا کر جو بات وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہی ہے وہ پہلی بار نہیں کہی گئی ہے، ہمیشہ آبادی میں اضافہ کے لیے مسلمانوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا گیاہے جس کے لیے وہ سماجی صورتحال کو بنیاد بنانے کے بجائے عائلی قوانین کا سہارا لیتے رہے ہیں کہ مسلمانوں میں تعدد ازدواج کو قانونی حیثیت حاصل ہے جس کالازمی نتیجہ بچوں کی کثرت ہے۔ ایسے لوگوں نے ہمیشہ زمینی حقیقت سے آنکھیں چرائی ہیں جبکہ مناسب تو یہ تھا کہ زمینی حقیقت کو بنیاد بنا کر کوئی بات کہی جاتی۔
ابھی چند ماہ قبل ملک کے ایک اہم میڈیا گروپ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں اس نے صاف صاف بتایا تھا کہ ہندوؤں کے مقابلے مسلمانوں کی شرح پیدائش میں بہت کمی آچکی ہے۔ہندوستان میں1991 سے 2001 اور پھر 2001 سے 2011 کے درمیان مسلمانوں کی آبادی ہندوؤں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھی لیکن گزشتہ دس برسوں میں مسلمانوں کی شرح نمو(پیدائش) ہندوؤں کے مقابلے زیادہ تیزی سے کم ہوئی ہے۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق تمام بڑے ممالک میں مذہبی برادریوں، ہندوؤں نے ان دو دہائیوں کے دوران آبادی میں اضافے میں سب سے کم کمی کا تجربہ کیا ہے، جب کہ چھوٹی برادریوں جیسے جین اور بدھ مت کے ماننے والوں میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ہندو آبادی کی شرح نمو 19.9 فیصد سے 3.1 فیصد کم ہوکر 16.8 فیصد ہوگئی۔ یہ واحد بڑی کمیونٹی ہے جس کی آبادی میں کمی قومی اوسط سے کم رہی ہے۔مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی شرح 4.7 فیصد پوائنٹس کی کمی سے 29.3 فیصد سے 24.6 فیصد رہ گئی جبکہ عیسائی، سکھ، بدھ اور جین آبادی میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ مرکزی حکومت کے اعداد و شمار یہی بتاتے ہیں کہ گزشتہ تیس برس میں ہر طبقے میں شرح پیدائش میں کمی آئی ہے اور فیملی پلاننگ میں مسلم خواتین ہندو خواتین سے آگے ہیں، 1992-93 میں پہلا نیشنل فیملی ہیلتھ سروے(این ایف ایچ ایس) ہوا تھا۔ اس وقت ہندو خواتین میں فرٹیلٹی ریٹ(شرح نمو) 3.3 تھا جبکہ مسلم خواتین میں یہی تناسب 4.4 تھا۔یعنی اپنی پوری زندگی میں دونوں تین اور چار بچے پیدا کر رہی تھیں۔ لیکن گزشتہ تیس برس کے مقابلے اب اس وقت مسلم خواتین کے فرٹیلٹی ریٹ میں 47 فیصد کی کمی آگئی ہے جبکہ ہندو خواتین میں یہ کمی 42 فیصد ہی آئی ہے۔
ملک میں آبادی کے تناسب کو مذہب سے جوڑ کر دیکھا جاتاہے لیکن یہ بالکل غلط روایت ہے، اس کی اصل بنیاد معاشی کمزوری اور تعلیم کے فقدان میں ہے۔مذکورہ رپورٹ میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ آبادی میں اضافہ کا سب سے چھوٹا سبب مذہب ہے جس کو سب سے بڑے سبب کے طور پر پیش کیا جاتاہے۔چونکہ آبادی میں اضافے کو جب مذہب سے جوڑ دیا جاتاہے تو حکمراں طبقہ اور منتظمہ اپنی ذمہ داریوں، ناکامیوں اور بداعمالیوں کے احتساب سے بچ جاتے ہیں، ان کو معلوم ہے کہ یہ ایک ایسا سبب ہے جس کے سامنے آنے کے بعد کوئی اصل اسباب کی جانب توجہ نہیں کرے گا۔منتظمہ اس کے پیچھے خود کو چھپالیتی ہے جبکہ حکمراں طبقہ اس سے اپنی سیاست کو چمکا لیتاہے۔کیونکہ اس کو بھی معلوم ہے کہ جب تک اکثریتی طبقہ کے ذہن میں یہ پیوست نہیں کیا جائے گا کہ ملک کے وسائل پر دوسرے لوگ قبضہ کر رہے ہیں یا ان کی وجہ سے بنیادی سہولیات پہنچانے میں دشواری ہوتی ہے، اس وقت تک ان میں نفرت نہیں پیدا ہوگی اور اگر نفرت نہیں پیدا ہوئی تو پولرائزیشن ناممکن ہوجائے گا۔اسی لیے ایک طبقے کے سر پر اس طرح کے الزامات تھوپ دیے جاتے ہیں۔
اترپردیش لاء کمیشن نے آبادی سے متعلق قانون کا ڈرافٹ بھی تیار کرلیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اترپردیش آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی کی جانب مستحکم قدم بڑھا چکی ہے،لیکن حکومت اترپردیش کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آبادی میں کنٹرول سے کہیں زیادہ وسائل کی فراہمی، روزگار کے مواقع اور بنیادی ضروریات تک رسائی اہم ہے۔آبادی کے کنٹرول کے سب سے بڑے حامی دو ملک چین اور ایران رہے ہیں، ان دونوں ممالک کو وقت گزرنے کے ساتھ اپنی غلطیوں کا احساس ہوا اور اپنی پالیسی کو تبدیل کردیا ہے۔یہ ایسے فیصلے ہوتے ہیں جس کے نتائج فوری سامنے آنے کے بجائے کم از کم تین سے چار دہائی کا عرصہ لگتاہے لیکن جب تک نتائج آتے ہیں بہت تاخیر ہوچکی ہوتی ہے۔ اس لیے حکومت اترپردیش کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس کے ہر پہلو پر غور ضرور کرلے کہیں ایسا نہ ہو کہ خاص ووٹروں کو خوش کرنے کے چکر میں پہلے ریاست اترپردیش اور پھر ملک ہی نوجوانوں کا ملک سے بوڑھوں کے ملک میں تبدیل ہوجائے اور پھر چین کی طرح بچوں کی پیدائش پر اعزاز و اکرام کا اعلان کرنا پڑے۔
[email protected]