جنوبی ایشیا میں محبت و رواداری کی نئی تاریخ لکھنا وقت کی ضرورت

0

عبدالماجد نظامی

انقلابی شاعری میں فیض احمد فیضؔ کو جو مقام حاصل ہے وہ شاید ہی کسی دوسرے شاعر کو نصیب ہوا ہو۔ ان کی انقلابی نظم ’’ہم دیکھیں گے‘‘ تو مانو محنت کش مزدوروں اور اشتراکی نظریہ سے مطابقت رکھنے والے طالب علموں، ادیبوں اور نوعمر انقلابیوں کے لیے تعویذ کی حیثیت رکھتی ہو۔ اس نظم میں استعمال ہونے والی ترکیب، تشبیہات و استعارے اس قدر موثر ہیں کہ پڑھنے والا اور سننے والا دونوں ہی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ فیض احمد فیضؔ کی شاعری میں یہ انقلابیت اس لیے رچ بس گئی تھی کیونکہ وہ ایسے دور اور عہد میں پیدا ہوئے تھے جب اشتراکیت کا نشہ سر چڑھ کر بولتا تھا۔ ان کی زندگی کا ایک عجیب اتفاق ہے کہ روس کے کمیونسٹ انقلاب سے صرف چھ برس قبل ان کی پیدائش ہوئی تھی اور سوویت یونین کے زوال میں بھی صرف چھ برس ہی باقی تھے جب ان کا انتقال ہوگیا۔ اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اشتراکیت کے نظریہ کو جب بال و پر لگنے والے تھے تب انہوں نے آنکھیں کھولیں اور اس نظریہ پر مبنی طرز حکومت کو زوال کے چند برس ہی باقی تھے کہ فیض احمد فیضؔ اس دنیا سے چل بسے۔ لیکن جانے سے پہلے انہوں نے غریب، مزدور اور بے کس طبقوں کے جذبات کی ترجمانی پوری قوت و تاثیر کے ساتھ کی۔ انقلابی شاعری کے معاملہ میں کسی درجہ میں ان کا ہم پلہ حبیب جالبؔ کو قرار دیا جا سکتا ہے جنہوں نے جمہوریت کی بحالی، سماجی برابری اور مظلوموں کی دستگیری جیسے مضامین کو اپنے کلام میں پوری شدت کے ساتھ پیش کیا اور کبھی اپنی فکر سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آج میں اپنے قارئین کو فیض احمد فیضؔ اور حبیب جالبؔ جیسے انقلابی شاعروں کی باتیں کیوں بتا رہا ہوں؟ کیا انہوں نے دنیا بھر کے ستائے ہوئے محنت کشوں کے لیے جس مستقبل کا خواب دیکھا تھا وہ پورا ہوا؟ کیا سماجی عدم مساوات، سیاسی بحران اور اقتصادی مسائل کا وہ دور ختم ہوگیا جس میں انسان عزت اور سکون سے دو وقت کی روٹی اور باوقار زندگی کے لیے دو گز کا آشیانہ حاصل کرنے میں بھی کوتاہ ثابت ہوتا تھا اور دقتوں اور پریشانیوں کی مسلسل چوٹ سے چکناچور ہوکر زندگی سے شکست کھا جاتا تھا؟ اگر ہم سری لنکا میں جاری حالات پر نظر دوڑائیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف وہ دور ختم نہیں ہوا بلکہ اپنی تمام تر آزمائشوں کے ساتھ زیادہ شدت سے سامنے آگیا ہے۔ عوام کی اکثریت نے اپنی قیادت سے ہمیشہ بس اتنی سی امید قائم کی تھی کہ اسے ایسا سماج اور معاشرہ مہیا کرایا جائے جس میں انسان خوشی اور اطمینان کے سایہ میں اپنے مسائل کا حل ڈھونڈ پائے اور اس کی جائز تمناؤں کو پروان چڑھنے کا موقع مل سکے۔ عوام کی یہ تمنائیں کچھ زیادہ نہیں تھیں۔ ان میں بس روزگار کے مواقع، تعلیم وصحت کے وسائل اور اتحاد باہم کی فضا جیسی چھوٹی چھوٹی لیکن معقول آرزوئیں تھیں۔ لیکن ان آرزوؤں کو پورا کرنے کی جو ذمہ داری عوام نے قیادت کے سپرد کی تھی، اس میں وہ بری طرح ناکام ہوگئی۔ سب سے پہلے اقتصادی استحکام اور روزگار کے دروازے بند کیے گئے پھر سیاسی بحران کا راستہ تیار کیا گیا اور اس کے بعد انارکی کا ماحول پیدا ہوگیا۔ دیکھتے دیکھتے ایک ایسا ملک افلاس و بے بسی کی آغوش میں چلا گیا جس کی اقتصادی حالت جنوبی ایشیا میں نسبتاً سب سے بہتر تھی۔ جہاں بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ جمہوریت جڑ پکڑ چکی ہے اور جمہوری ادارے اپنی ذمہ داریاں مناسب ڈھنگ سے ادا کر رہے ہیں۔ البتہ اس حقیقت کی طرف خود سری لنکا کے عوام کی نظر نہیں جا رہی تھی کہ انہوں نے اپنے سماج میں نفرت اور باہمی انتشار کا وہ بیج ڈال دیا ہے جس کو تناور درخت بننے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ انہوں نے زبان اور مذہب کی بنیاد پر اپنے ملک اور سماج کو بانٹنا شروع کر دیا تھا۔ اقلیتوں کے سامنے مشکل حالات پیدا کر دیے تھے اور سب سے بڑی غلطی یہ کی تھی کہ انہوں نے ایسے شخص کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور تھما دی تھی جس کے ہاتھ اپنے ہی لوگوں کے خون سے رنگین تھے۔ گوٹابایا راج پکشے وہی فوجی جنرل ہے جس نے بڑی بے دردی سے نہ صرف تمل باغیوں کو ختم کر دیا تھا بلکہ ایل ٹی ٹی ای کے ساتھ ہمدردی جیسے الزام میں سری لنکا کے ہزاروں تمل باشندوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور بے شمار معصوموں کو اجتماعی طور پر زمین میں دفن کر دیا تھا۔ ان کی تعداد کیا تھی یا انہیں کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا تھا، آج تک اس کا پتہ نہیں چلا۔ تمل مسئلہ کو جنگ کے بجائے گفتگو اور بات چیت کے ذریعہ بھی حل کیا جا سکتا تھا اور تمل باشندوں کے جائز مطالبوں کو مان کر انہیں سری لنکا میں آزادی اور مساوات کے ساتھ جینے کا حق دیا جا سکتا تھا لیکن اس کے بجائے جنگ کی بے رحم مشینوں کے ہاتھوں اس مسئلہ کو حل کیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ معاشرہ آج تک کسی ایسے رحم دل اور انسانیت نواز لیڈر کا منتظر ہے جو اس کے گہرے زخموں کو مرہم عطا کرے اور ملکی سطح پر اخوت و بھائی چارہ کا ماحول قائم کرے تاکہ وہ انارکی کی فضا سے نکل کر انسانی رواداری کے دائرہ میں داخل ہوسکے۔ اس کے برعکس سری لنکا کا معاشرہ روز بروز گوناگوں مشکلات و مسائل سے دوچار ہوتا جا رہا ہے۔ وہی صدر جسے اس کی قوم نے اپنے سر کا تاج بنایا تھا آج اپنے ہی لوگوں کو مصائب میں الجھا چھوڑ کر ملک سے راہ فرار اختیار کر چکا ہے۔ عوام نے اس کے ایوان صدر کو تاراج کر دیا ہے اور جن آرام دہ کمروں اور نرم و گداز گدوں اور کرسیوں پر گوٹابایا اور اس کے ہم نوا بیٹھ کر داد عیش دیا کرتے تھے، ان کو غصہ و بے بسی میں ڈوبے سری لنکا کے عوام نے اپنے پاؤں تلے روند دیا ہے۔ وسائل زندگی سے محروم لوگ نہ آفس جا پا رہے ہیں اور نہ ہی تعلیم اور روزگار کے مواقع مہیا ہیں۔ خورد و نوش کی اشیاء تک انہیں میسر نہیں ہیں جب کہ دنیا کا کوئی ملک ان کی مدد کے لیے آ گے نہیں آرہا ہے۔ ہندوستان نے پڑوسی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے اب تک 3.8 ارب ڈالر کی مدد سری لنکا کے عوام کو مہیا کی ہے اور مزید تعاون پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان نے بڑی احتیاط اور عقل مندی کے ساتھ سری لنکا کے معاملہ پر اپنا ہر قدم بڑھایا ہے۔ ہندوستان اب وہ غلطیاں نہیں دہرانا چاہتا جن کی بہت بڑی قیمت نوے کی دہائی میں وہ پیش کر چکا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پڑوسی ہونے کے ناطے اپنی اخلاقی ذمہ داری سے بھی پہلو تہی نہیں کر رہا ہے۔ ان سب موزوں اقدامات کے باوجود سری لنکا کے مسائل کا حل خود وہاں کے عوام اور لیڈران کو ڈھونڈنا ہوگا۔ البتہ سری لنکا کے افلاس و انارکی میں دنیا بھر کے ممالک کے لیے یہ سبق موجود ہے کہ ان کی قیادتوں کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ جنگ کے بجائے امن و آشتی اور ڈائیلاگ کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کریں اور سماج کو رنگ و نسل اور مذہب و ثقافت کی بنیاد پر تقسیم کرنے سے باز رہیں۔ جنگ کی ہولناکی کو سمجھنے کا یہ سب سے بہترین موقع ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت امریکہ و یوروپ کے تعاون کے باوجود یوکرین کے عوام جنگ کی ہولناکیوں کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کے مسائل سلجھنے کے بجائے الجھ رہے ہیں اور مستقبل کا کچھ پتہ نہیں کہ کس انجام تک ملک پہنچے گا۔ ہمارا دوسرا پڑوسی ملک پاکستان بھی سری لنکا کی راہ پر گامزن ہے۔ وہاں بھی اس بات کا خطرہ منڈلا رہا ہے کہ کہیں اقتصادی بحران کے اسی مرحلہ تک یہ ملک بھی نہ پہنچ جائے جہاں سری لنکا پہنچ چکا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندوستان پر بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اب یہ ذمہ داری جنوبی ایشیا کے قائدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس پورے خطہ کو مشترک تہذیبی بنیادوں پر مربوط کریں اور عوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دیں تاکہ خیر سگالی کی فضا قائم ہو اور اقتصادی و ثقافتی ترقی و عروج کی راہیں ہموار ہوسکیں۔ یہ خطہ قطعاً اس بات کا متحمل نہیں ہے کہ اس کو مزید بے بنیاد ڈھنگ سے الگ الگ خانوں میں تقسیم کیا جائے اور انہیں ہر وقت ایک دوسرے سے بر سرپیکار رکھا جائے۔ ہماری تاریخ زخموں سے چور اور لہو کے قطروں سے پر ہے۔ اب اس میں الفت و ہمدردی کا رنگ بھرنا ضروری ہے۔ اس دور کا تقاضہ یہ ہے کہ شیر کے دانت زیادہ نوکیلے اور ان کا لُک خوفناک نہ ہو بلکہ انہیں درندگی کے اوصاف سے عاری کرکے محبت و رواداری جیسے کائناتی خصائل سے مزین کیا جائے۔
(مضمون نگار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS