ملک سے غداری کا قانون

0

عدالت عظمیٰ نے ایک بار پھر ’ ملک سے غداری‘ کے قانون پر سوال اٹھایا ہے ۔ عدالت نے اس قانون کے غلط استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے پوچھا ہے کہ نوآبادیاتی دورسے چلے آرہے اس قانون کی اب کیا ضرورت باقی رہ گئی ہے؟ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ اور کئی ایک ہائی کورٹ بھی اس قانون کے حوالے سے حکومت کی سرزنش کرچکے ہیں لیکن حکومت نے نہ صرف اس پر کوئی توجہ دی بلکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس قا نون کاظالمانہ استعما ل بھی بہت زیادہ کیا گیا ہے۔ حکومت کے کام کاج اور اس کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف اس قانون کا بے دردی سے استعمال کیاجارہاہے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 124 (الف )کے تحت ملک سے غداری کے سیکڑوں مقدمات درج ہوئے ہیں ۔
ہندوستانی فوج کے سبکدوش میجر جنرل این جی وومبٹکیرکی جانب سے دفعہ 124(الف) کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کے دوران ایک بار پھر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے سوال کیا ہے کہ آخر اسے ہٹایا کیوں نہیں جارہا ہے؟ عدالت نے کہا کہ یہ قانون حکومت کو بغیر جوابدہی کے بہت زیادہ قوت و اختیار دیتا ہے اور اس کا زیاد ہ تر غلط استعمال کیا جارہا ہے ۔چیف جسٹس این وی رمنا کی 3 ججوں والی بنچ کا کہنا ہے کہ یہ ایسا ہی ہے کہ کسی بڑھئی کو لکڑی کاٹنے کیلئے کلہاڑی دی گئی ہو اور وہ اس کا استعمال پورے جنگل کو کاٹنے کیلئے کررہا ہو۔ جب انگریزوں نے اب سے ڈیڑھ سو سال پہلے تعزیرات ہند میں 124 (الف) شامل کیاتھا تو اس کا مقصد یہ تھا کہ کروڑوں ہندوستانیوں کو انگریزی حکومت کے جبر کے خلاف آواز اٹھانے سے روکا جائے۔ اسی قانون کے ذریعہ آزادی کی تحریک کو دبانے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن کیا آزادی کے 75 سال بعد بھی اس قانو ن کو ہم سینے سے لگائیںاور آئین کی کتاب کی زینت بنائے رکھیں؟اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت کو حکم بھی دیا کہ وہ میجر جنرل این جی وومبٹکیر کی عرضی پر اپنا موقف پیش کرے۔عرضی گزار کا کہنا ہے کہ یہ قانون124(الف) اظہار رائے کی آزادی کے برخلاف ہے اور حکومت اپنے ناقدین کی زبان بندی کیلئے اس کا بے رحمانہ استعمال کررہی ہے، اس لیے اسے ختم کردیا جانا چاہیے۔
آئین کی دفعہ19ملک کے ہر شہری کو بالواسطہ یا بلا واسطہ، زبانی یا تحریری، اشارے کنایے میں یا کسی بھی طرح سے آزادانہ طور پر اپنے خیالات، آرا اور عقائد کا اظہار کرنے کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔ سپریم کورٹ کا بھی یہی کہنا ہے کہ حکومت کی تنقید یا پھر انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال کرنا کسی بھی حال میں ملک سے غداری کا سزاوار نہیں ہو سکتا ہے ۔غداری کا معاملہ اسی وقت ہوگا جب کسی کے بیان یا عمل سے تشدد پھیلانے کا ارادہ ظاہر کیاگیاہو۔تاہم عدالت میں حکومت کی جانب سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل نے غداری قانون کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا غلط استعمال روکنے کیلئے کچھ ہدایات دی جاسکتی ہیں لیکن اس کا ختم کیاجانا ضروری نہیںہے، مگر عدالت مطمئن نہیں ہوئی۔عدالت کے رویہ سے بھی یہ بات صاف ظاہر ہورہی ہے کہ آزاد ہندستا ن میں اس قانون کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک عدالت نے اس قانون کے استعمال کی حدود بھی مقرر کردی تھیں لیکن حکومتوں نے ان حدود کی پابندی نہیں کی۔ گزشتہ 75برسوں کے دوران درجنوں حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن کسی نے بھی اس قانون کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ حیرت کی با ت یہ بھی ہے کہ اس قانون کے حوالے سے حکومتیں ہمیشہ پارٹی لائن سے اوپر ہی رہی ہیں۔ یوپی اے کی منمو ہن حکومت نے بھی اس کی کوئی پابندی نہیں کی تھی اور اب تو اس کا بے دریغ استعمال ریکارڈ توڑ رہاہے ۔یو پی اے حکومت کے آخری برسوں میں دفعہ 124 الف کے تحت درج ہونے والے معاملات کا سالانہ اوسط 62تھا جو این ڈی اے کی حکومت میں79.8ہوگیا ہے ۔ 2010سے 2020 تک دس برسوں میں ملک سے غداری کے 860مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں سے زیادہ ترمقدمات2014کے بعد مودی دور میں حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں، ادیبوں اور سماجی کارکنوں پر درج ہوئے ہیں ۔
دراصل یہ قانون غلط کاریوں پر انگشت نمائی کرنے والوں کے خلاف حکومتوںکے پاس ایک ہتھیار کی طرح ہے اورجب جہاں جی میںآتا ہے حکومتیں اس کا استعمال کرلیتی ہیں ۔ہر چند کہ وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ یہ قانون اب پرانے ہوچکے ہیں اور ان کے تحت قائم کیے جانے والے مقدمے کسی بھی اعلیٰ عدالت کی ایک سماعت کا بار بھی نہیں اٹھاسکتے ہیں لیکن دشمنوں اور ناقدین کو دبائو میں رکھنے کیلئے یہ بے خطا ہتھیارکسی بھی طرح و ہ چھوڑنا نہیں چاہتی ہیں۔لیکن ا ب وقت آگیا ہے کہ اس جمہوریت مخالفت قانون کے غلط استعمال کو روکاہی نہیں جائے بلکہ اسے قانون کی کتاب سے خارج بھی کردیاجائے۔ تمام سنگین جرائم یہاں تک کہ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان میں قانون موجود ہے تو پھر نوآبادیاتی دور کے اس قانون کو حرزجاں بنائے رکھنے کی کیا ضرورت ہے ۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here